تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری: حکومت جیتے گی یا تحریک لبیک کے سعد رضوی؟

اعزاز سید - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شدت پسند رجحانات کی حامل تحریک لبیک کے بانی سربراہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد لوگ اس وہم کا شکار تھے کہ آیا ان کا نو عمر صاحبزاہ اس جماعت پر اپنی گرفت بھی قائم رکھ سکے گا یا نہیں؟

تاہم پیر 12 اپریل 2021 کو سعد رضوی کی لاہور سے گرفتاری کے بعد ان کی رہائی کے لیے ملک بھر میں شروع ہونے والے احتجاج نے جہاں ایک طرف ملک میں معمولات زندگی مفلوج کر دیے وہاں اس جماعت کے نو عمر سربراہ کی حراست میں رہتے ہوئے پارٹی پر گرفت بھی مضبوط ہو گئی۔

ایسا اس لیے بھی ہوا کہ حکومت سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد کے ردعمل کا درست اندازہ نہیں کر سکی۔

تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کا ملکی سیاسی و مذہبی منظر نامے پر پہلا تعارف 20 نومبر 2020 کو اس جماعت کے بانی سربراہ خادم رضوی کے مینار پاکستان لاہور میں منعقد جنازے میں ہوا جہاں جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیرالحسن شاہ نے ان کا تعارف کرواتے ہوئے انھیں خطاب کی دعوت دی۔

اپنے پہلے خطاب میں سعد رضوی اپنے والد خادم رضوی کی طرح لوگوں کو مسحور تو نہ کر سکے تاہم انھوں نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھنے کا اعلان ضرور کیا۔ اس پر لوگ ان کی طرف متوجہ ضرور ہوئے لیکن پھر چند ماہ بعد فروری کے وسط میں سعد رضوی نے تحریک انصاف حکومت کے ساتھ اپنے والد کی طرف سے کیے گئے وعدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کا رخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

جب سعد رضوی یہ خطاب کر رہے تھے تو اس وقت وہ لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوزرغفاری میں درس نظامی کے آخری سال کے طالبعلم تھے۔ درس نظامی، ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد رضوی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

تحریک لبیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی کون تھے؟

خادم رضوی کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں کی شرکت، بیٹا جانشین مقرر

خادم رضوی

Getty Images
اپنے پہلے خطاب میں سعد رضوی اپنے والد خادم رضوی کی طرح لوگوں کو مسحور تو نہ کر سکے تاہم انھوں نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھنے کا اعلان ضرور کیا

اب ان کے کندھوں پر تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کو چلانے اور اس پر اپنی گرفت قائم رکھنے کا بوجھ بھی آن پڑا تھا تاہم وہ تنظیمی طور پر پہلے ہی اپنے والد کے ہمراہ متحرک رہ چکے تھے اور نومبر 2020 میں اپنے والد کی طرف سے اسلام آباد میں کیے جانے والے آخری دھرنے میں ان کے ساتھ موجود تھے۔

خادم رضوی وفات سے قبل ہی نومبر 2020 کے آغاز میں اسلام آباد میں دھرنے کے دوران فرانس میں ہونے والی مبینہ توہین رسالت کے تناظر میں اس وقت تحریک انصاف حکومت کے وزیر داخلہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ سے معاہدہ کر چکے تھے کہ حکومت تین ماہ کے دوران فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

سعد رضوی سوشل میڈیا پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو تحریک لبیک کے نظریات سے ہم آہنگ کروانے کے لیے لاہور کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے دورے کرتے رہے ہیں۔

فروری 2021 کے وسط میں سعد رضوی نے اپنے والد کے ساتھ ہونے والے حکومت کے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد آنے کا اعلان کر دیا۔

یہ وہ موقع تھا کہ جب تحریک انصاف حکومت کو سیاسی محاذ پر دو چیلنجز کا سامنا تھا، اول اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے مارچ میں لانگ مارچ کا اعلان اور دوئم بلکہ سب سے اہم تحریک لبیک کی طرف سے فروری کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان۔

اس وقت پی ڈی ایم تو اندرونی اختلافات کے باعث اپنا مارچ ملتوی کر بیٹھی لیکن سعد رضوی کسی طور پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے تاہم سعد رضوی اور ان کے قریبی رفقا سے پنجاب حکومت اور انٹیلیجنس حکام نے ملاقاتیں کر کے مارچ تک کی مہلت لے لی۔

احتجاج

AFP

اس دوران وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، سعد رضوی سے ملاقات کے لیے خصوصی طور پر لاہور گئے جہاں اںھوں نے لاہور انتظامیہ و انٹیلیجنس اہلکاروں کے ہمراہ سعد رضوی سے ایک بار پھر ملاقات کر کے ان سے مہلت میں اضافہ حاصل کرتے ہوئے 20 اپریل 2021 تک کا وقت لے لیا اور یقین دلایا کہ اس دوران حکومت فرانسیسی سفیر کے حوالے سے پارلیمینٹ میں قرارداد پیش کرے گی۔

شیخ رشید سعد رضوی سے مزید مہلت لے کر اسلام آباد پہنچے تو یہاں انھوں نے حکومت کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزارت داخلہ میں ایک حکمت عملی کے طور پر پارلیمینٹ میں پیش کرنے کے لیے قرارداد کا ایک متن تیار کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک اور اس کی قیادت کے خلاف ایک خفیہ پیپر بھی تیار کیا گیا۔

12 فروری 2021 کو وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وہ تحریک لبیک کے مطالبات پارلیمینٹ میں رکھیں گے۔

اپریل کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا گیا اور سات اپریل 2021 کو وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، وزارت داخلہ و انٹیلیجنس کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ اس اجلاس میں اس جماعت کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا مگر اس میں وزارت داخلہ کی طرف سے تحریک لبیک کے مطالبات پر مبنی قرارداد پیش نہ کی گئی۔ جس کے بعد 12 اپریل 2021 کو سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس وقت سعد رضوی پنجاب پولیس کی حراست میں ہیں۔ حکومت کا خیال تھا کہ ان کی اچانک گرفتاری سے ردعمل کی شدت کم ہو گی مگر ابھی تک یہ شدت قائم ہے اور ملک کے مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان پتھراؤ بھی جاری ہے۔

سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ سعد رضوی اور ان کی جماعت کے عہدیداروں کے خلاف پنجاب بھر میں 30 سے زائد مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ اس جماعت کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کی کارروائی کے لیے چاروں صوبوں سے انٹیلیجنس رپورٹس وزارت داخلہ کو ارسال کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔

روایتی طور پر مذہبی جماعتوں بالخصوص تحفظ ناموس رسالت کا نعرہ لگانے والی جماعت کے خلاف حکومتیں ہتھیار ڈالتی آئی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے دور حکومت سے آج تک تحریک لبیک کے خلاف دفاعی حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی ہے اور پہلی بار حکومت نے سعد رضوی کو گرفتار کر کے جارحانہ طرز عمل اپنایا ہے تاہم اس حوالے سے ملک بھر میں اس کا شدید رد عمل بھی سامنے آرہا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اس حوالے سے اپنی حکمت عملی پر کامیابی سے عملدرآمد کروائے گی یا ماضی کی حکومتوں کی طرح ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے گی۔

اگر ریاست کی طرف سے ہتھیار ڈال دیے گئے تو کوئی طاقت بھی آئندہ آنے والے ایک لمبے عرصے تک سعد رضوی کی سربراہی میں تحریک لبیک کا سامنا نہیں کر پائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp