سن یاس میں خون: خطرے کی گھنٹی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے برس کووڈ کے آغاز کے دن تھے جب ہمیں ایک پرانی شناسا کا پیغام ملا،

“سنو، ایک مشورہ کرنا ہے”

“بصد شوق” ہمارا جواب!

“تم تو جانتی ہی ہو کہ ہم پچاس سے اوپر کے ہو چکے ہیں۔ سن یاس شروع ہوئے کم وبیش تین برس ہو چلے، آخری دفعہ ماہواری بھی تین برس پہلے ہی آئی تھی۔ اب تک چین سے زندگی بسر ہو رہی تھی۔ لیکن ابھی پچھلے ماہ سے ہمیں دوبارہ سے خون آنا شروع ہو گیا ہے، کم کم ہے لیکن دھبہ چھوڑ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں سے پوچھا تو کسی نے کہا کہ ہوتا ہے کبھی کبھی ایسا.. کچھ نے ہنس کے کہا کہ لگتا ہے جوانی واپس آ رہی ہے۔

اب تم بتاؤ کیا کروں؟”

“دو کام فوراً کرواؤ، ویجائنل الٹرا ساؤنڈ اور رحم کی صفائی.. جسے ہم ڈی اینڈ سی ‏(Dilatation and curtaage – D and C)  کہتے ہیں اور اس میں رحم سے حاصل ہونے والے مواد کی بائیوپسی(Biopsy)”

ہم نے بلا کسی توقف جواب دیا۔

“افوہ ، یہ تو مشکل کام بتا دیا تم نے۔ یہ ڈی اینڈ سی اور بائیوپسی کے بغیر کام نہیں چل سکتا کیا؟”

“نہیں، سن یاس کے برسوں میں اگر ماہواری دوبارہ شروع ہو جائے تو یہ محض خون نہیں خطرے کی گھنٹی ہے جو بج کر اعلان کر رہی ہے کہ توجہ کی جائے”

ہم نے صدق دل سے یہ مشورہ دیا اور غم روزگار میں پھر سے گم ہو گئے۔ کووڈ کی ابتلا نے موقع ہی نہ دیا کہ بائیوپسی کے نتیجے کے لئے استفسار کرتے۔

کوووڈ کی پہلی سالگرہ کے ساتھ ہی ہم تک پھر ایک پیغام آن پہنچا۔

“میں تاسف کے ساتھ اطلاع دے رہی ہوں کہ پچھلے برس تمہارے مشورے کو نظرانداز کر بیٹھی۔ سوچا تھا کہ خون کے معمولی دھبے ہیں، خود ہی رک جائیں گے۔

پچھلے ماہ خون آنے میں اضافہ ہو گیا تو پھر گائناکالوجسٹ کے پاس جاتے ہی بنی۔ انہوں نے وہی کیا جو تم نے پچھلے برس تجویز کیا تھا۔

بائیوپسی کی رپورٹ آئی اور…….”

“اور کیا؟” ہم نے بے چینی سے پوچھا

“رپورٹ میں رحم کا کینسر لکھا ہے” اداس لہجہ!

“اوہ خدایا…. “ ہم دلگیر ہوئے

“کاش پچھلے برس بائیوپسی ہو گئی ہوتی.. کاش کچھ پہلے علم ہو گیا ہوتا تو علاج میں ایک برس کی تاخیر نہ ہوئی ہوتی”

رحم کے کینسر کی یوں تو بہت سی اقسام ہیں لیکن رحم کی اندرونی جھلی سے شروع ہونے والا کینسر (Endometrial cancer)  سب سے عام ہے۔

اس کینسر کے اسباب کے بارے میں حتمی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن کچھ risk factors ایسے ہیں جو اس کے ساتھ عموما پائے جاتے ہیں۔

ماہواری کے طویل برس:

اگر ماہواری گیارہ بارہ برس کی عمر سے پہلے آئی ہو اور پچاس کے بعد تک آتی رہی ہو تو رحم کی اندرونی جھلی پہ ہارمونز کا مسلسل اثر اینڈومیٹریل سیلز کی ابنارمل افزائش کا موجب بنتا ہے۔

اور یہی تو کینسر ہے، جب سیلز افزائش کے تمام ضابطوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑھنا شروع ہو جائیں۔

یہاں یہ بات جان لیجیے کہ ماہواری کا خون اصل میں ہے کیا؟ گندے خون کی تکرار تو آپ سب نے سن ہی رکھی ہے آج سائنسی طور پہ بھی سمجھ لیجیے۔

رحم کی اندرونی جھلی ( endometrium ) ہارمونز ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کے زیر اثر پھلتی پھولتی ہے۔ ہر مہینے ان ہارمونز میں اتار چڑھاؤ آتا ہے جس کے زیر اثر انڈہ بنتا ہے اور جھلی کی موٹائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جھلی کے اس بڑھے ہوئے حصے کو ہر مہینے رحم سے باہر نکالنا ضروری ہوتا ہے کہ یہ نظام کا حصہ ہے۔

اسے یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے ابتدائی چاند کی تاریخوں میں چاند بڑھتا ہے، پھر گھٹتے گھٹتے غائب ہو جاتا ہے اور اگلے ماہ ہلال کی صورت میں پھر سے آ موجود ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہ جھلی پھیلتی تو ہے لیکن سکڑنے کے لئے اسے کچھ حصہ ماہواری کی شکل میں باہر انڈیلنا پڑتا ہے۔ سو ماہواری کے اجزا میں رحم کی اندرونی جھلی کے کچھ ٹکڑے اور ان میں بھرا ہوا خون ہوتا ہے، ویسا ہی صاف خون جو باقی جسم کی رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے۔

بانجھ پن:

بچے نہ پیدا ہونے کی صورت میں رحم کی اندرونی جھلی اور ہارمونز کے ٹکراؤ کے طویل برس، اتنا دباؤ ڈالتے ہیں کہ جھلی کے سیلز آپے سے باہر ہو کے کینسر کے آغاز کا سبب بنتے ہیں۔

موٹاپا، پولی سیسٹک اووریز اور ذیابیطس:

بنیادی طور پہ ان سب میں ہارمونز کی کمی بیشی اور اتار چڑھاؤ رحم کی اندرونی جھلی کو بہت بری طرح متاثر کرتے ہوئے کینسر کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔

اگر آپ ہماری رائے جاننا چاہتے ہوں تو ہم رحم کے کینسر کو ایک لحاظ سے دوست کینسر مانتے ہیں کہ یہ خطرے کی گھنٹی ضرور بجاتا ہے۔ ورنہ بہت سے کینسر ایسے ہیں جو اندر ہی اندر پلتے رہتے ہیں اور خبر ہی نہیں ہو پاتی کہ موذی مرض کا آغاز ہو چکا ہے۔

رحم کا کینسر ماہواری کے نظام کو تہہ وبالا کرتے ہوئے وارننگ جاری کرتا ہے کہ توجہ کی جائے۔ سن یاس کے برسوں میں خون کا پھر سے شروع ہونا اہم ترین نشانی ہے۔

یہاں ایک اہم بات بتاتے چلیں کہ اس کینسر کا آغاز عموماً چالیس برس کی عمر سے ہوتا ہے۔ سو چالیس برس کی عمر یا بعد میں اگر خواتین کو ماہواری بار بار آنے لگے، زیادہ خون نکلنے لگے، دو ماہواریوں کے بیچ میں داغ لگنے لگے تو ڈی اینڈ سی اور بائیوپسی کو حرف آخر سمجھیے کہ کینسر کو پہچاننے کا ایک یہی طریقہ ہے اور اسی سے بروقت کارروائی کر کے بچا جا سکتا ہے۔

بڑے ہسپتالوں میں ڈی اینڈ سی کے ساتھ ساتھ ایک کیمرہ نما آلہ ( Hystetoscope) رحم میں ڈال کے براہ راست دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن اس آلے کا استعمال ابھی تک محدود سطح پہ ہے۔

بائیوپسی میں اگر کینسر کی تشخیص ہو گئی ہو تو کینسر کی سٹیجنگ کرنے کے لئے ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کیا جاتا ہے۔ ابتدائی مراحل میں کینسر ہو تو رحم، ٹیوبز اور اووریز کو نکالنا ہی واحد حل ہے۔ کینسر پھیل چکا ہو تو کیمو تھیراپی اور ریڈیو تھیراپی سے مدد لی جاتی ہے۔

بعض دفعہ بائیوپسی میں کینسر سے پہلے والی سٹیج کی تشخیص ہوتی ہے جسے endonetrial hyperplasia کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں ابھی کینسر تو نہیں بنا ہوتا لیکن سیلز کا رحجان نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اگر علاج نہ کیا گیا تو کچھ عرصے میں کینسر شروع ہو سکتا ہے۔ یہاں ہم مریض کو مختلف طریقہ علاج کی سہولیات سے آگاہ کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر مریض کوئی بھی رسک لینے کی بجائے رحم نکلوانا (Hysterectomy) ہی پسند کرتی ہیں۔

ماہواری کی ناہمواری کو نظر انداز مت کیجیے، اپنے جسم کی آواز پہ کان دھریے۔ کبوتر کی طرح آنکھ بند کر لینے سے خطرہ نہیں ٹلا کرتا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *