دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقلابی شاعر حبیب جالب نے کہا تھا کہ وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے اور وزیراعظم کی کابینہ کی حالیہ تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے یقین ہو گیا ہے کہ دن پھرے ہیں تو فقط وزیروں کے وگرنہ عوام کی معاشی حالت کو بہتر کرنے کے وعدے کے ساتھ برسراقتدار آنے والی تبدیلی سرکار عوام کی معاشی حالت تو بہتر نہیں کر سکی ، البتہ چوتھی بار وزیرخزانہ تبدیل کر لیا ہے۔

مختلف وزرا کے قلم دان تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ جو وزیر با تدبیر ایک وزارت پر کارکردگی نہیں دکھا سکا وہ دوسری وزارت میں کیا جوہر دکھائے گا۔ وزیراعظم محض قلم دان ہی کیوں تبدیل کر رہے ہیں، وزیر ہی کیوں نہیں بدل لیتے کہ کچھ بہتری ہو جائے۔ مگر شاید یہ بھی بے سود ہی ہو گا کہ وزیرخزانہ تو تین بار تبدیل ہو چکا۔ اب چوتھے کی باری ہے ، دیکھتے ہیں کہ ان کی معاشی پالیسیوں کے طفیل غریب عوام پر من و سلویٰ کب اترنا شروع ہوتا ہے۔

فی الوقت تو صورتحال یہ ہے کہ موجودہ سرکار کی معاشی پالیسیوں کی بدولت جہاں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہیں پر غربت میں بھی شدت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستانی معیشت کی شرح نمو 3۔ 1 فیصد رہے گی۔ یہ شرح نمو بذات خود معاشی بحران کی نشاندہی کر رہی ہے اور ستم یہ کہ اتنی کم شرح نمو کے باوجود افراط زر دس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف چینی اور آٹے کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی اعداد و شمار سے قطع نظر حقیقی افراط زر کی شرح دس فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس معاشی بحران کا ذمہ دار صرف عمران خان ہے یا ماضی کے حکمران بھی قصوروار ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اب تک جتنے حکمران تخت نشین رہے سب کے سب قصور وار ہیں کسی کا قصور کم تو کسی کا زیادہ مگر بری الذمہ کوئی نہیں ہے۔ رہی بات عمران خان کی تو وہ قرض لے کر گنہگار نہیں ہوا بلکہ اس کا قصور تو وہ جھوٹی امیدیں اور خواب تھے جو اس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام کو دکھائے۔ معاشی حالت کی بہتری کے دعویٰ کرنے والا اور بہترین معاشی ماہرین کی ٹیم کے ساتھ اقتدار سنبھالنے والے کی حالت یہ ہے کہ تین برسوں میں چوتھا وزیرخزانہ لے کر آیا ہے اور المیہ یہ کہ ملک کے معاشی حالات پھر بھی بہتر نہیں ہونے اور نہ ہی عوام کی معاشی حالت ٹھیک ہو گی۔

2005 میں جنرل مشرف کے دور میں قرض حدود ایکٹ منظور ہوا جس کے تحت قرض سے جی ڈی پی تناسب آئندہ دو مالی سالوں میں 60 فیصد اور اس سے اگلے پانچ سالوں میں 50 فیصد تک لایا جانا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے 2008 کے دور میں ہمارے مجموعی قرض سے جی ڈی پی کا تناسب کم و بیش 66 فیصد رہا جو نون لیگ کے 2013 کے دور میں بڑھ کر 73 فیصد تک ہو گیا۔ اور عمران خان کی حکومت میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارا قرض ملکی مجموعی پیداوار جی ڈی پی سے بڑھ گیا اور 107 فیصد تک پہنچ گیا ہے ۔ اور اس کے باوجود ہم اب بھی مزید قرض لینے کے لیے تیار ہیں۔

جبکہ آئی ایم ایف سے حالیہ چھ ارب ڈالر کے قرض کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے حکومت سبسڈی کو مسلسل ختم کر رہی ہے۔ ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کے لیے پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور یہ اضافہ آئندہ مالی سال بھی جاری رہے گا۔ رواں بجٹ میں حکومت نے ٹیکس آمدن کا ہدف 4963 رکھا تھا اور اس کی امید کی جا رہی ہے کہ یہ ہدف شاید حاصل نہ ہو سکے جبکہ نئے مالی سال کا ٹیکس ہدف چھ ہزار روپے رکھنے کا اندازہ کیا جا رہا ہے اور یقینی بات ہے کہ اس ہدف کے حصول کے لیے نئے مالی سال میں بے تحاشا بالواسطہ اور بلاواسطہ نئے ٹیکس لگائے جائیں گے۔ جس سے مہنگائی کا ایک طوفان آ جائے گا۔

ہماری بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمارا بجٹ بنانے کا طریقہ ہی الٹا ہے۔ دنیا بھر میں آمدن کو مدنظر رکھ کر اخراجات کا تعین کیا جاتا ہے اور ہم اخراجات کا تعین پہلے کر لیتے ہیں ، اس کے بعد آمدن پر توجہ دیتے ہیں اور چونکہ آمدن توقع سے کم ہوتی ہے تو ہر سال اخراجات کو پورا کرنے کے لیے پھر کسی عالمی مالیاتی ادارے کے دروازے پر اس نعرے کے باوجود کہ قرض نہیں لوں گا پھر بھی کشکول لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

حکومت کو سوچنا پڑے گا کہ کورونا کے سبب پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باعث کم و بیش دو کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور یہ لوگ مزید نئے ٹیکس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ معاشی ترقی کا پہیہ سست ہو چکا ہے ،عام آدمی بنیادی ضروریات زندگی کو بہ مشکل پورا کر پا رہا ہے۔ بے روزگاری کے عفریت نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان حالات میں عوام کو ریلیف دینے پر توجہ دے نہ کہ مزید ٹیکس لگانے پر۔

رہی بات میری سادہ دل عوام کی تو میرے عزیز ہم وطنو! بے فکر ہو جاؤ نئے مالی سال میں بھی تمہارے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہونے والے۔ یہی تنگ دستی، مہنگائی، غربت اوربے روزگاری تمہارا مقدر رہے گی۔ تمام تر حکومتی دعووں کے باوجود تم اسی طرح بنیادی ضروریات زندگی کو ترستے رہو گے۔ ادویات مہنگی ہونے کے سبب قابل علاج بیماریوں سے بھی زندگی کی بازی ہارتے رہو گے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود آٹا اور چینی تمہیں سستے داموں دستیاب نہیں ہو گی۔

گلہ پھاڑ کر زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے والو! یاد رکھو حبیب جالب نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ

سازشیں ہیں وہی خلاف عوام، مشورے ہیں وہی مشیروں کے
اور بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی، وہی دن رات ہیں اسیروں کے

لہٰذا نہ تمہارے دن بدلنے ہیں اور نہ ہی راتیں بدلیں گی۔ اگر دن بدلیں گے تو فقط وزیروں کے بدلیں گے اور کچھ کے تو آٹا، چینی اسکینڈل کے بعد بدل بھی چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *