بہروپیے میڈیا کا کردار
برسوں سے میڈیا کی ترقی کا سنتے سنتے کان پک گئے ہیں۔ تھوڑے سے سیاسی شعور (بشمول گالی گلوچ اور نفرت کے)کے علاوہ کون سا تیر میڈیا نے مارا ہے۔ کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ 24 گھنٹے کی ٹی وی کی نشریات میں معاشرتی مسائل پر 24 منٹ بھی بحث نہیں ہوتی؟ کیا ہمارے سوشل میڈیا نے سیاسی مسئلوں کے علاوہ دوسرے مسائل کو اجاگر کیا ہے؟ کیا ہم متحد ہونے کی بجائے تقسیم نہیں ہوئے؟ کیا سیاسی ٹاک شوز نے لوگوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا نہیں کیا؟
بڑے چینلز ہوں، اخبارات ہوں یا سوشل میڈیا۔ معاشرتی مسائل پر بات کرنا نہ ہونے کے برابر، سیاسی کرنٹ افیئرز پروگراموں میں ملکی سیاست ہی سب سے بڑا موضوع ہے۔ افسوس تب ہوتا ہے جب ہمارے سنیئر ترین اور مشہور صحافی ٹویٹر اور فیس بک اکاؤنٹس میں تاریخ، جغرافیہ، ثقافت، صحت، ٹیکنالوجی خاص کر سپیس ٹیکنالوجی، معاشیات، انفراسٹرکچر، تعلیم یا دوسرے مسئلوں پر بات کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ دیکھنے اور پڑھنے والوں کو تشنگی تب محسوس ہوتی اگر ان کی سیاسی رائے بھی ملکی سیاست تک محدود نہ ہوتی۔ شاذ و نادر ہی بین الاقوامی سیاست اور تبدیلیوں پر کوئی بات کرتا ہے۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چند بہترین اور آزاد خیال دماغوں کے آنے پر پابندی نے میڈیا کے کردار کو مزید داغ دار کیا ہے۔ سیاسی ٹاک شوز میں سنسرشپ اور بہت سے معاملات پر رائے کی پابندی نے میڈیا کے روایتی کردار کو مزید اپاہج بنا دیا ہے۔ پروپیگنڈے کی بہتات، فیک نیوز، منفی ایجنڈے کا فروغ، جمہوری رویوں اور جمہوریت کی کردار کشی، گالی گلوچ، نفرت، تقسیم، کمرشلزم، اور زرد صحافت نے میڈیا کے کردار کو قابل گرفت بنا دیا ہے۔
معیشت ملک کا ستون اعظم ہے، اس کی تباہی ملکی نظام اور میڈیا کی اپنی تباہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اس پر تجزیاتی رائے ندارد۔ اگر کسی ٹاک شو میں کسی ماہر معاشیات کو بلایا بھی جاتا ہو تو وہ بھی 5 منٹ سے کم۔ معیشت کی بنیادی خامیوں پر میڈیا بات کرنے سے قاصر ہے۔ سنسر شپ اور ایڈورٹائزمنٹ کے لالچ میں حقیقی رائے کا خون ہمارے میڈیا میں اکثر دیکھا گیا ہے۔
مانا کہ میڈیا ملک کا چوتھا ستون ہے۔ بغیر شک و شبے کے میڈیا ہی شعوری پختگی کا ضامن ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بہترین صحافی اب بھی موجود ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی نوشتہ دیوار ہے کہ ملکی میڈیا اپنا حقیقی کردار نبھانے میں مکمل ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ موضوعات کا بڑا حصہ صرف سیاسی موضوعات تک محدود ہے ۔ معاشرتی مسائل پر بات چیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ذمہ دار جو بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو چکا ہے۔


