تحریک لبیک پر پابندی:حکومت کب تک دہشت گردوں سے معاہدے کرے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پندرہ اپریل کو حکومت پاکستان نے قوم کو ایک عجیب اور نئی خبر سنائی۔ وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا گیا، جس میں تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ یہ تنظیم دہشت گردی کی مرتکب ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے حالیہ دھرنوں کے ذریعہ ملک میں انتشار پھیلایا ہے۔ اور ہماری وزارت داخلہ نے اس کا یہ ثبوت پیش کیا کہ انہوں نے عوام کو خوفزدہ کیا۔ قانون نافذ کرنے والوں اور عام لوگوں پر حملے کیے۔ ملک بھر میں وسیع پیمانے پر راستوں کو روک کر بند کر دیا۔ گالیاں اور دھمکیاں دیں۔ حکومتی اور نجی املاک کو لوٹا اور برباد کیا۔ اور تو اور ایمبولنسوں کا راستہ بھی روکا۔ اور ملک میں خوف و ہراس کی فضاء پیدا کی۔

مجھے اس نوٹیفیکیشن کے ایک ایک لفظ سے اتفاق ہے۔ دہشت گردوں کے علاوہ کون اس قسم کے افعال کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ لیکن قدرتی طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ کیا یہ پہلی مرتبہ تھا کہ تحریک لبیک ان حرکات کی مرتکب ہوئی تھی یا حالیہ واقعات سے قبل بھی یہ گروہ انہی حرکات کا مرتکب ہو چکا تھا۔ اگر یہ گروہ پہلے بھی اسی طرح ملک کا امن برباد کر چکا تھا تو کیا انہیں دہشت گرد قرار دے کر کارروائی کی گئی تھی۔ یا جان بوجھ کر انہیں مضبوط ہونے کا موقع دیا گیا تھا۔

جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں عرض کی تھی کہ جب 2017 میں تحریک لبیک نے فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تو اس پر سپریم کورٹ نے از خود ان حالات کا نوٹس لیا تھا۔ اور سپریم کورٹ نے تحقیقات کے بعد 6 فروری 2019 کو اس کا فیصلہ سنایا تھا۔ وزیر داخلہ صاحب سے درخواست ہے کہ اس تفصیلی فیصلہ کا مطالعہ فرمائیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق 2017 میں بھی تحریک لبیک بالکل انہی حرکات کی مرتکب ہوئی تھی۔ اس سے یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ 2017 میں بھی تحریک لبیک دہشت گردی کی مرتکب ہوئی تھی۔

اگر ایسا تھا تو اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز میجر جنرل اظہر نوید حیات صاحب نے شرکاء میں رقوم کے لفافے کیوں تقسیم کیے تھے؟ اور جو ویڈیو میں نے دیکھی ہے اس میں وہ لفافے تقسیم کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟ بار بار سینے پر ہاتھ رکھ رہے ہیں۔ اور ایک مرتبہ تو ایک دھرنے میں شریک ایک شخص کے رخسار پر بھی پیار سے ہاتھ پھیرا ہے۔ اس ویڈیو کو بھارتی میڈیا نے بھرپور شہرت دے کر پاکستان کو نقصان پہنچایا تھا۔ اس کا مختصر ذکر سپریم کورٹ کے فیصلہ میں بھی ہے۔

بہرحال سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ اب جو بھی نفرت انگیزی کرے یا راستوں کو روکے اس کے خلاف حکومت کو قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ اور ملک کی ایجنسیوں کو ایسے عناصر کی نگرانی کرنی چاہیے۔ لیکن کیا حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر عمل کیا؟

نومبر 2020 میں تحریک لبیک کے تین ہزار کارکنوں نے اپنے سابقہ طریقہ کار کے مطابق ایک مرتبہ پھر فیض آباد انٹرچینج اور مری روڈ کو بند کر دیا۔ اور حملہ کر کے لیاقت باغ میں درجنوں پولیس اہلکاروں کو زخمی کر دیا۔ املاک کو نقصان پہنچایا۔ [ڈان 16 نومبر 2020]

اس صورت حال کے بارے میں سپریم کورٹ واضح ہدایات جاری کر چکی تھی کہ ایسے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ لیکن 16 نومبر کو تحریک انصاف کی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحریک لبیک کے آگے جھک کر معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدے میں شق شامل تھی کہ تحریک لبیک کے کسی کارکن کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کیا جائے گا۔ اور یہ کہ حکومت تین ماہ میں پارلیمنٹ سے فیصلہ کرا کے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دے گی۔ اس معاہدے پر اس وقت کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ صاحب اور وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری صاحب نے دستخط کیے تھے۔

اس دوران خادم حسین رضوی صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور ان کے صاحبزادے سعد رضوی صاحب نے 3 جنوری 2021 کو ان کے چہلم پر واضح کر دیا کہ یہ ایک جنگ ہے اور معاہدے کی رو سے حکومت کے پاس 16 فروری تک کا وقت ہے۔ اس کے بعد جو ہو گا اس کے لئے ہمارا ریکارڈ دیکھ لو۔

5 فروری کو موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب نے ایک بلند آہنگ خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے گا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔ لیکن تحریک لبیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بہت نرم لہجے میں فرمایا کہ میرا اور تحریک لبیک کا راستہ ایک ہے۔ اگر ان کی وزارت کا نوٹیفیکشن درست ہے کہ تحریک لبیک ملک میں دہشت گردی مچا رہی ہے تو ان کا اور وزیر داخلہ کا راستہ ایک کیوں تھا؟

اس اعلان جنگ کے بعد بھی حکومت ایک بار پھر تحریک لبیک کے آگے جھک گئی اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق قانونی کارروائی کرنے کی بجائے 11 فروری کو تحریک لبیک کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا گیا کہ حکومت نے تحریک لبیک کے جن کارکنان پر انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت پابندیاں لگائی ہوئی تھیں، وہ ہٹا لی جائیں گی۔ اور 20 اپریل تک حکومت پارلیمنٹ کے ذریعہ فرانس کے سفیر کو ملک سے باہر نکال دے گی۔ اور اس کے بعد آخر کار یہ نوبت آئی کہ حکومت نے سعد رضوی صاحب کو گرفتار کیا اور تحریک لبیک پر پابندی لگا دی۔

حکومت کا اپنا قدم ان کے سابقہ اقدامات کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ اگر تحریک لبیک ملک میں دہشت گردی مچا رہی تھی تو اب تک آپ ملک کو بچانے کی بجائے ان سے معاہدے پر معاہدہ کیوں کرتے رہے۔ اور خود وزیراعظم تحریک لبیک کے طریقہ کار سے ناواقف نہیں ہیں کیونکہ تحریک لبیک کے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد ان کے مفتی محمد افضل قادری صاحب نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ عمران خان صاحب توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں اور اگر انہوں نے معافی نہ مانگی تو علماء انہیں گستاخ رسول اور کافر قرار دے دیں گے۔ [ڈیلی پاکستان 2 جنوری 2017 ] اور اس کے بعد عمران خان صاحب نے معافی مانگی بھی تھی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ پاکستان کی حکومت نے انتہا پسند تنظیم سے معاہد ے کر کے انہیں خوش کرنے کی کوشش کی ہو اور نتیجہ صرف یہ نکلا ہو کہ وہ انتہا پسند تنظیم پہلے سے مضبوط ہو گئی ہو اور آخرکار ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے پڑے ہوں۔ ایس غلطیوں کو سلسلہ کچھ دہائیوں سے چل رہا ہے۔ 2004 میں طالبان کے ساتھ شکئی معاہدہ کیا گیا۔ یہ معاہدہ نیک محمد کے ساتھ کیا گیا تھا۔ 2005 میں بیت اللہ محسود کے ساتھ سراروغا میں معاہدہ کیا گیا۔ 2006 میں شمالی وزیرستان میں حاجی گل بہادر سے میران شاہ معاہدہ کیا گیا۔ 2008 میں خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام اور انصار الاسلام تنظیموں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ اور 2009 میں سوات امن معاہدہ کیا گیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ کسی ایک معاہدے کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ اور یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس وقت شیخ رشید صاحب اور عمران خان صاحب دہشت گردوں سے مذاکرات کے زبردست حامی تھے۔ اور آخرکار 2014 میں ضرب عضب آپریشن کر کے دہشت گردی پر قابو پانا پڑا۔ اب تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کر کے پرانی تاریخ دہرائی گئی ہے۔ ان ناکام تجربوں نے پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ حکومت کا اصل کام اس ملک اور ملک کے عوام کی حفاظت ہے۔ حکومت کو دہشت گردوں کے ساتھ معاہدے کرنے کی بجائے ملک کے عوام کے ساتھ کیے گئے عمرانی معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔

(Counter Terrorist Trends and Analysis, Volume 5, Issue 4, April 2013. P11-13)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *