کیا چچ نامہ ایک سیاسی نظریہ ہے؟


چچ نامہ المعروف فتح نامہ سندھ، تاریخ سندھ کی بنیادی کتاب مانی جاتی ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ ہند و سندھ میں اسلام کی آمد کے متعلق اس کو ابتدائی تاریخ کا اہم ذریعہ کہا جاتا ہے۔ چچ نامہ کی بنیاد پر اس خطے کے حکمرانوں نے گزشتہ سیکڑوں برسوں تک اپنا سیاسی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ اس کتاب کا کمال یہ ہے کہ یہ ایک فریق کے لیے فتح کی تاریخ ہے تو دوسرے فریق کے لیے شکست، جبر اور زبردستی کی تاریخ۔ ایک فریق کے ہیروز دوسرے فریق کے ولن ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کے مذکورہ کتاب کی اپنی حیثیت اور اصلیت کیا ہے؟ کیا یہ آٹھویں صدی کے واقعات کے متعلق مستند تاریخ ہے، وہ وقت جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے لیے کامیاب چڑھائی کر کے راجہ داہر کو قتل کرنے کے بعد اقتدار پر اپنا قبضہ جما لیا۔ چچ نامہ کے حوالے سے جی ایم سید، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ڈاکٹر مبارک جیسے بڑے عالموں نے جو کام کیا ہے وہ قابل تعریف ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا جو کولمبیا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منان احمد آصف نے کیا ہے۔

منان آصف نے 2016 میں چھپنے والی اپنی ایک کتاب (A Book of Conquest ) میں چچ نامہ کے متعلق چار دعوے کیے ہیں۔ ان کا پہلا دعویٰ ہے کہ چچ نامہ کسی بھی عربی کتاب کا ترجمہ نہیں ہیں، دوسرا ان کا کہنا ہے کہ یہ عربی تاریخ لکھنے والے طریق (Genre) کے مطابق نہیں۔ تیسرا یہ کہ برصغیر میں ساتویں صدی سے پہلے بھی مسلمان تھے اور چوتھا یہ کہ چچ نامہ ایک سیاسی نظریہ ہے۔ منان صاحب کی فتوحات کی کتاب کل چھ ابواب پر مشتمل ہے ، ان کی تفصیلات کو چھوڑ کر ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے چاروں دعوے کیسے ہیں۔

مروج رائے یہ ہے کہ چچ نامہ ایک قدیم عربی کتاب ہے ، جس کا فارسی ترجمہ چلا آ رہا ہے۔ جسے فارسی میں علی کوفی نے تیرہویں صدی میں ترجمہ کیا۔ انگریزوں کے دور میں مرزا قلیچ بیگ نے چچ نامہ کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔ علی کوفی نے یہ کہیں بھی واضح نہیں کیا کہ جس کتاب کا انہوں نے عربی سے فارسی میں ترجمہ کیا ہے ، اس کا نام کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ تمام علماء اور ترجمہ نگاروں نے ان کی ترجمے والے دعوے کو مشکوک آنکھ سے دیکھا ہے، اور یہ بھی ایک دلیل ہے کہ چچ نامہ میں موجود افسانوی کہانیاں اس کے تاریخ ہونے کو رد کرتی ہیں۔

یہ بحث بھی ہوتی رہی کہ چچ نامہ تاریخ کی کتاب ہے یا افسانوی ادب۔ جس طرح سہسی رائے کی بیوی سونہن دیوی کا چچ کے ساتھ عشق، راجہ داہر کا دوران شکار شیر سے مقابلہ، اس میں راجہ داہر کی بہادری بیان کی گئی ہے، کہانی بنانے والے نے لکھا ہے داہر شیر کے منہ میں اپنا بازو ڈالتا ہے، اس کے بعد وہ شیر کے چنبے کاٹ کر اسے مارتا ہے۔ جب یہ خبر داہر کی حاملہ بیوی تک پہنچتی ہے تو وہ صدمے میں بے ہوش ہو جاتی ہیں اور وہاں ہی اس کا دم پرواز کر جاتا ہے۔

داہر جب گھر پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں بیوی زندہ نہیں رہی، وہ اپنی بیوی کی لاش کو چھو کر محسوس کرتے ہیں کہ بچہ پیٹ کے اندر حرکت کر رہا ہے، تو داہر اپنی بیوی کی لاش کا پیٹ چاک کرا کر بچے کو زندہ باہر نکلواتا ہے۔ اس بچے کا نام جیسینہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کی اور بھی کہانیاں چچ نامہ میں موجود ہیں۔

کیا اس طرح کی کہانیاں مستند تاریخ ہو سکتی ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود اکثر علماء اور تاریخ دان اس بات کو مانتے اور آگے بڑھاتے رہے ہیں کہ یہ کتاب عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔ ایک گمان یہ بھی ہے کہ علی کوفی نے اس میں اپنی طرف سے کچھ مواد شامل کیا ہو۔

ڈاکٹر مبارک علی چچ نامہ کے بارے میں لکھتے رہے ہیں کہ یہ عرب حملہ آوروں کا موقف ہے ، اس میں مقامی موقف کہیں نظر نہیں آتا۔ جو ایک بڑا سچ اور حقیقت ہے۔ چچ نامہ بغداد میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت کو کرپٹ اور بدکردار کر کے پیش کرتا ہے۔ چچ نامہ میں ہیروز صرف دو ہیں، ایک چچ بن سلاج اور دوسرا محمد بن قاسم۔ چچ کو اس میں سندھ کے اندر کامیاب سیاست کا بنیاد رکھنے والا کر کے پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں محمد بن قاسم کو چچ کے پیچھے کسی سائے کی طرح دکھایا گیا ہے۔ جو ایک غیر روایتی عربی تاریخ ہے، جس میں کوئی ہندو بادشاہ ہیرو ہو۔

ہزار باتوں کی ایک بات چچ نامہ کے ساتھ ہر فریق کا ایک عجیب سلوک ہے، جو بات ایک فریق کے نظریات اور خیالات سے ہم آہنگ ہے ، اس کو وہ فریق نہ صرف پسند کرتا ہے بلکہ آگے بھی بڑھاتا ہے مگر اگر کوئی بات ان کے خیالات سے متضاد ہے تو وہ اس کو رد کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو ۔

مثلاً چچ نامہ میں محمد بن قاسم کے موت کے بارے میں جو بات ہے وہ پاکستان کے ریاستی بیانیے کے ساتھ چلنے والے اسکالرز ماننے کو تیار نہیں۔ بالکل اسی طرح ہندوستان کے حکمران اور ان کے ہم خیال راجا داہر کی اقتدار بچانے کے لیے اپنی بہن سے شادی والی بات کو رد کرتے ہیں اور اس کو داہر کے خلاف پروپیگنڈا کہتے ہیں۔

یہاں تک کہ انگریز نے بھی چچ نامہ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ چارلس نیپئر ایک عیسائی مذہبی جنرل تھے، وہ اس خیال کے تھے کہ سندھ میں ہندوؤں کو جابر مسلمان حکمرانوں سے نجات دلانا نیک عمل ہے۔ پاکستان اور ہندوستان نے بھی چچ نامہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

ہماری نصابی کتابوں میں یہ لکھا گیا کہ محمد بن قاسم پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے 712 ع میں ملک کی بنیاد رکھی۔ ظلم یہ ہے کہ برصغیر کے بٹوارے کے بعد جغرافیے کے ساتھ یہ ہوا کہ تاریخ بھی تقسیم ہو گئی۔

منان آصف اپنی اس ”فتوحات کی کتاب“ میں بالکل واضح لکھتے ہیں کہ چچ نامہ کسی بھی عربی کتاب کا ترجمہ نہیں ہے اور یہ ایک فارسی نثری کتاب ہے، جو تیرہویں صدی ( 1226 ع) میں علی کوفی خود نے ہی لکھی ہے۔ ان کی یہ دلیل اس لیے بھی قبول کی جا سکتی ہے کہ چچ نامہ میں کی گئی باتوں، کہانیوں کا حوالہ کسی اور عربی کتاب میں نہیں ملتا، چچ نامہ میں کافی ایسے نام ہیں جو عربی تاریخ میں کہیں نہیں ملتے۔

عرب تاریخ کی اپنی روایت ہے، اس کا اپنا لکھنے کا انداز ہے، اس میں راوی کا نام ملتا ہے، وہ بات کو بیان اس طرح کر رہا ہوتا ہے جیسے وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا یا وہ بات جس نے سنی ، کوئی عمل جسے کسی نے دیکھا ، راوی نے وہ بات ان سے سنی۔

چچ نامہ میں مبہم حوالہ جات ہیں۔ جیسے اروڑ کے برہمن کے بیان کے مطابق، ہندوؤں کے دانش مند سے سنا یا بڑے اہم لوگوں سے سنی باتیں وغیرہ۔ اب کیا پتا یہ اوپر کی گئی باتیں کس نے کیں یا وہ لوگ کون تھے؟ اور دوسری اہم بات یہ کہ چچ نامہ 1226 ع میں لکھا گیا مگر اس کا اصل قدیم مسودہ 1651 ع کا ہے جو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں موجود ہے، اب سوال یہ ہے کے 1226 ع سے لے کر 1651 ع تک جو چار سو برسوں کا عرصہ ہے، اس میں مذکورہ کتاب میں جو تبدیلیاں کی گئی ہوں تو ان کا پتا کیسے چلے؟

چچ نامہ تیرہویں صدی کے اقتداری تصادم کے پس منظر میں لکھا گیا۔ ان دنوں محمد غوری المعروف سام قتل ہوا تو اس کے تین غلاموں ناصر الدین قباچہ، شمس الدین التمش اور تاج الدین یلدوز کے درمیان جانشینی کی دوڑ لگی۔ چچ نامہ جانشینی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کی کوشش بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔

منان آصف کی اس کتاب میں تیسرا دعویٰ یہ ہے کہ چچ نامہ سیاسی نظریہ ہے، جس میں بہتر ریاست کے ساتھ بہتر حکمرانی کا تصور شامل ہے۔ اپنی دلیل میں منان کا کہنا ہے کہ چچ نامہ میں چالیس سے زیادہ خطوط شامل ہیں۔ جن میں چچ اور ان کے بھائی کے خطوط، حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم کے خطوط، داہر اور ان کے بھائی دہر سینہ کے خطوط اور داہر اور محمد بن قاسم کے ایک دوسرے کو لکھے گئے خطوط شامل ہیں۔ منان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چچ نامہ تجاویز اور ہدایات دینے والا ادب ہے۔

ایک اور بھی دلچسپ کہانی بھی ہے، وہ یہ کہ چچ تخت پر بیٹھنے کے بعد کشمیر کے بارڈر پر جا کر دو درخت (سفیدہ اور صنوبر) لگا کر اس وقت تک وہاں انتظار کرتے ہیں جب تک وہ بڑے نہیں ہوتے اور ان کی شاخیں آپس میں مل نہیں جاتیں۔ اس عمل سے چچ اپنے ملک کی حدیں متعین کرتے ہیں اور کشمیر کے بادشاہ کی حدود کا بھی احترام کرتے ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی گواہی ہے کہ چچ نامہ ”محدود حکمرانی“ کا سیاسی تصور پیش کرتا ہے۔ یہ بات سکندراعظم کے پوری دنیا فتح کرنے والے خواب کے بالکل برعکس ہے۔ شاید یہی پیغام محمد غوری کے تینوں جانیشنوں کے لیے بھی تھا۔ اس کے علاوہ چچ نامہ خاندانی جانشینی کے ذریعے تخت پہ بیٹھنے کی بجائے مضبوط دعویداری کا قائل ہے۔ مطلب تخت پر وہ بیٹھے جو اس کا اہل ہو۔

اس کتاب کے اور بھی دلچسپ پہلو ہیں جن پر ایک اور مضمون لکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن آخر میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ جب چچ نامہ تیرہویں صدی کی کتاب ہے تو آٹھویں صدی کی تاریخ کیا ہے؟ دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ چچ نامہ کو آٹھویں صدی کی تاریخ سمجھ کر جو بھی مثبت یا منفی بیانیہ بنا ہوا ہے ، اب اس کی اس کتاب کے بعد کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اصغر سومرو، کراچی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments