ہمیں بابے اچھے نہیں ملے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ایک وقت تھا جب کھوٹا سکہ چلانا ہی سب سے بڑی بے ایمانی ہوتی تھی“ اگر آپ بھی سوشل میڈیائی بابوں کی یہ ناسٹیلجک پوسٹ کہیں دیکھیں تو کمنٹس میں ضرور لکھیں کہ ”جی اب وہی نسل بڑی ہو گئی ہے اور سب اسی کا کیا بھگت رہے ہیں“

ہمارے سماج میں تو بابوں کا عمل دخل بہت پہلے سے تھا۔ البتہ ادب میں ان کی انٹری اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی کی مرہون منت ہے۔ ان حضرات کا کم و بیش سارا ادب ہی بابوں سے عبارت ہے۔ وہ اردگرد ہونے والی ہر اچھی بات کسی نہ کسی بابے کے سر ڈال دیا کرتے تھے۔ لیکن آپ ہمارا دکھ بھی ملاحظہ کریں کہ ہمیں بابے ہی اچھے نہیں ملے۔

نویں جماعت میں ہمیں سرما کی تعطیلات میں سکول بلایا جاتا تھا۔ دوسرے تیسرے روز چھٹی کے وقت ایک بابا جی بس اسٹینڈ پر مل گئے۔ مجھے بستہ اٹھائے دیکھا تو ان کے اندر کے ناصح نے انگڑائی لی۔ پہلے ایک سیر حاصل لیکچر پلایا جس کا ماحصل یہ تھا کہ ان کا دور بہت اچھا تھا اور سب طالب علم فرفر انگریزی بولا کرتے تھے۔ پھر میرا امتحان لینے پر تل گئے۔ پوچھنے لگے: ”میں نویں جماعت میں پڑھتا ہوں، اس کا انگریزی میں ترجمہ کرو“ ۔

اپنے تئیں میں نے پر جوش جواب دیا؛ I read in class nine۔
وہ برانگیختہ ہو گئے، بولے : ”بالکل غلط، کون پڑھاتا ہے تمہیں؟“

انگریزی کے استاد کا نام سنا تو ان کی شان میں دو چار فصیح گالیاں بکنے کے بعد میری تصحیح کی کہ درست ترجمہ یوں بنے گا: I am a student of class nine۔

پھر چشمے کی طرف اشارہ کر کے کہا اسے انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟

” پتہ نہیں“ اپنے تئیں میں نے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ چمک اٹھے۔ ہاتھ ملا کر بولے : ”بالکل درست! Spectacles ہی کہتے ہیں“ ۔ میں ہکا بکا سا ادھ رکی گاڑی میں اچھل کر سوار ہو گیا اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا مبادا وہ خدا حافظ کی آواز ہی لگا دیں۔

ایک مقامی کالج میں کیمسٹری کے عارضی اسسٹنٹ لیکچرر مقرر ہوئے تو ایک دن کوئی بزرگ اپنے پوتے کی رپورٹ لینے آئے۔ میری شامت یوں آئی کہ پیریڈ فری تھا اور آفس میں اکیلا بیٹھا تھا۔ انہوں نے باتوں باتوں میں جھٹ سے دور پار کی رشتہ داری نکال لی اور پھر لگے میرا امتحان لینے۔ امتحان سے پہلے وہ ”ہمارا دور بہت اچھا تھا“ کی یاددہانی کرانا نہیں بھولے تھے۔ میں نے بہت پس وپیش کی کہ کیمسٹری پڑھاتا ہوں لیکن وہ مصر ہو گئے کہ نہیں ٹیسٹ تو انگریزی کا ہی ہو گا۔ مجھے مزید جلانے کو بولے کہ اب تک پچیس اساتذہ سے پوچھ چکا ہوں۔ کوئی بھی نہیں بتا سکا۔

میں بھولپن میں پرجوش ہو کر ان کے دام میں آ گیا۔ وہ زیر لب مسکرائے اور بولے :

I do homework کا منفی جملہ بنائیں۔ میں نے تین چار دفعہ جملہ دہرایا تو چڑ گئے۔ ان کی ”گھرکی“ کے ڈر سے فٹاک سے بول پڑا : I don ’t homework ، وہ اچھل پڑے۔ ”چھبیس فیل ہو گئے، ہمارا دور ہی بہت اچھا تھا۔“

میں نے دوسری ٹرائی مانگی۔ انہوں نے چند لمحے سوچا اور پھر فراخ دلی سے دے دی۔ ٹرائی بھی کیا تھی؟ میں نے گھبراہٹ میں بتانے والے کم اور زیادہ پوچھنے والے انداز میں کہا کہ: I don ’t do homework

ان کی روشن آنکھیں یک دم بجھ گئیں۔ چند ثانیے دائیں بائیں دیکھنے کے بعد بادل نخواستہ میری پیٹھ تھپتھپا کر بولے : ”بالکل درست! تم بہت آگے جاؤ گے“ اس کے بعد انہوں نے پندرہ منٹ انگریزی گرامر پر گفتگو کی جو حسب معمول میں نے سر ہلاتے ہوئے بند کانوں کے ساتھ سنی۔

اب کوئی بابا محو گفتگو نظر آئے تو میں فوراً اس کی ہاں میں ہاں ملا دیتا ہوں۔ اس سے معاملات قابو میں رہتے ہیں اور بات کسی جانچ پڑتال تک پہنچنے سے پہلے منطقی انجام تک پہنچانے میں آسانی ہوتی ہے۔ بات عموماً ان سب کی وہی ایک ہوتی ہے کہ ”ہمارا دور بہت اچھا تھا۔ وغیرہ وغیرہ“

پچھلے دنوں ایک بابا جی سکول تشریف لائے اور ایک نئے حربے سے حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے ایک پرچہ ساتھی استاد کی طرف بڑھایا اور دعویٰ کیا کہ انگریزی کے پروفیسر بھی اس فقرے کا ترجمہ نہیں کر سکے۔ وہ اللہ لوک پرچے سمیت سکول بھر کے اساتذہ سے ترجمہ پوچھتے پھرنے لگے۔ مجھ تک پہنچے، جملہ دکھایا اور داد رسی کے طالب ہوئے۔ فقرہ یہ تھا:

Laksman ’s enmity is decree of freedom for Ram

یہاں گوگل بابا کام آیا اور چند ویب سائٹس کھنگالنے کے بعد کھوج مل گیا کہ کیوں کوئی پروفیسر اس کا سراغ لگانے میں ناکام رہا تھا۔ دراصل یہ کوئی انگریزی کی کہاوت تھی ہی نہیں۔ یہ مہا بھارت سے اخذ شدہ ہندو مت کی کسی روایت کا ترجمہ تھا۔ جس کو اردو میں یونہی لکھا جاسکتا تھا کہ ”لکشمن کی دشمنی رام کے لیے آزادی کا پروانہ تھا“ ۔

یہ بات بابا جی کو بتائی تو انہوں نے حکم صادر کیا کہ لکھ کر دو۔ لکھ کر دیا تو انہوں نے پرچی جھپٹ کر جیب میں ڈال لی۔ صاف ایسا لگ رہا تھا جیسے خود انہیں بھی اس کا علم نہیں تھا اور وہ کسی سے شرط لگا کر ترجمہ ڈھونڈنے نکلے تھے۔

آپ انہی واقعات سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارے بابوں کی ترجیحات کیا ہیں؟ یاد رکھیں ہم تب تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک میاں چنوں کے سوامی ویویک آنندا کے اس قول پر عمل نہیں کر لیتے کہ ”تم مجھے اچھے بابے دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *