محبتوں بھری عیدیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہ رمضان کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیوں کا شور ہواؤں میں ہے۔ کورونا وبا کی لہر بے رحم موجوں کی طرح انسانوں کو نگلے جا رہی ہے۔ پچھلے سال کی عید بھی تنہائی میں گزری تھی۔ اب کے برس بھی لگتا ہے ایسی ہی پھیکی اور بے مزہ سی عید ہی گزرے گی۔ کورونا وبا کی موجودہ تیسری لہر سے بہت سے گھر اجڑ چکے ہیں۔ کسی کی ماں چلی گئی تو کسی کی بیٹی۔ کسی کا بھائی چلا گیا تو کسی کا خاوند۔ ہواؤں میں مسلسل ایک خوف ہے۔ ایک دوسرے سے ملنے کا خوف۔

بازاروں میں جانے کا خوف۔ تقریبات میں جانے کا خوف۔ نجانے کون کہاں کس کو وائرس دے دے۔ ایسے میں رمضان اور عید کی تیاریوں کا اہتمام بھی ڈرے ڈرے دلوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ دل سوچوں میں غلطاں تھا تو ایسے میں پرانی عیدوں اور روزوں کی یادوں نے اپنے دریچے کھولے۔ دیکھا تو پرانے عید کارڈ اڑتے اڑتے میرے دریچے کی منڈیر پر آ بیٹھے۔ میں نے ہاتھ بڑھا کے دیکھا تو بچپن کی سہیلیوں کے لکھے ہوئے خوب صورت عید کارڈ کے اشعار میرے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ آپ بھی سنیے:

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
عید کی تیاری چھوڑی نہیں جاتی

چاول چنتے ہوئے نیند آ گئی
صبح اٹھ کے دیکھا تو عید آ گئی

’میں اپنے بچپن کی گزری ہوئی عیدوں کو یاد کروں تو میرے کانوں میں ریل کی سیٹیاں، خوانچہ فروشوں کی صدائیں اور قلیوں کی آوازیں سنائیں دیتی ہیں۔ دراصل ہماری تقریباً سبھی عیدیں سفر میں گزریں۔ گھبرائیے نہیں! عید کا دن نہیں بلکہ ہم عید سے بہت پہلے ہی گرما کی چھٹیوں میں کبھی اپنے ددھیال اور کبھی ننھیال چلے جایا کرتے۔ ددھیال دینہ میں اور ننھیال لائل پور میں تھا۔ چھٹیوں کے پہلے پندرہ روز خوب دبا کے فٹا فٹ سکول کا کام ختم کر لیتے۔

سہ پہر میں ہم اپنی کزنز کے ساتھ باہر سیر کو جایا کرتے۔ عجب آزاد فضاء تھی۔ ہرگز یہ ڈر نہ تھا کہ کوئی راہ چلتے آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔ ہمیں اپنے کھیتوں سے دور سے نظر آتی ہوئی ٹلہ جوگیاں کی پہاڑیاں پربتوں کی شہزادیاں لگتیں۔ کھیتوں کے کناروں زیادہ تر ٹاہلی، کیکر اور بیری کے درخت تھے۔ اس زمانے میں گو آسائشیں زیادہ نہ تھیں لیکن محبتیں اور رکھ رکھاؤ بہت تھا۔ بزرگ اور بچے سب کے سانجھے ہوتے تھے۔ رمضان کے شروع ہونے سے پہلے ہی تیاریاں عروج پر ہوتیں۔

گندم صاف کروا کر پسوائی جاتی تاکہ گھر کا صاف ستھرا آٹا میسر ہو سکے۔ گھروں کی صفائی سب سے مقدم ہوتی۔ بستروں کی دھلائی اور سلائی کا کام شروع ہو جاتا۔ حتیٰ کہ سٹور میں رکھی پیٹیوں اور بکسوں کے غلاف تک دھلوائے جاتے۔ یہ سب کام روزوں سے پہلے ہوتے تاکہ رمضان میں اہتمام سے عبادات اور روزے رکھے جا سکیں۔ دادی جان اور ماں بہت چاہت سے شعبان ہی سے عبادات اور نذر و نیاز کے ساتھ ہلکی پھلکی محفل میلاد بھی کرتیں۔ دادی کے بڑے سے صحن کے ارد گرد گول ستونوں والے برآمدوں میں ہم گول گول گھوما کرتے۔

دادی کی رنگین پایوں والی بڑی سی چارپائی جس پر سفید چاندنی جیسی کڑھائی والی چادریں بچھی رہتی تھیں۔ سحری کے لیے رات کو خصوصی سالن تیار ہوتا جو دیسی گھی میں لپٹے پراٹھوں کے ساتھ کھایا جاتا۔ مٹی کے سوندھے کونڈوں میں بھینسوں کے دوہے ہوئے دودھ سے دہی جمایا جاتا۔ سحری کے وقت ڈھول والوں کی آوازیں ”روزے دارو! اللہ نبی ﷺ کے پیارو! روزہ رکھ لو“ نیند سے جگا دیتیں۔ صحن میں سب کی چارپائیاں لائن سے بچا دی جاتیں۔

صحن میں لگے انار کے درخت، رات کی رانی اور موتیے کی خوشبو کسی اور جہان میں لے جاتی۔ تاروں بھرا آسمان آنکھوں کی پتلیوں کو چندھیا دیتا۔ تارے گنتے ہم نیند کی وادیوں میں کھو جاتے۔ افطاری کی تیاری بھی خوب پھرتی سے ہوتی، کہیں فروٹ چاٹ بن رہی ہے تو کہیں پکوڑوں کا بیسن گھولا جا رہا ہے۔ ماں ہمیشہ سوجی کی میٹھی ٹکیاں پہلے سے بنا کر مرتبانوں میں رکھ لیتیں۔ دستر خوان پہ کبھی ستو کا شربت تو کبھی باداموں کا شربت افطار کی زینت ہوتا۔

ماں نمک سے روزہ کھولتیں پھر سب چیزوں پر ہاتھ صاف کرتیں۔ ماں قرآن کریم اور سیپاروں کے نئے نسخے خرید کر مسجدوں میں رکھواتیں۔ غریب رشتے داروں کو پیشگی ہی رمضان اور عید کے لیے رقوم بجھوا دی جاتیں۔ لیلۃ القدر کی رات کی تلاش میں جان لگا دی جاتی۔ دادی جان شاید ہم بچوں کو رغبت دلانے کے لیے کہا کرتی تھیں کہ اس پرنور رات میں ایک لمحہ ایسا آئے گا جب درخت اور پودے بھی سجدے میں جائیں گے۔ ہم سب کزنز نوافل تو کم ہی پڑھتیں بس مصلے پر بیٹھی سامنے کیاریوں میں رات کی رانی، موتیا اور انار کے درخت کو دیکھے جاتیں کہ کب سجدے میں جائیں گے۔

گزرے دنوں کی عیدوں میں نئے کپڑے ملنے کی خوشی کے خواب سجے تھے۔ جوڑے سے میچنگ کھسے دل میں گھسے بیٹھے تھے۔ رمضان کے بیچ میں چوڑیوں والیاں چوڑیوں سے لبا لب اپنی رنگین ٹوکریاں لیے پہنچ جائیں۔ سب لڑکیاں بالیاں اپنی پسند کی چوڑیاں لیتیں اور دام بزرگ ادا کرتے۔ یادوں کی بھولی بسری گلیوں میں عید کے دن شیر خرما کی تیاریاں بھی کیا سہانی ہوتیں۔ سیروں الائچی ملے دودھ کی دھیمی آنچ پہ پکنے کی مہک سے پورا گھر مہکتا تھا۔

پہلے سے بھگوئے ہوئے چھواروں، باداموں اور ناریل کی مہین کٹائی بہت وقت لیتی تھی۔ ماں تھوڑی تھوڑی دیر بعد چمچہ گھوٹے چلی جاتی۔ تب کہیں جا کر لذیذ شیر خرما تیار ہوتا۔ چاند رات کا منظر ہی نرالا ہوتا۔ پورا محلہ چھتوں پر موجود ہوتا کچھ ہی دیر میں ہر طرف چاند مبارک عید مبارک کا شور اٹھتا۔ کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو پیغامات دیتے۔ چاند رات مہندی اور خوشی کی خوشبو میں گزرتی۔ مہندی لگاتے وقت ہم ہاتھوں کو لہرا لہرا کر یہ گنگنایا کرتے ”چڑیا چڑیا! اپنی مہندی لے جا میرا رنگ دے جا“ ۔

رات ہی کو سب کے عید کے کپڑے کھونٹیوں پہ لٹکا دیے جاتے تاکہ لڑکے اور مرد حضرات مسجدوں کو روانہ ہو سکیں۔ ہمیں تو گوٹہ کناری والے نئے کپڑوں کی مہک سونے ہی نہ دیتی۔ آنکھوں میں ہی رات کٹ جاتی۔ ہم سانجھرے ہی چڑیوں کی طرح چہچہانے لگے۔ فجر کی نماز کے بعد ہی پورے گھر میں چہل پہل ہوتی۔ نئے کپڑے زیب تن کرتے ہی دل بے چین ہوتا کہ عیدی مل جائے اور جلدی سے سب کزنز کو جا کر کپڑے دکھائے جائیں۔

اتنے میں ابا، تایا، چاچا، لالا وغیرہ سب اکٹھے آتے اور کڑکڑاتے نئے نئے نوٹ پچاس یا سو روپے کے ہمیں عیدی کے طور پر ملتے۔ ہم نئے نوٹوں کی خوشبو کو نتھنے پھلا کر سونگھا کرتے۔ اگلا مرحلہ بھاگ کے جھولوں پہ جانے کا ہوتا۔ گول گول گھومنے والے پنگھوڑے پر بیٹھتے، آلو چھولے کی تیکھی چاٹ مزے لے کر کھاتے۔ بھلا گول گپے کب چھوٹنے والے تھے۔ گولہ گنڈا بھی چوس چوس کر کھایا جاتا۔ اف اللہ! میرے دانت تو اسے سوچ کر ہی ٹھنڈے ہو گئے۔

اتنے میں دوپہر ہوجاتی تو گھر کی راہ لیتے۔ دستر خوان پر انواع و اقسام کے کھانے چنے ہوتے۔ سندھی بریانی، نرگسی کوفتے، شامی کباب، رائتہ، سلاد، زردہ اور سب گھر والے مع تمام رشتہ داروں کے کھانا کھاتے تو لگتا محبتوں کی حکومت ہے۔ بسری عیدوں کی یادیں آنکھوں میں جھلملاتی ہیں تو کبھی لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں پانی آتا ہے۔ سادگی، محبت، طرح داری، احساس اور خلوص کے پانی سے گندھی ہوئی عیدیں شب براتیں اور دیگر تہوار تھے۔

زمانے نے کروٹ لی۔ آسائشیں بڑھ گئیں محبتیں روٹھ گئیں۔ ہم تو ہمیشہ ماضی کی حسرت ناک یادوں میں ڈوبے رہتے ہیں۔ پرانے دنوں کو پسندیدہ غزل کی طرح گنگناتے رہتے ہیں۔ یہاں پھر سے کسی فلمی گیت کا ایک شعر یاد آ گیا ہے۔

پیار جھوٹا نہ ہو کم ہی سہی
ساتھ دے تو کوئی دو قدم ہی سہی

اب نہ دادی ہیں نہ ماں نہ ابا نہ تو پہلے سی عیدیں ہیں۔ کورونا نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ دعا ہے رب کریم سے اب اس وبا کو پلٹ دے اور دنیا کو پھر سے خرید لے۔ آمین!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments