رحمن صاحب: ’’اچھے زمانے تھے‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابن عبدالرحمان بھی چلے گئے۔ ہم انہیں رحمن صاحب پکارتے تھے۔بقیہ لوگوں کے لئے وہ آئی اے رحمان تھے جو اخبارات کے لئے کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ان کے انتقال کی خبر آئی تو ٹی وی سکرینوں پر ان کا ذکر ’’انسانی حقوق کے علمبردار‘‘ کی حیثیت میں ہوا۔اس Cause سے ان کی وابستگی یقینا بہت گہری اور پُرخلوص تھی۔ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے تاہم مجھے دُکھ یہ سوچتے ہوئے محسوس ہوتا رہا کہ وہ ہر اعتبار سے ایک مجسم صحافی بھی تھے۔صحافت کے ہنر پر ان کی گرفت قابلِ رشک تھی۔ اس حوالے سے انہیں مناسب انداز میں سراہا نہیں جارہا تھا۔

لاہور سے ایک اخبار شائع ہوتا تھا۔ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اس کا نام تھا۔انگریزی زبان میں شائع ہونے والے اس اخبار کو جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ “Well Edited”روزنامہ تسلیم کیا جاتا تھا۔یاد رہے کہ جب جنوبی ایشیاء کا ذکر ہوتا ہے تو اس میں آج کا بھارت ،بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ بھی شامل ہیں۔ مجھے ہمیشہ یہ شبہ رہا کہ آج سے کئی دہائیاں قبل رونما ہونے والے بھارتی اخبار The Hinduکی زبان فصیح ترین ہے۔

1999کے آخری عشرے میں لیکن دلی میں صحافیوں کی ایک ورکشاپ ہوئی تھی۔ وہاں اس اخبار کے مدیر بھی موجود تھے۔چائے کے وقفے میں موصوف نے مجھے آگاہ کیا کہ وہ جب مذکورہ اخبار کے بطور سب ایڈیٹر 1950کی دہائی میں بھرتی ہوئے تو ان کے شفٹ انچارج ڈاک سے وصول ہوئے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کو غور سے پڑھنے کو مجبور کرتے۔

’’خبر‘‘ لکھنے کے حوالے سے یہ اخبار حتمی معیار شمار ہوتا تھا۔ میں یہ بات سن کر بہت حیران ہوا۔بنگال پر قبضے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے اصل عروج جنوبی ہندوستان کے ساحلی شہروں پر تسلط کے بدولت حاصل کیا تھا۔اس خطے کا مدراس شہر علمی حوالوں سے دھانسو تصور ہوتا تھا۔”The Hindu”وہاں سے شائع ہونا شروع ہوا تھا۔اس میں شائع ہوئی زبان مگر حتمی معیار نہ بن پائی۔یہ اعزاز لاہور سے نکلے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ ہی کو نصیب ہوا۔

مذکورہ ورکشاپ سے لوٹنے کے چند ہفتے بعد میں لاہور گیا تو اسماء جیلانی کے گھر آئی-اے رحمان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ان کے ساتھ بڑے مان سے میں نے The Hinduکے ایڈیٹر کا نام لے کر اس کا سنایا واقعہ دہرایا۔رحمن صاحب فقط مسکرادئیے۔نہایت عاجزی سے فقط یہ کہا کہ ’’ہاں میاں اچھے زمانے تھے۔اب نہیں رہے‘‘۔ مجھے توقع تھی کہ میری بات سن کر سینہ پھلاتے ہوئے بیان کرنا شروع ہوجائیں گے کہ ان کی لکھی خبر کو کن سب ایڈیٹروں کے ہاتھ جانا ہوتا تھا۔

زبان وبیان پرگرفت کیسے نصیب ہوتی ہے۔ماضی کے قصے سناکر لوگوں پر رُعب ڈالنا مگر رحمن صاحب کا شعار نہیں تھا۔ ’’اچھے زمانے تھے‘‘ والا فقرہ دہرانے پر ہی اکتفا کرتے۔ ان کی آنکھوں میں ہمیشہ حیران کن چمک موجزن رہی اور لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ۔ میں کبھی سمجھ ہی نہیں پایا کہ یہ مسکراہٹ قناعت کا بھرپور اظہار ہے یا ’’ ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے‘‘ سے لطف اندوز ہوا جارہا ہے۔

حسرت ہی رہی کہ رحمن صاحب سے یہ سوال پوچھتے ہوئے جواب حاصل کرپائوں۔ان کی ہنر صحافت پر گرفت سے مگر ہمیشہ خائف رہا۔ کبھی کبھار اسلام آباد آتے۔کسی سماجی محفل میں ملاقات ہوجاتی تو میرے لکھے کسی کالم کا حوالہ دیتے۔نہایت شفقت سے نشان دہی کرتے کہ کوئی واقعہ یا کیفیت بیان کرتے ہوئے میں نے جو لفظ استعمال کیا تھا وہ مناسب نہیں تھا۔فلاں لفظ استعمال ہوتا تو شاید اس واقعہ یا کیفیت کو کماحقہ انداز میں بیان کیا جاسکتا تھا۔

میری کوتاہی کو انتہائی شفقت سے بیان کرتے ہوئے بھی مجھے شرمسار کردیتے۔وقت گز رنے کے ساتھ میں نے وطیرہ بنالیا کہ انہیں دیکھتے ہی فریاد کرتا کہ رحمن صاحب میری لکھی کسی تحریر کی ’’خوبیاں‘‘ فوراََ بیان کردیں۔اس کے بعد دیگر موضوعات پر گپ شپ میں آسانی مہیا ہوجائے گی۔ وہ محض مسکراتے اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ جاتے کہ کئی دنوں سے تمہارا اخبار نہیں پڑھا ۔زندگی سکون سے گزررہی ہے۔ مجھے بتائو کہ اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے۔ہمارے ’’مالک‘‘ کیا سوچ رہے ہیں۔

اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامے ’’دی مسلم‘‘ کے لئے رپورٹنگ کے دنوں میں جو خبر ٹائپ کرتا اسے خواجہ آصف مرحوم میری میز پر ازخود آکر ’’اچک‘‘ لیتے ۔میں گھبرائے ہوئے انہیںدیکھتا تو آواز بلند کئے بغیر انتہائی سرد لہجے میں اعلان کرتے کہ تمہارے پاس خبر ہمیشہ ہوتی ہے۔ اسے لکھنے کے ہنر سے مگر محروم ہوں۔ مجھے تمہاری لکھی خبر سے ’’کھیلنے‘‘ میں مزا آتا ہے۔

خواجہ صاحب ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے سینئر ترین مدیروں میں شمار ہوتے تھے۔جنرل ضیاء کے دور میں اس اخبار سے فارغ ہوئے تو ’’دی مسلم‘‘‘ کے فلور پر لگی ایک میز پر خاموش بیٹھے مجھ جیسے رپورٹروں کی یاوہ گوئی کو قابل اشاعت بنانے کی مشقت میں مشغول رہتے۔ کئی بار میرا لکھا کالم پڑھتے ہوئے انہوں نے چند سطروں کے نیچے سرخ لائن لگائی۔مجھے اپنے پاس بلاتے اور ان سطروں پر انگلی پھیرتے ہوئے متنبہ کرتے اگر ’’رحمن صاحب‘‘ یہ فقرہ دیکھتے تو اپنا سر پیٹ لیتے۔ ان کی شفقت نے آئی -اے رحمن کی ہنر صحافت پر کامل گرفت سے آگاہ کیا تھا۔رحمن صاحب سے مگر جب بھی تذکرہ کیا تو مسکراتے ہوئے یاد دلاتے کہ موصوف یعنی خواجہ صاحب ’’بہت ظالم‘‘ ایڈیٹر رہے ہیں۔تم خوش نصیب ہو کہ تمہاری تحریر کو قابل اشاعت بناتے ہیں۔

رحمن صاحب کی صحافتی زندگی کا آغاز ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے لئے فلموں پر تبصرہ لکھنے سے ہوا تھا۔’’فلمی صحافت‘‘ کو ہمارے ہاں ایک فضول شے تصور کیا جاتا ہے۔رحمن صاحب نے مگر اسی صحافت کو وقار بخشا۔ اصرار کرتے رہے کہ فلم ایک مؤثر ترین ذریعہ اظہار ہے۔پاکستان میں اس پر لیکن مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ابلاغ کے حوالے سے ’’ٹی وی صحافت‘‘ کا جائزہ لیتے ہوئے بھی اکثر فریاد کرتے کہ وطن عزیز میں یہ ’’اُسترا بندروں کے ہاتھ آگیا ہے‘‘۔

انسانی حقوق کے Causeکے ساتھ انکی وابستگی یقینا قابل ستائش ہے۔ اس Causeکو اُجاگر کرنے کے لئے تاہم انہوں نے رپورٹروں کی جبلت کے ساتھ ہمیشہ اس امر پر زور دیا کہ انسانی حقوق سے جڑے واقعات کو ٹھوس اعدادوشمار کے ساتھ مرتب کیا جائے۔ہوائی باتوں اور نعرے بازی سے گریز ہو۔جو مسائل ہیں انہیں ثقافتی پس منظر سمیت ٹھوس حقائق کی صورت بیان کیا جائے۔

اسی رویے کی بدولت انسانی حقوق سے جڑے مسائل کی پاکستان کے تناظر میں جو رپورٹیں انہوں نے ایک ایڈیٹر کی حیثیت میں اپنی کڑی نگرانی میں مرتب کروائیں عالمی ادارے انہیں انتہائی سنجیدگی سے لیتے تھے۔ خواہ مخواہ کا ’’ہیرو‘‘ بننے کا شوق انہیں لاحق نہیں تھا۔ہمیشہ مصر رہے کہ حقائق کو بعینہ بیان کرنے کا ہنر میسر ہو تو حکمران اشرافیہ آپ کی فریاد پر تھوڑی رحمدلی کے ساتھ غور کو مجبور ہوجاتی ہے۔

کسی دیوقامت شخص کی وفات کے بعد ’’خلا‘‘ کا اکثر ذکر ہوتا ہے۔مجھے اس لفظ سے ہمیشہ چڑرہی۔ آج مگر اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ رحمن صاحب کے جہان فانی سے رخصت ہوجانے کے بعد مجسم صحافت کے حوالے سے جو خلاء نمودار ہوا ہے اسے پُرکرتا کوئی نظر نہیں آرہا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *