ایک مسجد جو مسلم اور غیر مسلم فرانسیسیوں کے درمیان اتحاد اور محبت کی علامت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


‎فرانس میں ایک مسجد ایسی بھی ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلم فرانسیسیوں کے درمیان اتحاد اور محبت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں فرانس پر جرمنی کے قبضہ کے دوران یہ مسجد فرانس کی آزادی کی تحریک میں شامل افراد کو تحفظ فراہم کرتی رہی ہے۔ اس مسجد میں بہت سے یہودی خاندانوں کو جرمنوں سے پناہ دیے رکھی جس کا جرمن افواج کو پتہ نہ چل سکا۔ اس مسجد میں پیراشوٹ سے نیچے اترنے والے برطانوی فوجیوں نے بھی پناہ لی تھی۔

اس کے علاوہ انہوں نے بہت سے یہودی خاندانوں کو بھی جرمنوں سے پناہ دیے رکھی ، جس کا جرمن افواج کو پتہ نہ چل سکا۔ ان پناہ گزین یہودیوں کی تعداد 1600 سے زیادہ تھی۔ ان کو مختلف طریقوں سے بچایا گیا۔ کچھ کو چھپا لیا گیا اور کچھ کے لیے جعلی دستاویزات مہیا کی گئیں ،ان جعلی دستاویزات میں یہودیوں کو مسلمان ظاہر کر کے ان کی جان بچائی گئی۔ کافی تعداد میں یہودیوں اور ان فرانسیسی عیسائیوں کو، جو جرمنوں کو درکار تھے، المغرب (الجزائر، تیونس، مراکش) یا جنوبی فرانس میں فرار کروایا گیا۔

اس وجہ سے بہت سے یہودی جرمنی کے عقوبت خانوں میں جانے سے بچ گئے۔ اس حوالے سے اس مسجد پر فلمیں بھی بنی ہیں اور اس پر کتابیں بھی لکھی گئی ہے۔ اس مسجد کے اہم بات مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم سیاح اس مسجد کا رح کرتے ہیں۔ مسجد سارا سال سیاحت کے لیے کھلی رہتی ہے۔ اس میں عربی اور فرانسیسی زبانوں میں درس ہوتے ہیں جن میں غیر مسلم سیاح بھی شرکت کرتے ہیں۔ مسجد کا حلال کھانے کا ریستوران خاص طور پر سیاحوں کو عربی یا شمالی افریقی کھانوں سے آشنائی فراہم کرتا ہے۔

مسجد کا کتب خانہ تمام مذاہب کے محققین کے لیے کھلا رہتا ہے۔ اس مسجد میں محتلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے لیے مکالمہ اور مختلف پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسجد کا کانفرنس روم ایک ایسی جگہ ہے جہاں مسلمان اور غیر مسلم دونوں اکٹھا ہوتے ہیں اور ایسے درس اور مجالس ہوتے ہیں جو ان میں رابطہ بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ لوگ یکجہتی، تنوع اور محبت کی وکالت کرتے ہیں اور اس وکالت میں کئی بین المذاہب اور یوتھ گروپ پیش پیش ہیں۔

اس مسجد میں قائم ریستوران میں ہی ایک عربی طرز کا حمام بھی ہے۔ سیاحوں کے لیے مسجد کا نماز کا ہال، کتاب خانہ، صحن ہائے مسجد، دیواروں پر خوبصورت کاشی کاری اور آیات خاصی دلچسپی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ یہ مسجد پیرس فرانس میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ہے۔ یہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قدیم حصے میں واقع ہے۔ اس مسجد کا باقاعدہ افتتاح 15 جولائی 1926ء کو ہوا تھا اگرچہ اس میں پہلی نماز 1922ء میں پڑھی گئی تھی۔

یہ ایک ہیکٹر رقبے پر واقع ہے اور اس کا مینار 33 میٹر اونچا ہے۔ اس میں مدرسہ اور کتب خانہ قائم ہیں۔ اسے فرانس اور الجزائر کی حکومتیں مسجد کی ایک کمیٹی کی مدد سے مل کر چلاتی ہیں۔ اس مسجد کا پہلا منصوبہ فرانس کی افریقی کمیٹی نے 1895ء میں بنایا تھا مگر اس وقت فرانسیسی حکومت نے اسے منظور نہ کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں فرانس کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے ایک لاکھ مسلمان ہلاک ہوئے۔ اس وقت مراکش، تیونس اور الجزائر فرانس کے زیر تسلط تھے اور انہی ممالک کی اکثریتی مسلمان فرانس کے دفاع کے لیے کام آئے۔

اسی وجہ سے فرانس کی حکومت نے مسجد کی تعمیر کا منصوبہ منظور کر لیا۔ جنگ عظیم اول کے بعد اسلامی طرز تعمیر کی شاہکار مسجد کو فرانس کے لیے مسلمانوں کی عظیم قربانی کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔ حکومت فرانس نے اس کی تعمیر کے لیے روپیہ فراہم کیا۔ 1922ء میں تعمیر شروع ہوئی اور زیر تعمیر مسجد میں پہلی نماز پڑھی گئی۔ اس کا باقاعدہ افتتاح 15 جولائی 1926ء کو فرانس کے اس وقت کے صدر گاستوں دومیغگ نے کیا۔

یہ مسجد ایک سابقہ ہسپتال کی جگہ بنائی گئی جو پیرس کے مشہور باغ اشجار جس کو جارڈن پارک بھی کہتے ہیں کے سامنے واقع تھا۔ اس مسجد کو مراکش کے شہر فاس کی مشہور مسجد القرویین کی طرح تعمیر کیا گیا ہے جو 859ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس کا مینار ایک اور مسجد ’جامع القیروان الاکبر‘ (جو تیونس کی ایک قدیم مسجد ہے ) کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ اس کا بیرونی دروازہ اور اندرونی دروازے اسلامی طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہیں۔

اس کے کئی صحن ہیں جن میں خوبصورت فوارے لگے ہوئے ہیں۔ اس میں ایک مدرسہ، ایک کتاب خانہ، ایک کانفرنس روم، نماز کے لیے ایک ہال اور ایک ریستوران شامل ہیں۔ ریستوران میں بہت سے مسلمان اور غیر مسلم عربی کھانے شوق سے کھاتے ہیں۔ مسجد کی دیواریں حسین کاشی کاری سے مزین ہیں۔ مسجد کے اردگرد گھر اور دفاتر کے قائم ہونے کی وجہ سے اس کا حسن چھپ سا گیا ہے۔ مگر مسجد کے اندر داخل ہونے کے بعد اس کا حسن سامنے آ جاتا ہے۔

اسے بہت سے فرانسیسی اور غیر ملکی دیکھنے آتے ہیں۔ موجودہ دور میں مسجد کو فرانس اور الجزائر کی حکومتوں کے تعاون سے اور ایک مسجد کمیٹی کی مدد سے چلایا جاتا ہے۔ اس سے فرانس کے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں ایک خوشگوار رابطہ ہوتا ہے۔ مسجد کا ریستوران ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سے مسلمان ممالک کے وفود یہاں لائے جاتے ہیں تاکہ ان کو حلال کھانے مہیا کیے جائیں۔ یہ فرانس کی مرکزی مسجد ہے اس لیے فرانس میں رہنے والے مسلمانوں اور حکومت فرانس کے درمیان ایک پل کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *