کیا سب اچھا ہے؟


انصاف کے بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھ کر مظلوم رعایا کو انصاف نہ دلوا سکے تو وہ کیسا قاضی ہے۔ انصاف تو یہ ہے کہ پوچھا جائے کہ موجودہ پستیوں کے شکار ملکی حالات کے پیچھے کیا محرکات ہیں۔ سب اچھا ہے تو ملکی معیشت کیوں تباہ حال ہے؟ سب اچھا ہے تو عوام بھوک کے مارے کیوں ہیں؟

اگر سب اچھا ہے تو ہماری صبحیں اتنی مایوس کن، ہماری شامیں سوگوار اور راتیں غمگین کیوں ہیں؟ اگر سب اچھا ہے تو ہمارے جسم سے علیحدہ ہونے والے بنگلہ دیش کی معیشت ہم سے بہت اوپر کیوں ہے؟ سب اچھا ہے تو کاروبار تباہ کیوں ہو رہے ہیں؟ سب اچھا ہے تو ملک میں ریکارڈ کرپشن کیوں ہو رہی ہے؟ سب اچھا ہے تو کرپشن کرنے والے ان بڑے بڑے مگرمچھوں کو کیوں نہیں پوچھا جا رہا؟ سب اچھا ہے تو عوام سراپا احتجاج کیوں ہیں؟ سب اچھا ہے تو مقبوضہ کشمیر خون کے آنسو کیوں رو رہا ہے؟

سب اچھا ہے تو سی پیک کہاں ہے؟ سب اچھا ہے تو دنیا کو ہلا دینے والی بیماری کورونا کے خلاف انتظامات کہاں ہیں؟ پوری دنیا میں حکومتیں اپنے عوام کو فری ویکسین لگا رہی ہیں مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ ہم کورونا سے بچنے کے لیے لمبے لمبے بھاشن تو دے رہے ہیں مگر عملی کام کوئی نہیں۔ کیا ہم کسی چمتکار کے انتظار میں ہیں یا اس سوچ میں کہ جو بچ گیا اس کی قسمت!

تبدیلی سرکار میں دوائیوں کا سکینڈل ہو یا پٹرول کا، آٹا مہنگا ہو یا چینی، ان کے اپنے درمیان موجود ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے کمیشن قائم کیے جاتے ہیں کہ آج کی چوری کا حساب لینے کی بجائے 30 سال پہلے کی چوری کا حساب ضروری ہے۔

آپ کو نااہلی، غیرذمہ داری اور بدانتظامی ہر شعبے میں نظر آتی ہے۔ تبدیلی سرکار کے پہلے 23 ماہ میں ایف بی آر میں پانچ چیئرمین بدلے گئے۔ نیا سربراہ بھی صرف تین ماہ کے لیے لگایا گیا ہے۔ اسی طرح بورڈ آف انویسٹمنٹ میں بھی پانچ مرتبہ چیئرمین کو تبدیل کیا گیا۔ اس حکومت نے تجارت کے چار سکریٹریوں کو دروازہ دکھایا اور تین سیکرٹری خزانہ بدلے گئے۔ اب بھی بیوروکریسی میں مسلسل تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ یہ سب اچھا ہونے کے اشارے تو نہیں ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر تبدیلی کا نعرہ لگایا گیا تھا تو 5.8 فیصد کی معیشت کو اس وقت 6.8 فیصد پہ ہونا چاہیے تھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سراپا احتجاج عوام گھر میں بیٹھے ریاست کے والیوں کی زندگی کی دعائیں مانگ رہے ہوتے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کاروبار کم از کم ایک درجہ بلندی پر ہوتے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انصاف ہوتا نظر آتا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرپشن کرنے والے بڑے بڑے مگرمچھ اور ادویات چور، آٹا چور، چینی چور، غرض کہ انسانی زندگی بچانے والی ہر چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے ظالم لوگ اس وقت سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔

کیا کرپشن کا قانون صرف اور صرف پچھلی حکومتوں کے سیاست دانوں پہ ہی لاگو ہوتا ہے۔ اب موجودہ دور میں ہو رہی کرپشن کے ذمہ داروں کے لیے قانون کب بنے گا؟

ووٹوں کے ساتھ الیکٹ ہو کر پارلیمنٹ میں آنے والے بھی اس ملک کا فخر ہوتے ہیں۔ فوج ملک کی محافظ ہوتی ہے تو پارلیمنٹ ملک کی معیشت اورعوامی معاملات کی محافظ ہوتی ہے۔

قوم بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے پارلیمنٹ میں بھیجتی ہے تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت کر سکیں مگر یہ منتخب نمائندے ہمیشہ غلط استعمال ہوتے ہیں۔ کبھی سینیٹ کے الیکشن میں ان منتخب نمائندوں کا استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی من مرضی کے قوانین بنانے کے لیے۔

عوام ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ ووٹ چوری ہو گئے تو یہ چوری کون کرواتا ہے ، آج تک سمجھ نہیں آ سکی۔ کیا یہ کوئی انوکھی ہی مخلوق ہے جو پارلیمنٹ میں پہنچنے سے پہلے ہی پارلیمنٹ میں پہنچنے والوں پہ اثر انداز ہو جاتی ہے؟ کیا ہم اس اثر انداز ہونی والی مخلوق کا مقابلہ ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناتے نہیں کر سکتے؟ کیا ہماری حب الوطنی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم ملک کے قابل احترام اداروں بشمول ہماری پارلیمنٹ کی حفاظت کر سکیں؟ کیا ہم اپنے ووٹ کی حفاظت نہیں کر سکتے؟

اگر ہمارے تمام ادارے بشمول پارلیمنٹ اپنے اپنے پیج پر فٹ ہو جائیں تو کتاب خودبخود بن جائے گی اور اس کتاب کا نام ہو گا ابھرتا پاکستان۔ وہی ابھرتا پاکستان جس کا خواب ہمارے آباء و اجداد نے دیکھا تھا۔ وہی ابھرتا پاکستان جس کا خواب ہمارے عظیم قائدین نے دیکھا تھا۔

یہ سب ممکن ہے مگر اسی وقت جب ہم سب مل کر اپنے اپنے حصے کا کام کریں گے۔ یہ سب ممکن ہے جب ہم ووٹ کی عزت کو گھسیٹے جانے سے بچائیں گے۔ یہ سب ممکن ہے جب ہم منتخب پارلیمنٹ کی عزت کریں گے اور اس کو گھسیٹے جانے سے بچائیں گے۔ یہ سب ممکن ہے جب انصاف کا نظام یکساں ہو گا۔ یہ سب ہو گیا تو پھر سمجھیں سب اچھا ہو گیا۔

Facebook Comments HS