لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا مطلب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لبیک اللہم لبیک ایک خوبصورت کلمہ ہے جو ایک خاص موقعہ پر اللہ تعالی کو پکارنے کے لئے سکھایا گیا۔ اس کلمہ میں پکارنے والے کے دل کی تڑپ و بے ساختگی کے علاوہ خود سپردگی کا عالم بھی عیاں ہے ، نیز اللہ اور بندے کے مابین ایک خاص قربت بھی واضح ہوتی ہے۔ جہاں ہمیں یہ کلمہ خوبصورت لگتا ہے اسی طرح اللہ جل شانہ نے بھی یہ طرز تحاطب پسند فرمایا اور یہ اسی کی ذات اقدس کے شایان شان ہے۔

اس طرز تخاطب کی بحث میرے موضوع سے ہٹ کر ہے اور متنازع بھی ، اس لئے اس کو چھوڑنا بہتر۔ لبیک یا رسول اللہ ﷺ کہنے سے جبکہ حضور ﷺ رو برو بھی نہ ہوں ، یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کہنے والا ان کے فرمودات و احکامات کا نہ صرف دل و جان سے اقرار کر رہا ہے بلکہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ انہی سے عبارت رکھنے کا عندیہ بھی دے رہا ہے۔ اب اس ایک پکار سے کہنے والے نے کم از کم اپنے اوپر لازم کر لیا کہ وہ حضور ﷺ کے فرمودات کے مطابق عبادات بھی کرے گا، اپنی زندگی بھی گزارے گا اور دوسروں کے ساتھ معاملات میں بھی ان سے روگردانی نہیں کرے گا۔

لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا مطلب آسان اور عام فہم ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی بھی مکتب فکر والوں کے لئے اس میں اختلاف کی گنجائش ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ نعرہ وضع کرنے والے بھی یہ مطلب سمجھتے ہوں گے۔ اگر بدقسمتی سے نہیں سمجھتے یا اگر سمجھتے ہیں مگر سمجھ اپنے تک محدود رکھتے ہیں یا رکھنا چاہتے ہیں تو دوسرے مکاتب  فکر کے رہنماؤں کا دینی فریضہ بنتا ہے کہ اچھے ماحول میں ان کو سمجھائیں۔

اس نعرے کو وضع کرنے والوں کو جب اس کے مطلب کا ادراک ہو جائے تو ان کو اپنے پیروکاروں کو سادہ طریقے سے سمجھانا اور پابند کرنا چاہیے کہ تمام معاملات ہمارے نبی آخر الزماں ﷺ کے طریقے کے مطابق طے ہونے چاہئیں اور یہ کہ

متشدد رویہ کی نفی ہو۔
جلاؤ گھیراؤ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
مسافروں (مقامی یا غیر مقامی) کے راستے بند کرنے کی بجائے انہیں سہولت دو۔
ملکی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا۔
اپنے پیروکاروں کو غیر مسلح کریں۔
اپنے ہم وطنوں کی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔
حاکم وقت کی اطاعت کریں۔

اگر بات سمجھنے کے باوجود مثبت نتائج نہیں نکلتے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنے نعرے کے ساتھ مخلص نہیں اور یہ کہ حالات کی خرابی دانستہ پیدا کی جا رہی ہے۔

اس صورت میں حکومت کو اپنے فرائض ادا کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اپنے اختیارات اور وسائل استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *