شادی شدہ جوڑوں کو ’سپیس‘ کیوں چاہیے؟
نئے دور کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے نئے ذہن اور نئی سوچ کی ضرورت ہے، ورنہ اس دور کی گھمن گھیریاں آپ کے اوسان خطا کیے بنا نہیں چھوڑیں گی۔
بہت کچھ بدلا، انسانی رویوں میں تبدیلی آئی اور ایک دور آیا انسان نے الفاظ سے کھیلنا شروع کر دیا۔ لفظوں کے کھیل کا موسم آن پہنچا اور لفظوں کے کھلاڑی نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ”سپیس“ جیسے لفظ کے نئے معانی متعارف کروائے۔
یہ نیا انسان کہتا ہے ہمیں سپیس چاہیے۔ یہ شوہر ہو کر اگر کسی دوسری عورت سے بات کرتا ہے ، اگر اس سے سوال کیا جائے تو کہتا ہے مجھے سپیس چاہیے، چاہے وہ مرد کسی دوسرے کی بیوی کے ساتھ ہی کیوں نہ مصروف پایا جائے۔
یہی انسان عورت ہو کر حقوق تو مانگتی نظر آتی ہے وہ بھی اس شوہر سے جس کی غیر موجودگی میں وہ دوسرے مرد کی تفریح کا سامان بنتی ہے اور اسی شوہر کا پیسہ دوسرے مرد پر لٹاتی ہے۔ جب اس عورت سے پوچھا جائے تو ہنس کر کہتی ہے اتنی سپیس تو ہونی چاہیے۔
یہی انسان اپنی عورت کو دوسری عورت تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتا ہے کہ اپنی من پسند عورت کے ڈرائنگ روم تک پہنچا جا سکے۔ گھر بیٹھی عورت جتنا خود کو مظلوم ثابت کرتی ہے ، اتنی ہی ظالم بھی پائی گئی ہے۔ مرد و زن کا یہ گروہ مسلسل شکار کی تاک میں دکھائی دیتا ہے اور یہ لوگ ہر نئے مرد یا نئی عورت کے شکار پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے بھی پائے گئے ہیں۔
یہ اس دور کے مرد و زن کی ایجاد کردہ نئی سپیس ہے۔ وقت ترقی کر چکا ہے اور ہم نے بھی نئے دور کے تقاضوں کو اپنے طور ڈھال کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔
مانا نیا دور ہے اور اس دور کے تقاضے بڑے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ پھر چور دروازوں کو چھوڑ کر ڈنکے کی چوٹ پر یہ سب کچھ کریں جیسے وہ اپنے دفاع میں یہ کہتے پائے جائیں کہ ہاں ہم ”پارٹ ٹائم شوہر اور پارٹ ٹائم بیویوں کا کردار ادا کرتے ہیں“
مرد کی غیرت اور عورت کی حیاء کی مثالیں دی جاتی تھیں لیکن ہوا اس قدر آلودہ ہوئی کہ وہی مرد دوسری عورت کا پیسہ ہتھیانے کی کوشش میں دکھائی دیتا ہے چاہے صورت کوئی بھی ہو۔
عورت اپنے شوہر کے انتظار میں بال سفید کرتی تھی اور بے وفائی کے بدلے وفا دیتی دکھائی دیتی تھی لیکن اب سوشل کانٹریکٹ کے بعد شوہر بیرون ملک میں مقیم ہو یا گھر پر بھی ہو ، وہ عورت دوسرے مرد کو خوشی دیتی دکھائی دیتی ہے ، لیکن جب اسی پر سوال اٹھاؤ تو شوہر ظالم، شوہر بے وفا اور انہیں وجوہات کو بنیاد بنا کر خود کو مظلوم ثابت کرتی ہیں۔
بھلا غلط صحیح کیسے ہو سکتا ہے؟ معاشرے کا یہ گھناؤنا چہرہ اب تو شاید کسی سے چھپا نہیں۔
غیر شادی شدہ افراد ایسا کرتے پائے جائیں تو معاشرہ ان کو یہ کہہ کر ڈانٹ دے گا کہ غلط ہے لیکن یہ شاید اس غلیظ تعلق سے کہیں زیادہ بہتر ہے جس پر لکھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا جا سکتا ہے۔
یہ شاید ہر دور میں ہوتا آیا ہے لیکن تعلیم و تربیت پہلے ہمیں سکھاتی تھی کہ غلط غلط ہی رہتا ہے جبکہ آج کے دور کے انسان کو اس کا الٹ سکھاتی ہے۔
آج کے دور کا انسان اخلاقی تنزلی کو فخر سے کئی حجتوں کے ساتھ بیان کر کے اسے حلال کر دے گا۔ تصویر کے دونوں رخ دیکھنا ہوں گے ۔ ایک رخ شاید یہ بھی ہے۔

