EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

شام کی خبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سگے بیٹے نے اپنے ہی باپ کو سفاکی سے ذبح کر ڈالا۔“

یہ شام کے اخبار کی نمایاں سرخی تھی۔ اول تو وہ صبح کا اخبار بھی نہیں دیکھتا تھا، دوئم یہ کہ شام کے اخبار کو نری فسانہ طرازی سمجھتا تھا، لہاذا خریدنے کا کیا سوال۔ وہ آئی آئی چندری گر روڈ کے پہلو کی ایک گلی کے چائے خانے پر بیٹھا، ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں اطراف میں ٹیلی ویژن چینل، اخبار کے دفاتر ہیں، تو کچھ بنکوں کی شاخیں بھی قائم ہیں۔ اس کے سامنے میز پر شام کا اخبار پڑا تھا۔ وہ چائے پیتے وقت گزاری کے لیے اسے دیکھنے لگا۔

” (کرائم رپورٹر) علاقہ غیر سے تعلق رکھنے والے پچپن سالہ اختر خان کو اس کے تئیس سالہ بیٹے مسکین خان نے چھری کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تفصیل کے مطابق، اورنگی ٹاؤن کا سکونتی اختر خان تیس سال سے کراچی میں چوکی داری کا کام کر رہا تھا۔ آج صبح اس کے سگے بیٹے نے اسے بے دردی سے ذبح کر ڈالا۔“

اس نے اتنا پڑھ کے اخبار کو گود میں رکھ لیا، تا کہ پیالی سے ٹپکنے والے چائے کے قطرے اس کے لباس کو آلودہ نہ کر دیں۔ ایسے چائے خانوں میں چائے پیش کرتے پرچ میں ضرور گرائی جاتی ہے۔ نہ جانے اس میں کیا حکمت ہے! کلائی گھڑی پہ نظر کی تو چار پینتیس کا عمل تھا۔ اس کے دوست کو پانچ بجے چھٹی ہونا تھی۔ ابھی وقت تھا۔ کبھی کبھی تیز میٹھے کی چائے ٹانک کا کام کرتی ہے۔ چائے پیتے ہی جسم میں توانائی محسوس ہوئی۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، وہ گود سے اخبار اٹھا کے ٹائم پاس کے لیے اندرونی صفحہ دیکھنے لگا۔

”بقیہ 3 : چھپ چھپ کے دیکھتا ہے۔ ایک بار وہ کمرے میں کپڑے بدل رہی تھی، تو اس نے اپنے سسر کو دروازے کے پیچھے سے جھانکتے دیکھا۔ اس نے اس کی شکایت اپنے شوہر سے کی، تو شوہر نے اسے جھوٹا کہا۔ وہ اس بات پر غصہ ہوا کہ وہ اس کے فرشتہ سیرت باپ پر بہتان باندھ رہی ہے۔“

خبر کی ابتدائی سطریں پڑھنے کے لیے اسے فرنٹ پیج پر آنا پڑا۔

” (کرائم رپورٹر) مبینہ طور پہ تئیس سال پہلے، مقتول اختر خان کی بیوی اس کے بیٹے کو جنم دیتے انتقال کر گئی تھی۔ اختر خان کی شادی کے سات سال بعد منتوں مرادوں سے اس کا بیٹا مسکین خان پیدا ہو ا تھا۔ بد نصیب باپ نے شیر خوار مسکین خان کو پرورش کے لیے گاؤں میں اس کے دادا دادی کے پاس چھوڑا اور خود وا پس کراچی آ کے مزدوری کرنے لگا۔ محلے داروں کا کہنا ہے، مقتول نے اس لیے دوسری شادی نہیں کی تھی کہ سوتیلی ماں نہ جانے اس کے بیٹے کے ساتھ کیسا سلوک کرے۔ اختر خان کے پڑوسی انور علی نے دکھ کا اظہار کرتے کہا، جس بیٹے کے لیے اس نے اتنی بڑی قربانی دی، اسی نے۔ بقیہ 7، صفحہ 3۔“

اس نے صفحہ تین دیکھنے کے بہ جائے، اس کو خبر کو تلاش کیا، جسے صفحہ 3، بقیہ 3 میں دیکھ کے آیا تھا۔

” (کرائم رپورٹر) مقتول اختر خان کراچی کی ایک فیکٹری میں چوکی داری کرتا تھا۔ بیٹا جوان ہوا، تو اسے گاؤں سے شہر لے آیا۔ اسی فیکٹری میں جہاں وہ ملازم تھا، بیٹے کو رات کی شفٹ میں چوکی دار بھرتی کروا دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف چھہ مہینے پہلے اس نے بیٹے کی شادی کی تھی۔ مقتول کے افسر کا کہنا ہے کہ مقتول اچھے چال چلن کا مالک تھا۔ اسے اپنے بیٹے کا اتنا خیال تھا کہ اس نے بیٹے کی شادی کے فوراً بعد، خود اپنے لیے رات کی شفٹ کا انتخاب کیا، اور بیٹے کو دن کی شفٹ دلوا دی۔

معمول یہ تھا کہ بیٹا ڈیوٹی پر پہنچتا، تو باپ گھر چلا جاتا۔ جب کہ دوسری طرف مقتول کی بہو اور قاتل کی بیوی ش نے الزام لگایا کہ اس کا سسر اختر خان اسے بد نظر سے دیکھتا تھا۔ ش نے روتے ہوئے بتایا کہ اختر خان اس پر بری نظر رکھتا تھا۔ اس نے اس بابت اپنے شوہر مسکین خان کو اشارے کنائے میں بتایا، جس پر اس کے شوہر نے یقین نہ کیا، اور الٹا اسی کو برا بھلا کہا۔ پہلے پہل ش کو شک ہوا کہ جب وہ نہانے کے لیے غسل خانے میں جاتی ہے، تو کوئی اسے۔ بقیہ 3، صفحہ 3۔“

گھڑی دیکھی تو پانچ بجنے میں دس منٹ باقی تھے۔ انتظار میں وقت کاٹنا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے چائے کے ایک اور کپ آرڈر کیا۔ وقت گزاری کے لیے اخبار دیکھنے کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ نہ تھا۔

”قاتل مسکین خان نے بیوی پر ہاتھ بھی اٹھایا کہ وہ اس گھر میں نہ رہنے کے لیے، اس کے باپ کی کردار کشی کر رہی ہے۔ ش نے کہا کہ اسے یقین نہیں، تو وہ خود دیکھ لے کہ اس کا باپ کیسا ہے۔ مبینہ طور پر آج جب اختر حسین ڈیوٹی ختم کر کے گھر لوٹا، تو کچھ ہی دیر بعد مسکین خان پیچھے پیچھے چلا آیا۔ وہ دیوار پھلانگ کے گھر میں داخل ہوا، تو اس نے ایک ایسا منظر دیکھا، جسے دیکھ کے اسے جوش آ گیا، اور وہ باورچی خانے سے چھری اٹھا لایا۔ پھر باپ کو نیچے گرا کے اس کے سینے پر پے در پے وار کیے، آخر میں اس کے گلے پر چھری چلا دی۔“

چائے کا دوسرا کپ اس کے سامنے میز پر دھرا تھا، اور حسب توقع پرچ میں چائے گری ہوئی تھی۔ اس نے چائے کا کپ اٹھانے سے پہلے، احتیاطا، اخبار کو گود میں رکھ لیا۔ اخبار کے صفحے پر جلی حروف میں لکھا دکھائی دے رہا تھا، ”میں نے اپنے باپ کو مار کے بہت بڑا ظلم کیا۔“

اس نے کپ کے پیندے کو اخبار کے کونے سے مس کر کے خشک کیا، تا کہ قطرے اس کے لباس پر نہ گریں۔ پھر پرچ کو سرکا کے اپنے سے دور کر دیا، اور اس خبر کی تفصیل پڑھنے لگا۔

” (کرائم رپورٹر) حوالات کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے مسکین خان نے روتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے باپ کو قتل کر کے اچھا نہیں کیا۔ مسکین خان نے کہا کہ جب میں اپنے بابا کو فرش پہ گرا کے اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا، تو بابا نے بالکل بھی مزاحمت نہیں کی۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، جیسے وہ شرمندہ ہوں۔ مجھ سے معافی مانگ رہے ہوں۔ میرا دل پسیجا۔ میں نے چاہا کہ میں اپنا ہاتھ روک لوں، مگر میں روک نہ پایا، اور میں نے اپنے ہی بابا کے گلے پر چھری پھیر دی۔ ملزم بار بار اپنا سر پیٹتا تھا، اور کہتا جاتا تھا کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی۔ کاش! میں نے باپ کی بات سن لی ہوتی، اسے کچھ کہنے کا موقع دیا ہوتا۔ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔ بقیہ 4، صفحہ 3۔“

صفحہ 3، بقیہ 4 تلاش کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ اسے جس دوست کا انتظار تھا، وہ اس کے ساتھ آ بیٹھا۔

”ابے چھوڑ، یہ تو کیا ذوق و شوق سے اخبار دیکھ رہا ہے۔ وہ بھی شام کا اخبار، جس میں چٹ پٹی خبریں ہوتی ہیں! بارہ مسالوں کی چاٹ۔“

”بور ہو رہا تھا، تیرا انتظار کرتے۔ یونہی ٹائم پاس کرنے کو دیکھ رہا تھا۔“

اس کی نگاہ اپنے دامن پر گئی، تمام تر احتیاط کے با وجود نہ جانے کیسے اس کے لباس پر چائے کا دھبا پڑ گیا تھا۔

”او یار۔ شٹ۔ وہی ہوا جس سے بچ رہا تھا۔“
دوست نے میز پر رکھا پانی کا جگ آگے کھسکایا۔ ”یہ لے دھو لے، اسے۔ کہیں داغ پکا نہ ہو جائے۔“

پانی بہانے سے داغ مدھم پڑ گیا۔ وہ لوٹ کر اپنی جگہ آیا، تو اس کے منہ سے پہلا جملہ یہ نکلا۔ ”تو ٹھیک کہتا ہے! ۔ مجھے شادی کر لینی چاہیے۔ آخر فیروزہ کی بے وفائی کو کب تک یاد رکھوں گا۔ نئے سرے سے زندگی شروع کرنی ہے، مجھے۔“

دوست کے چہرے پر حیرت ہی حیرت تھی۔ ”اور تیرا بیٹا؟ تو تو کہتا تھا، میں اس کے لیے ساری عمر ایسے ہی گزار دوں گا؛ تنہا!“

”تنہا رہنے کا کون سا زمانہ ہے! اور پھر اولاد کے لیے کچھ بھی کر لو، وہ کب اپنی ہوتی ہے۔ کل کو جوان ہو کر، نہ جانے کب، کس بات پر، طیش میں آئے اور گلے پہ چھری پھیر دے!“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 319 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے