اقرا عزیز کا انٹرویو: ’یاسر کو مجھ سے پہلی نظر میں پیار ہو گیا لیکن مجھے تھوڑا وقت لگا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اقرا عزیز

BBC

’میں بچپن سے ہی امی کے دوپٹے لے کر اور ساڑھیاں باندھ کر انڈین گانوں پر شیشے کے سامنے اداکاری کرتی تھی، تیار ہوتی تھی اور میک اپ کرتی تھی۔‘

یہ کہنا ہے نوجوان نسل کی اداکارہ اقرا عزیز کا جنھوں نے ڈرامہ سنو چندا، رانجھا رانجھا اور جھوٹی میں اپنی کمال اداکاری سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں اپنا نام منوایا ہے اور حال ہی میں وہ ڈرامہ سیریل ’رقیب‘ اور ہاشم ندیم کے تحریر کردہ ڈرامے ’خدا اور محبت‘ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

بی بی سی کے لیے صحافی مکرم کلیم کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اقرا عزیز نے بتایا کہ وہ دسویں جماعت میں تھیں جب انھوں نے اس انڈسٹری میں ایک ٹی وی سی کے ذریعے قدم رکھا اور اس کے بعد انھوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اب انھیں یہ ہی کرنا ہے۔

لیکن جب انھوں نے اداکاری میں اپنا کرئیر بنانے کا فیصلہ کیا اور اس بارے میں اپنی والدہ کو آگاہ کیا تو ان کی والدہ نے کہا کہ پڑھائی نہیں چھوڑنی۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈسٹری میں کتنے ہی لوگ ہیں جو اپنے معاشقے چھپا چھپا کر مرے جا رہے ہیں‘

’پہلے کہتے ہیں یہ تو بس روتی رہتی ہیں، جب رلاتی ہوں تو برداشت نہیں ہوتا‘

لفافہ ڈائن: ان صحافیوں کی کہانی جو ’لفافہ لے کر صحافت کرتے ہیں‘

وہ کہتی ہیں کہ ’پھر میں نے اپنی بڑی بہن سے بات کی، ابتدائی طور پر میری بہن نے مجھے سپورٹ کیا اور اس نے امی سے بات کی تو میری امی مان گئیں۔‘

اپنی والدہ سے اپنے رشتے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقرا نے کہا کہ ان کی امی ان کی بہترین دوست ہیں۔

’میں انھیں ہر بات بتاتی ہوں، وہ میرے ساتھ ہر شوٹ پر جاتی تھیں۔ میری والدہ نے بھی مجھے بھرپور سپورٹ کیا اور ان کے بغیر شاید میں یہ نہ کر سکتی۔‘

’اردگرد ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں جو ریئیلٹی چیک دیتے رہے ہیں‘

اپنی فیملی کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے اقرا نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک مڈل کلاس خاندان سے ہے۔

’میں بنس روڈ پر رہتی تھی۔ میں نے ہمیشہ سے محلے داری دیکھی ہے، وہ ماحول دیکھا اور ایک فلیٹ دیکھا ہے، جس میں آپ ایک کمرے سے نکل کر فوراً ہی دوسرے کمرے میں آ جاتے ہیں، چھوٹا سا کچن اور ہر کمرے کے ساتھ باتھ روم بھی نہیں۔ تو میرا بیک گراؤنڈ کچھ ایسا ہے لیکن میں نے ان حالات میں بھی اپنی والدہ کو بہت شکرگزار دیکھا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’میرے اردگرد ہمیشہ ایسے بہت سے لوگ رہے ہیں جو مجھے ریئیلٹی چیک دیتے رہے ہیں۔ سب سے پہلے میری ماں، انھوں نے مجھے ایسی چیزیں سکھائی ہیں اور میری تربیت کا حصہ رہی ہیں۔ میرے اندر ہمیشہ سے یہ چیز رہی ہے کہ میری کچھ ذمہ داریاں ہیں جنھیں مجھے پورا کرنا ہے اور میں نے اپنی ماں کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔‘

اقرا نے بتایا کہ ان کی بڑی بہن جرمنی میں زیر تعلیم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اپنی بہن کے برعکس انھوں نے جلدی شادی کا فیصلہ کیا لیکن ان کی والدہ نے دونوں بیٹیوں کے فیصلوں کو سپورٹ کیا۔

’میری امی یہ چاہتی تھیں کہ ان کی اولاد کو سب بہتر سے بہتر ملے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتی تھیں کہ میں لڑکیوں کا جہیز کبھی جمع نہیں کروں گی، میں یہ نہیں دیکھوں گی کہ انھوں نے اپنے سسرال کیا لے کر جانا ہے۔ امی ہمیشہ ہمیں پڑھانا چاہتی تھیں۔‘

اپنی والدہ کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے اقرا نے کہا کہ انھیں اپنی والدہ کی دو باتیں بہت متاثر کرتی ہیں۔

’وہ بہت محنتی اور بہت شکر گزار طبیعت کی مالک ہیں اور یہ دونوں چیزیں آپ کو زندگی میں بہت آگے لے کر جاتی ہیں اور زندگی کے ہرمرحلے میں کام آتی ہیں۔‘

اقرا عزیز کے شوہر یاسر حسین نے حال ہی میں اقرا عزیز اور ان کی والدہ کی ایک تصویر اپنے انسٹاگرام پر شیئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’پاکستان کی پہلی کریم ڈرائیور آسیہ عزیز اپنی بیٹی اقرا عزیز کے ساتھ اس کی نئی گاڑی میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ پاورفل (طاقتور) عورتوں کے چہروں پر الگ ہی چمک ہوتی ہے۔‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے اقرا نے بتایا کہ جب ان کی امی نے ٹیکسی سروس کریم چلانے کا فیصلہ کیا تو انھیں بہت فخر محسوس ہوا۔

’میں اور میری بہن، ہم نے بہت فخر محسوس کیا کہ وہ کچھ ایسا کرنے والی ہیں جس کے بارے میں کسی نے شاید سوچا تو ہو گا لیکن ہمت نہیں کی ہو گی۔‘

’یاسر کو مجھ سے پہلی نظر میں پیار ہو گیا‘

اپنے شوہر یاسر حسین سے پہلی ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقرا نے بتایا کہ دونوں کی ملاقات بیرون ملک ایک ایوارڈ تقریب میں ہوئی۔

’ہماری پہلی ملاقات ٹورنٹو میں ’ہم ایوارڈز‘ کے دوران ہوئی اور اس کے بعد ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا شروع کر دیا۔۔۔ ہم ساتھ شاپنگ پر جاتے، ساتھ کھانا کھاتے، ہم جس وقت میں بھی ہوتے اسے انجوائے کرتے۔‘

’یاسر کو مجھ سے پہلی نظر میں پیار ہو گیا لیکن مجھے تھوڑا وقت لگا لیکن پھر مجھے ایک ماہ میں ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ سب ہمیشہ کے لیے ہے۔‘

اقرا عزیز کے شوہر اور کامیڈین یاسر حسین نے انھیں لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب کے دوران سب کے سامنے پروپوز کیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس جوڑے کو شدید ٹرولنگ اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس بارے میں اقرا کہتی ہیں کہ انھیں اس بارے میں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے تاہم خود پر ہونے والی تنقید کے بارے میں اقرا کہتی ہیں سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ مجھے علم تھا یا نہیں۔

’ایک لڑکے نے پورے معاشرے کے سامنے ایک لڑکی کو عزت دی اور کہا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، تمہیں اپنے گھر کی عزت بنانا چاہتا ہوں اور اپنانا چاہتا ہوں لیکن لوگ اس بارے میں بات نہیں کرتے بلکہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مجھے پتا تھا یا نہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ انھیں یاسر حسین کی کون سی باتیں بری لگتی ہیں اقرا نے کہا کہ اگر انھیں یاسر کی کوئی چیزیں بری لگتیں تو وہ ان سے شادی ہی کیوں کرتیں۔

اقرا نے کہا کہ یاسر عورتوں کی بہت عزت کرتے ہیں اور یہ بات انھیں سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔

’جب آپ کی فیملی اتنی بڑی ہو، آپ نو بہنوں میں پلے بڑھے ہوں، اس میں آپ کا ماحول ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ایسے رہے ہیں کہ عورتوں کی عزت کرنا، وہ عورتوں کے پیٹھ پیچھے بھی ان کے بارے میں کوئی منفی سوچ نہیں رکھتے یا بات نہیں کرتے۔‘

’آج کل کی شہرت کو شہرت نہیں سمجھتی‘

بہت کم ہی عرصے میں اتنی شہرت حاصل کرنے والی اقرا اس بارے میں خوش تو بہت ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس شہرت کو شہرت نہیں سمجھتی ہیں۔

اقرا عزیز

BBC

وہ کہتی ہیں ’یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لوگ میرے کام کو پسند کرتے ہیں مجھے پہچانتے ہیں یہ بہت بڑی بات ہے لیکن اصل شہرت ہمارے پرانے آرٹسٹس کے پاس تھی۔‘

’وہ سوشل میڈیا پر ہر طرف نظر نہیں آ تے تھے، لوگوں کو علم نہیں ہوتا تھا کہ ان کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے؟ آج وہ کیسے لگ رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں ان کا گھر کیسا ہے، ان کے شوق کیا ہیں؟ نہ اتنے انٹرویو ہوتے تھے نہ سوشل میڈیا کا دور ہوتا تھا لیکن پھر بھی لوگ آپ کو اتنا پیار کرتے تھے، آپ کو خط لکھتے تھے۔۔۔ لیکن اب اپنے پسندیدہ اداکار کے بارے میں جاننے کے بارے میں لوگوں میں وہ تجسس نہیں رہا۔‘

’کہانی سن کر ہی احساس ہو جاتا ہے کہ یہ کردار کرنا ہے یا نہیں‘

ڈرامہ ’خدا اور محبت‘ جس کا تیسرا سیزن آج کل جیو انٹرٹینمنٹ پر دکھایا جا رہا ہے، کے بارے میں اقرا عزیز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ڈرامے کے پہلے سیزن ایک ایسے وقت میں دیکھے جب وہ اپنے کرئیر کا آغاز کر رہی تھیں۔

’یہ بات ہی کچھ اور ہوتی ہے کہ آپ نے ایک وقت پر ایک پروجیکٹ دیکھا ہو۔۔۔ جو آپ کو پسند بھی آیا ہو، جب آپ کچھ بھی نہیں تھے اور کرئیر شروع کرنے والے ہوں اور پھر وہی نام اور پروجیکٹ ایک مختلف سٹوری کے ساتھ آپ کو مل جائے تو یہ ایسا تھا کہ میرا کوئی خواب پورا ہو گیا۔‘

تاہم ڈرامہ ’خدا اور محبت‘ پر ناقدین کی یہ رائے کہ یہ حقیقت سے قریب تر نہیں۔ اس بارے میں اقرا عزیز کہتی ہیں کہ اگر انڈین فلم ’دیوداس‘ کی بات کی جائے تو کیا وہ حقیقت سے قریب تر تھی؟

’دیوداس میں جس زمانے کو دکھایا جا رہا تھا کیا اس میں لڑکی کا ایسا لائنر اور آنکھیں(میک اپ) ممکن تھا۔‘

کسی بھی سکرپٹ کے انتخاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقرا کا کہنا تھا کہ میں فوراً محسوس کر لیتی ہوں کہ مجھے یہ کرنا ہے یا نہیں کرنا۔

’کہانی سن کر ہی احساس ہو جاتا ہے کہ یہ کردار کرنا ہے یا نہیں اور ایک بار کوئی فیصلہ لے لیا تو اس کے بعد میں اس بارے میں نہیں سوچتی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں کسی ریس یا مقابلے کا حصہ نہیں کہ میں ہر چیز کر لوں، میں نہیں دیکھتی کہ کون کیا کر رہا ہے اور میں کر رہی ہوں۔ میری ہمیشہ یہ سوچ رہی ہے کہ میں اپنے کام کو بہتر بنانے کے لیے کیا کر رہی ہوں اور اسی وجہ سے میں دماغی طور پر کافی پر سکون ہوں۔‘

فلموں میں کام کرنے کے حوالے سے اقرا نے بتایا کہ جب بھی انھیں محسوس ہوا یہ ایک اچھی فلم ہے اور انھیں بڑی سکرین پر کام کرنا چاہیے تو وہ ضرور کفلم می ںکام کریں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18960 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp