امت سیّدِ لولاک سے خوف آتا ہے
آج دو ویڈیوز دیکھی ہیں۔ ایک میں انسان انسانوں کو مار رہے ہیں اور دوسری میں بھی انسان انسانوں کو مار رہے ہیں۔ صرف کردار تبدیل ہوئے ہیں وردی اور داڑھی والوں کے لیکن ہمیں تو دونوں طرف بے دردی کا شکار ہوتے مجبور و مظلوم انسان ہی نظر آ رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی آپس میں کوئی دشمنی نہیں، کبھی ایک دوسرے کا کچھ بگاڑا نہیں مگر ان کا بس نہیں چل رہا کہ ایک دوسرے کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔ اتنی سفاکی نہ تو کوئی مذہب سکھاتا ہے نہ حکومتی احکامات۔
یہ درندگی جس میں انسان دوسرے انسان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہے ، نفسیاتی عارضے کے سوا کچھ نہیں۔
منو بھائی نے لکھا تھا کہ ہم تو وہ انسان دوست ہیں کہ جتنی ہمدردی ہمیں مقتول کی ماں سے ہوتی ہے، اتنا دکھ اور درد قاتل کی ماں کے لیے بھی محسوس ہوتا ہے۔ تو مجھے نہیں پتا ان دونوں میں سے کون غلط ہے کون صحیح
لیکن مجھے اتنا پتا ہے کہ یہ درندگی میرا دل دکھا رہی ہے، میرے اپنے معاشرے کے انسانوں کے اندر کی یہ سفاکی بہت تکلیف دہ ہے۔
مجھے اتنا پتا ہے کہ میرا مذہب یہ نہیں سکھاتا، میرا نبی ﷺ یہ پیغام نہیں لایا۔
مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اپنے نبی ﷺ کی حرمت کے لیے جان بھی دے سکتا ہوں مگر میرا نبی ﷺ مجھے کسی بے گناہ کا ایک بال بھی اکھاڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔
مجھے اتنا پتا ہے کہ میرا نبی ﷺ رستے سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتا ہے، رستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا نہیں۔
میں انسان ہوں اور انسانوں کے لیے نوحہ گر ہوں۔ مجھے کسی پولیس والے کے کسی مولوی پہ اندھا دھند لاٹھیاں برسانے پہ بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کسی مولوی کے پولیس والوں پہ ڈنڈے برسانے پہ
میری دست بستہ گزارش ہے کہ انسانوں کو انسان سمجھنا شروع کریں۔ اپنے غصے اپنی سفاکی کا شکار انسانوں کو مت بنائیں۔ چوٹ لگاتے وقت لگنے والی چوٹ کی تکلیف کو محسوس کرنے کی کوشش تو کریں۔ اگر احساس مر نہیں گیا تو آپ کے ہاتھ کانپ اٹھیں گے۔
پولیس والوں سے گزارش ہے کہ دوسروں کو بھی انسان سمجھنا شروع کریں۔ اگر آپ تشدد پسند ہیں تو اپنے نفسیاتی عارضے کا علاج کروائیں، ہماری زندگیاں مشکل نہ بنائیں۔
تحریک لبیک والوں سے گزارش ہے کہ میرا نبی ﷺ بے گناہوں کو مارنے کا حکم نہیں دیتا، تو ایسے ظلم سے باز رہیں۔
اور اگر ایسا کرنا ہی ہے تو اسے خدارا میرے نبی ﷺ کے نام سے نہ جوڑیں۔ وہ تو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجے گئے۔ ان کے نعرے لگا کر لبیک لبیک کہتے ہوئے ان کے احکامات کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اگر اپنے نبی ﷺ کے لیے حاضر ہیں تو آپ ﷺ کے احکامات پہ عمل کریں۔
افتخار عارف نے لکھا تھا
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے
رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان
امت سید لولاک سے خوف آتا ہے


