انتہاپسندی: سوات سے لبیک تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئے روز چوک چوراہوں پر قبضہ جمائے سرکاری و شخصی املاک کے جلاؤ، گھیراؤ کے ذریعے کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دینے والے جنونی جتھوں کو اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ راستے روکنے والوں پر دین کیا حکم لگاتا ہے۔ کیا طالبان نے سروں کو قلم کرنے کے جواز نہیں ڈھونڈ رکھے تھے؟ طالبان کو جو بھی کہیں، اپنی نص شریعت سے ڈھونڈتے تھے۔ شریعت کی تعبیر میں اختلاف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن حوالہ قرآن و سنت کا ہی دیتے تھے۔

چنانچہ اچھے خاصے معتبر نام اگر قاتلوں کی سر عام حمایت نہیں توواضح الفاظ میں مذمت بھی نہیں کرتے تھے۔ پاکستان کی شاہراہوں، سڑکوں، چوراہوں پر جن جتھوں سے ہمیں اب واسطہ پڑا ہے، وہ ان دلائل کا تکلف بھی روا نہیں رکھتے۔ بے گناہ شہریوں کو بیوی بچوں سمیت شاہراہوں پر یرغمال بنا کر ان کی گاڑیوں پر ڈنڈے برساتے فلک شگاف نعرے لگاتے ہیں۔

نفرت کی کوکھ سے پھوٹنے والے سطحی تجزیہ کاروں کی سوچ ڈالروں کی ریل پیل سے شروع ہوتی اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ سے واقف مگر جانتے ہیں کہ قدیم شاہراہ ریشم کے کنارے آباد ملک کے لئے افغان جنگ سے یوں کنارہ کش رہنا ممکن نہ تھا۔ گوخطے میں جہاد کی عالمی پالیسی جنرل ضیاء الحق کی مذہبی فکر اور ان کے سیاسی مفاد کو خوب راس آئی تھی۔ افغان جنگ کے ہنگام جہاں پوری دنیا سے جہادی پاکستان وارد ہوئے توآس پڑوس میں آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں مسلکی تشدد بھی در آیا تھا۔ بیرونی مالی امداد سے لشکروں کی آبیاری کی گئی تو پاکستان خطے میں متحارب قوتوں کے لئے بین لا قوامی کالوزییم (Colosseum) بن گیا۔ روسی فوج کے لوٹنے اور افغان جنگ کے خاتمے کے بعد بھی چند جتھے سرگرم رہے۔ کشمیر ہمارے عسکری اداروں کی نفسیات میں شامل ہے۔ ہمارے خون میں دوڑتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ مگر یوں بدلے گا کیا کسی نے کبھی سوچا بھی تھا؟ جا بجا مسلکی مدارس کھمبیوں کی طرح اگ آئے تھے۔ مخصوص مسجدیں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بدل رہی تھیں۔ جہادی تنظیمیں سر بازاربھتہ وصول کرتیں۔ ملک کے طول و عرض میں اولیاء کرام کے مزارات اور مذہبی اجتماعات پر حملے مگر خطے کی صدیوں پر محیط تاریخ میں پہلی بار دیکھے گئے۔ مینگورہ کے خونی چوک کے بیچ ایک پیر صاحب کی لاش کئی روز تک لٹکتی رہی۔ مریدین بے بسی سے تکتے رہے مگر ہمت نہ تھی کہ قریب پھٹکتے۔

ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والے کئی علمائے حق اور دینی سکالرز شہیدکئے گئے۔ مملکت خدا داد سے جانیں بچا کر کئی بھاگے تو مسلمان ملکوں میں ہی پناہ پائی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان ملکوں میں کم درجے کے مسلمان بستے ہیں؟ وطن عزیز کی مگر بات ہی کچھ ا ور ہے۔ جھوٹ اور نفرت کو سنہری پنوں میں لپیٹ کر اس طرح بیچا جا تا ہے کہ عوام کی اکثریت بے یقینی اور نظریاتی الجھن کا شکار ہوجاتی ہے۔ اوروں کو کیا دوش دیں، دہشت گردی کی جنگ کے دوران خود ہمارے کئی ساتھیوں کو مارے جانے والے دہشتگردوں کی لاشوں سے عجب خوشبو اٹھتی محسوس ہوتی تھی۔

جب ملک میں نام نہاد ’جہادی‘ جتھے دندناتے پھرتے تھے تو ہمیں نہیں معلوم کسی ’امیرا ا لمجاہدین‘ کی للکار پر راستے بند کیوں نہیں ہوتے تھے۔ ہمیں تو پاکستانی فوج کے وہ نوجوان افسر اور ماؤں کے سجیلے جوان یاد ہیں جنہوں نے وادی سوات کی خون آشام گھاٹیوں میں چھپے درندوں کو چن چن کر مارنا شروع کیا تھا۔ فوج، ایف سی، پولیس کے علاوہ ہزاروں عام پاکستانیوں کے خون سے چراغ جلے تو ہی تاریکی چھٹی تھی۔ روشنی پھیلی تو ہی میڈیا کے اوسان بھی بحال ہوئے تھے۔

ہر گزرتے دن بربریت کا پردہ چاک اور عوام پر ان خارجیوں کے عزائم کھلتے چلے گئے۔ پھر ہم نے وہ وقت بھی دیکھاکہ لال مسجد کے سامنے چند نہتے پاکستانیوں نے دہشتگردوں کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قافلہ بڑھتا چلاگیا۔ ہزاروں جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستانیوں نے تاریکی کی قوتوں کو پار دھکیل دیا۔ تاہم برسوں بعد ایک عفریت کا سایہ سمٹتا تو رہبری کے کچھ اور دعویٰ دار کونے کھدروں سے نمودار ہونے لگے۔

اب تک وہ جو دم سادھے بیٹھے تھے، کل تک جن کے رنگ زرد اور جسم خشک پتوں کی طرح لرزتے تھے اب جنات ان کے ہجروں میں حاضریاں دینے لگے تھے۔ تاہم ان مٹھی بھر راہبروں کو اس امر کا ادراک نہیں کہ ناموس رسالت ﷺ کے باب میں مسلمانوں کوان کی رہبری کی ضرورت نہیں۔ چوک چوراہوں میں بے قابو ہجوم جو پولیس کے بے گناہ اہلکاروں کو بربریت کا نشانہ بناتا ہے، اس ہجوم کی سرشت اور نفسیات کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔ صدیوں سے طاقتوروں کے سامنے نسل در نسل جھکے چلے آنے کی بناء پرہمارے معاشر ے کی مجموعی ساخت وہ افراد تشکیل دیتے ہیں جو انفرادی حیثیت میں تو طبعاً مطیع اورخدمت گزار ہی ہوتے ہیں، تاہم جب ہجوم کی صورت بپھرتے ہیں تو سفاکی کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔

چنانچہ جب ہم کسی کار پر ڈنڈے اوربے گناہ پولیس اہلکارپر لاٹھیاں برساتے، ٹوٹی چپلیں پہنے، پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس مفلوک الحال نوجوانوں کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے گویا صدیوں کا حساب کھڑے کھڑے بے باق کرنا چاہتے ہوں۔ ضرور غصہ کسی اور بات پربھی ہوگا۔ بینکوں، دکانوں، حتی کہ معصوم بچے کی ریڑی سے کیلے لوٹنے والے بھی ان مظاہروں کو موقع غنیمت جانتے ہوئے ساتھ ہو لیتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی حد تک ہم نے جیت لی، انتہا پسندی کے خلاف ابھی بہت طویل اور صبر آزما سفر باقی ہے۔ ایک کے بعد ایک دریا پار کرنا ہے۔ اداروں سے غلطیا ں بے شمار ہوئی ہیں۔ کچھ کے نتائج وہ خود اب تک بھگت رہے ہیں۔ لیکن کیا زندگی طعن و تشنیع میں ہی بسر کرنی ہے کہ کچھ کام بھی کرنا ہے؟ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہر بار معاشرے میں انتشار پھیلانے والوں کو راستہ دیا جاتا رہے گا توکسی نا کسی صورت میں جتھے ہر بار پلٹ کر ریاست کو یوں ہی یرغمال بناتے رہیں گے۔

بین الاقوامی گدھ سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ ان نفسیاتی مریضوں کا مگر کیا کیا جائے جو اس کڑے وقت میں بھی سوشل میڈیا پر پولیس اور دیگر قومی اداروں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *