سیاسی مطلع کیا کہتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور مقولہ ہے ”کراچی کے موسم، محبوب کے مزاج اور پاکستان کی سیاست کا کوئی اعتبار نہیں۔“ کراچی کے موسم اور محبوب کے مزاج کے بارے میں تو شاید کوئی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، لیکن ہمارے ملک کی سیاست کب کیا کروٹ لے اور کب کیا رخ اختیار کرے کچھ پتا نہیں ہوتا۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم حکومت کے لیے خطرہ بنتا نظر آ رہا تھا۔ پی ڈی ایم کے راہ نما جلسوں کے ذریعے اپنی تحریک کا سلسلہ دراز کیے جا رہے تھے، حکومت مخالف تحریک اور لانگ مارچ کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ان رہنماؤں کی باتوں اور بلند دعوؤں کے ساتھ کی جانے والی تقاریر سے لگتا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور وہ جانے والی ہے، لیکن پھر سیاست کے افق پر نئے منظر ابھرنے لگے۔

پی ڈیم ایم میں منتخب ایوانوں سے حزب اختلاف کے ارکان کے مستعفی ہونے کے معاملے پر پھوٹ پڑی، آصف زرداری نے نواز شریف کو وطن واپس نہ آنے کا طعنہ دیا، جواب میں مریم نواز پیپلز پارٹی پر برسیں، یوسف رضا گیلانی ”باپ“ کے ووٹوں کی مدد سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر ہو گئے، جس پر مسلم لیگ نون اور جمعیت علمائے اسلام ف نے پیپلز پارٹی پر بڑی لعن طعن کی یہاں تک کہ اس ایشو پر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو پی ڈی ایم کی قیادت نے شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔

شوکاز نوٹس جاری کرنے کے اس اقدام سے ایسا محسوس ہوا جیسے پی ڈی ایم سیاسی اتحاد نہ ہو کوئی کمپنی یا ادارہ ہو، جو کسی الزام پر اپنے ملازمین کو اظہاروجوہ کے نوٹس جاری کر دے۔ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے اس اقدام کو اپنی تذلیل محسوس کیا، جو کہ غلط نہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کر لی اور بلاول بھٹو نے اپنی جماعت کے اجلاس میں پی ڈی ایم کی قیادت کا جاری کردہ شوکاز نوٹس پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

حزب اختلاف میں ٹوٹ پھوٹ کے یہ منظر ابھی سامنے آ ہی رہے تھے اور حکومت کے مضبوط ہونے کا تأثر بڑھتا جا رہا تھا کہ جہانگیرترین کے معاملے نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ پی ڈی ایم کی طرح حکومت کے دروازے پر بھی بحران دستک دے رہا ہے۔ جہانگیرترین پر بننے والے مقدمات، ان کے اکاؤنٹس کی بندش اور پیشیاں بتا رہی ہیں کہ اس سب کے نتیجے میں وزیراعظم اپنے حامیوں کو یہ تأثر دینے میں تو شاید کامیاب ہو جائیں کہ وہ شفاف اور غیرجانب دارانہ احتساب پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا کوئی قریبی ساتھی بھی بدعنوانی میں ملوث ہو تو اسے بھی وہ معاف کریں گے نہ این آر او دیں گے، لیکن اس طرح اپنے حامیوں اور عوام کو خوش کرنے میں وہ جہانگیرترین ہی نہیں ان کے کتنے ہی دوستوں کو ناراض کر بیٹھے ہیں۔ اور اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ ان ناراض دوستوں میں ایک بہت بڑی تعداد قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے ارکان پر مشتمل ہے۔

گزشتہ دنوں جب وہ اپنے خلاف درج کیے جانے والے مقدمات میں عبوری ضمانتوں کی توسیع کے لیے سیشن کورٹ اور بینکنگ کورٹ پہنچے تو کئی اراکین اسمبلی بھی ان کے ساتھ تھے، اس موقع پر ان پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کی گئیں۔ اگرچہ جہانگیرترین کھل کر کہہ چکے ہیں کہ وہ عمران خان کے مقابل نہیں آ رہے، لیکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جہانگیر ترین کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ اپنے دور تک پھیلے روابط اور اراکین اسمبلی کی ایک مؤثر تعداد کی حمایت کی بناء پر حکومت کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ جہانگیر ترین کا اگلا قدم کیا ہوگا اور وہ کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے، لیکن محتاط سیاست کرنے والے اور بہ حیثیت صنعت کار فائدے اور نقصان کو پوری طرح سامنے رکھ کر فیصلے کرنے کے عادی جہانگیر ترین جانتے ہیں کہ وہ عمران خان کے مدمقابل آ کر اپنی مشکلات کم نہیں کریں گے بلکہ ان میں اضافہ کر لیں گے، اس لیے امکان یہی ہے کہ ان کے حوالے سے حکومت کو درپیش خدشات پورے نہیں ہو سکیں گے۔

حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ جہانگیرترین کا ایشو ایسے وقت میں اٹھا ہے جب حزب اختلاف کی صفوں میں انتشار ہے اور وہ موقع سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔

اگر حزب اختلاف یعنی پی ڈی ایم کی بات کریں تو وہ اب صرف دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ پر مشتمل رہ گیا ہے۔ اب یہ امکان واضح ہوتا جا رہا ہے کہ عنقریب ایک نیا سیاسی اتحاد جنم لے گا، یوں ملک تین سیاسی فریقوں کے درمیان جنگ کا اکھاڑہ بن جائے گا۔ یعنی حکومت، پی ڈی ایم اور نیا سیاسی اتحاد۔ یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے راستے جدا کر لینے کے بعد نئے سیاسی اتحاد کے قیام کے لیے کوششیں تیز کر چکی ہے۔

ایک ایسا پلیٹ فارم پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے جو اسے ملک گیر سطح پر متحرک اور فعال رکھے۔ اس نئے سیاسی سفر میں عوامی نیشنل پارٹی کے پیپلز پارٹی کے ساتھ چلنا طے شدہ ہے۔ حکومت کے وہ مخالفین بھی پیپلز پارٹی کی زیر قیادت متوقع بلکہ یقینی طور پر تشکیل پانے والے نئے سیاسی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں جو نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کے ساتھ چلنے میں تحفظات کا شکار رہے ہیں۔ ایسے سیاسی رہنماؤں میں مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد کا نام سرفہرست ہے، جو اپنے راستے مولانا فضل الرحمٰن سے جدا کر چکے ہیں۔ ممکنہ طور پر وہ جے یوآئی کا نیا گروپ بنا کر متوقع سیاسی اتحاد کا حصہ بن جائیں گے۔

رہی کراچی کی وہ سیاسی جماعتیں جو حکومت کے ساتھ ہیں نہ پی ڈی ایم کے، جیسے مہاجرقومی موومنٹ، پاک سرزمین پارٹی اور ڈاکٹرفاروق ستار کی زیرقیادت ایم کیو ایم کا دھڑا، تو وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ چل کر ہونے والا سیاسی نقصان برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے ان کے نئے سیاسی اتحاد میں شامل ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے بغیر سیاست کرنے والے پی ڈی ایم میں شامل ہو جائیں۔

اس حقیقت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ نئے سیاسی اتحاد کا قیام حزب اختلاف کو نقصان پہنچائے گا اور حکومت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ یہ اتحاد حکومت نہیں دراصل پی ڈی ایم کے خلاف بننے والا اتحاد ہو گا، یوں حکومت کے خلاف معرکہ آرائی آپس کی جنگ میں بدل جائے گی۔ اب تک کا سیاسی مطلع تو یہی کہہ رہا ہے، لیکن کب کیا بدل جائے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *