ویکسین، چوری اور چند گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی گزارش قیمت سے متعلق ہے ، پاکستان میں اس کی قیمت بہت ہی زیادہ ہے۔ انڈیا میں یہی ویکسین اڑھائی سو (250) روپے میں لگائی جا رہی ہے۔ وہاں کے صف اول کے اخبار انڈیا ٹو ڈے کے مطابق اس کے چارجز اڑھائی سو روپے ہوں گے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ چارجز صرف سرکاری ہسپتالوں کے ہوں بلکہ تمام پرائیویٹ ہسپتالوں کے بھی انہی چارجز کا پابند بنایا گیا ہے۔ جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت سات سو تیس ( 730 ) روپے بتائی جا رہی ہے۔

اس سے زیادہ کا عدد تاحال معلوم نہیں ہو سکا۔ جبکہ پاکستان میں اسی ویکسین کی قیمت بارہ ہزار (12000) سے سترہ ہزار روپے (17000) تک ہے۔ حکومت خود ہر وقت مافیا مافیا کا شور مچائے رکھتی ہے لیکن صورتحال ”میری بکل دے وچ چور“ والی ہے۔ حکومت بجائے اس کے خود ویکسین درآمد کرتی، الٹا پرائیویٹ کمپنیوں کو اجازت دی اور چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی بجائے انہیں کھلی چھوٹ دے دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انڈیا میں جس ویکسین کی قیمت ہزار روپے سے بھی کم ہے، اس کی قیمت پاکستان میں آٹھ ہزار روپے تک پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ جب آٹھ ہزار قیمت کی بازگشت ہوئی تو ٹرانسپیرنسی کی طرف سے اعتراض بھی آیا کہ اصل لاگت کے اعتبار سے یہ قیمت بہت زیادہ ہے لیکن ”الٹی ہی چال چلتے ہیں میرے صادق و امین“ ۔ عوام شور مچانے کی بجائے اہل حکومت کی اہلیت کے جام لنڈھاتی رہی اور الٹا شور بھی میڈیسن مافیا نے مچایا جس پر ”اینٹی مافیا“ حکومت نے رحم کھاتے ہوئے انہیں از حد قیمت مقرر کرنے کی اجازت دی اور اس طرح قیمت بارہ ہزار سے تجاوز کرتی ہوئی سترہ ہزار تک پہنچ گئی۔ حکومت خود کو اس معاملے میں یوں بھی بے بس محسوس کرتی ہے کہ اس کا ملبہ نواز شریف پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا۔

دوسری گزارش خود ویکسین کے متعلق ہے ، پاکستان میں روسی سپٹنک فائیو (Sputnik V) ویکسین لگائی جا رہی ہے جس سے متعلق خود روس کے لوگوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ مشہور برٹش میڈیکل جرنل (The BMJ) نے اس بارے ایک تحقیقی آرٹیکل شائع کیا ہے۔ یہ رسالہ ایک سو اسی سالہ پرانی مشہور برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (BMA) کے تحت شائع ہوتا ہے۔ مزید تسلی اور تشفی کے لیے اس جرنل کی تحقیق سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت اللہ بہتر جانتا ہے یا کوئی ماہر ڈاکٹر ہی اس پر رائے دے سکتا ہے ، میں صرف ایک رجحان کا بتا رہا ہوں۔

خود کمپنی کی طرف سے اس ویکسین کی زیادہ سے زیادہ قیمت دس ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے اس کی قیمت لگ بھگ پندرہ سو روپے ہونی چاہیے تھی لیکن یہ بارہ ہزار سے لے کر پندرہ ہزار تک لگائی جا رہی ہے۔ سننے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ امپورٹر بارہ ہزار کی درآمد کر رہا ہے جبکہ اوپر کا پیسا ہسپتالوں والے انجیکشن لگانے کے نام پر کما رہے ہیں۔ مارکیٹ میں اس وقت دو طرح کی ویکسین دستیاب ہیں۔ ایک کو ڈی این اے (D N A) بیسڈ ویکسین کہتے ہیں جبکہ دوسری آر این اے بیسڈ ویکسین کہلاتی ہے۔

روسی ویکسین سپٹنک فائیو ڈی این اے بیسڈ جبکہ امریکی ویکسین پی فائزر (Pfizer) آر این اے بیسڈ ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ماہرین کے مطابق اگر یہ عمل نقصان دہ ہوا تو ڈی این اے بیسڈ ویکسین کا نقصان زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ آر این اے بیسڈ ویکسین بھی سائیڈ افیکٹس سے مکمل پاک نہیں ہے کیونکہ یہ بھی جا کر سیل میں نئے پروٹین بنائے گی جس کا لمبے عرصے کے لیے سائیڈ افیکٹس کا کوئی علم نہیں۔ فائیزر کے بارے میں بھی یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک آپ کی حفاظت کرے گی۔ کیا حکومت نے ان تمام عوامل پر غور کیا ہے؟

تیسری گزارش ویکسین چوری سے متعلق ہے ، خبر یہ ہے کہ ویکسین چوری ہو گئی ہے۔ چوری والی بات کو ”جوک آف دی سینچری“ کا ایوارڈ ملنا چاہیے۔ حکومت کا کام خبر دینا نہیں بلکہ چوری کی واردات کو روکنا اور اگر چوری ہو جائے تو چوروں کو پکڑنا ہے۔ اگر چوری ہوئی ہے تو یہ کسی عام فرد واحد کا کام تو ہو نہیں سکتا بلکہ اس کے پیچھے کسی خاص کا ہاتھ ہو گا۔ کیا حکومت بتانا پسند کرے گی کہ ویکسین کہاں رکھی گئی تھی؟ وہاں کیمرے تھے یا نہیں؟

حفاظت کس کی ذمہ داری تھی؟ چوری کے اوقات میں ڈیوٹی کس کی تھی؟ اس سے پوچھا گیا یا نہیں اور تفتیش کہاں تک پہنچی ہے؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ویکسین ”پیاروں“ کو لگا دی گئی اور کاغذی کارروائی پوری کرنے کے لیے اس ”لگائی گئی ویکسین“ کو چوری کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ ویکسین کے لیے رجسٹریشن ہوتی ہے، فرض کریں کہ ایک دن میں ہزار بندوں کو ویکسین لگنا تھی، بیچ میں دس بندے ایسے آئے جنہیں بنا کسی رجسٹریشن اور قطار کے کسی ”فون کال“ یا ”سفارش“ پر ویکسین لگا دی گئی۔

مزید یہ ہوا کہ ایسے ہی دس ”با اثر“ افراد کو گھروں میں ویکسین لگا دی گئی تو رجسٹریشن کے لحاظ سے اس دن ویکسین کے سٹاک سے ہزار خوراکیں کم ہونا تھیں لیکن ان بیس ”اوپر“ کے افراد کی وجہ سے بیس خوراکیں مزید کم ہو گئیں جو کسی کاغذی کارروائی میں بھی نہیں ڈال سکتے کیونکہ ان بیس افراد کی اس دن رجسٹریشن ہی نہیں تھی۔ لہٰذا موٹی گردنیں بچانے کے لیے ”ٹھکانے“ لگی اس ویکسین کو چوری کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔

میں فتویٰ نہیں لگا رہا بلکہ ایک خدشے کا اظہار کر رہا ہوں جسے سوشل میڈیا پر گردش کرتی وہ ویڈیوز تقویت دے رہی ہیں جن میں ”با اثر“ افراد گھروں میں بیٹھ کر بڑے فخر سے ویکسین لگوا رہے ہیں۔ ویکسین کس سنٹر میں تھی اور وہاں کیمرے تھے یا نہیں؟ بس یہی دو سوال اصل حقیقت بتانے کے لیے کافی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *