جسٹس فائز عیسیٰ کیس : سماعت براہ راست دکھانے کی درخواست مسترد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت براہِ راست دکھانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے لیکن سپریم کورٹ معلومات تک کس انداز میں رسائی دے سکتی ہے یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ اُنہوں نے یہ سماعت براہِ راست دکھانے کے لیے عدالت عظمی میں ایک الگ درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے 27 روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

منگل کو جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق چھ ججز نے درخواست مسترد جب کہ چار ججز نے سماعت براہِ راست دکھانے کے حق میں فیصلہ دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں اس 10 رکنی بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس امین الدین خان شامل تھے۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد کمرۂ عدالت میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں فیصلہ تحریر کرنے اور اختلاف کرنے والے ججز کے نام جاننا چاہتا ہوں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیصلہ پڑھیں گے تو آپ کو ناموں کا اندازہ ہو جائے گا۔

اس کیس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے چار ججز نے براہ راست نشریات کی استدعا منظور کی تھی۔ ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور ملک، جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس منصور علی شاہ شامل تھے۔

اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ یہ عوامی مفاد کا کیس ہے، سپریم کورٹ ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی کی آڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پر بھی ڈالی جائے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے براہ راست نشریات دکھانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ عوام کا آئینی حق ہے کہ عوامی مفاد کے کیسز کی نشریات دیکھ سکیں لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو ریلیف مانگ رہے ہیں وہ ایک جج کے اٹھائے گئے حلف کے منافی ہو گا۔

دورانِ سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ 27 دن کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا گیا ہے۔ تفصیلی وجوہات اور فیصلہ کب جاری کیا جائے گا؟ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دنوں کی گنتی نہ کریں۔ فیصلہ سنانا ججز کی صوابدید ہے، مختصر فیصلے کی کاپی آپ کو مل جائے گی، تفصیلی وجوہات جاننا آپ کا حق ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے براہ راست کوریج دکھانے کی درخواست مسترد کرنے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ کو ہدایت کی کہ وہ نظرِ ثانی درخواستوں پر دلائل دیں جس پر فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار نہیں ہوں۔

جسٹس قاضی امین نے سوال کیا کہ کیا آپ تفصیلی فیصلے کے بعد نظرِ ثانی پر دلائل دیں گے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میرا انحصار عدالت پر ہے، اگر کہیں گے تو دلائل شروع کر دوں گا۔

کمرۂ عدالت میں موجود جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے کہا کہ حکومتی عہدے دار خاتون نے توہینِ عدالت کی جب کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی عدالت کو اسکینڈلائیز کیا لیکن کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ سرینا عیسیٰ نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو توہینِ عدالت کے تحت سزائیں دی گئیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی کہا کہ سمجھ نہیں آئی توہینِ عدالت کی درخواستیں کیوں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں یہ عدالت کی عزت و تکریم کا معاملہ ہے۔

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار ہو جائیں، توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقرر ہو جائیں گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سر براہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی جہاں کل سے جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی اپیل پر دلائل دیں گے۔ ان کے وکیل منیر اے ملک علالت کے باعث اب تک عدالت میں پیش نہیں ہو سکے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا پس منظر

مئی 2019 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے تھے۔ ریفرنس میں جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

بعد ازاں سات اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا اور 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی درخواست دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔

عدالت عظمیٰ نے 19 جون 2020 کو جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دیا تاہم دس میں سات ججز نے فائز عیسیٰ کے خلاف عائد الزامات پر ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے خلاف جسٹس فائز عیسیٰ اور مختلف بار کونسلز نے نظرثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔

ان اپیلوں کی سماعت اب تک شروع نہیں ہوئی اور عدالت نے جسٹس فائز عیسیٰ کی طرف سے ان نظرثانی اپیلوں کو براہ راست دکھانے کے لیے ایک درخواست پر سماعت کی تھی جس کے فیصلہ میں یہ درخواست مسترد کر دی گئی ہے اور اب عدالت نظرثانی اپیلوں پر کارروائی کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1850 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *