ویکسی نیشن مہم تیز نہ ہوئی تو پاکستان کی معیشت مزید متاثر ہو سکتی ہے: ماہرین کا انتباہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں کرونا ویکسی نیشن مہم تیز نہ ہوئی تو اس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی پاکستان سمیت دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ ویکسی نیشن مہم میں تیزی لائیں۔

ادھر پیر کو اقوامِ متحدہ کے اکنامک اینڈ سوشل فورم کے ورچوئل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ دنیا کے تمام ممالک کو برابری کی بنیادی پر جلداز جلد ویکسین دستیاب ہونی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کرونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن ان کے بقول اس وبا سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی پیداوار میں اضافہ اور اس کی دستیابی کو آسان بنانا ہو گا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں منگل کو کرونا وائرس سے مزید چار ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جب کہ 118 افراد انتقال کر گئے۔

پاکستان میں صحتِ عامہ اور اقتصادی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں معمولات زندگی کو پوری طرح بحال کرنے اور معاشی پہیے کو رواں رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ ویکسین کی مہم کو تیز کرنا بھی ضروری ہے۔

‘ویکسی نیشن مہم سست روی کا شکار ہے’

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ویکسی نیشن کی مہم بدقسمتی سے بہت سست ہے۔ ان کے بقول اگر صورتِ حال ایسی ہی رہی تو پاکستان بہت پیچھے رہ جائے گا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے ویکسین مہم کو تیز کرنا ایک چیلنج ہے اور اس کے لیے قومی کے بجائے ایک عالمی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول ویکسین کے حصول کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی تیز کرنا ہو گا۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں کرونا وبا کی تیسری لہر کنٹرول نہ ہوئی تو پاکستان میں مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں جس کا لامحالہ اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔

فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ویکسین کے لیے وسائل مختص نہ کیے تو پھر پاکستان کو کئی طرح مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں حکومت کی طرف سے معمر شہریوں کو ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ رمضان کے بعد تمام عمر کے افراد کے لیے ویکسین دستیاب ہو گی۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جا چکی ہے جب کہ رواں سال کے اواخر تک حکومت پانچ کروڑ افراد کو ویکسین لگانا چاہتی ہے۔

البتہ، ڈاکٹر جاوید اکرام کا کہنا ہے پانچ کروڑکا ہدف بہت کم ہے ان کے بقول پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگ بھگ 15 کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین لگانا ضروری ہے۔

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا کی سات ارب سے زائد آبادی میں سے ساڑھے پانچ ارب افراد کو ویکسین لگانے کے بعد ہی اس عالمی وبا کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے اسپتالوں میں مریضوں کا رش

دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق ملک میں کرونا وبا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے صحتِ عامہ کے نظام پر شدید دباؤ ہے۔

ان کے بقول اس وقت پاکستان میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح لگ بھگ 10 فی صد اور اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت وارڈز میں موجود مریضوں کی تعداد 4200 ہے جب کہ جون 2020 میں یہ تعداد 3300 تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1850 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *