ننانوے فیصد کا فیمینزم


ہمیں سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف فیمینزم کی ضرورت ہے۔ ایسا فیمینزم جو ننانوے فیصد کے لیے ہو۔

ہمیں لوگوں کے تیزی سے گرتے معیار زندگی، ماحولیاتی تنزلی، قدرتی آفات، خانہ جنگی، بڑے پیمانے پہ ہجرت اور اس کی راہ میں رکاوٹوں، بڑھتی ہوئی سماجی و سیاسی نسل پرستی اور عوام کی بڑے پیمانے پر ذرائع اور وسائل سے بے دخلی کا سامنا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ فیمینزم ان تمام چیلنجوں کا سامنا کرے۔

ہمارا خواب ایک ایسا فیمینزم ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی ٹوٹی پھوٹی اصلاحات کو بچانے کے بجائے اس نظام کی کینسر کی طرح پھیلتی جڑوں کا خاتمہ کر دے۔ ہم چند لوگوں کے فائدے کے لیے نسل انسانی کی بھلائی کو قربان نہیں کر سکتے۔ ہمیں تمام لوگوں کی ضروریات زندگی اور حقوق کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کرنی ہے۔ ہمیں محنت کش عورت، نسلی تعصب کا شکار مہاجر عورت، ٹرانس، (Queer)، جسمانی طور پر معذور عورت اور تمام مڈل کلاس عورتوں کی جنگ لڑنی ہے جن کا سرمایہ مسلسل استحصال کرتا ہے۔ یہ فیمینزم اپنے آپ کو صرف عورت کے مسائل تک محدود نہیں کرتا بلکہ یہ ان تمام طبقات کے ساتھ کھڑا ہے جن کا استحصال ہوتا ہے۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے امید کی کرن ہے۔ اسی وجہ سے ہم اسے 99 فیصد کا فیمینزم کہتے ہیں۔

دنیا بھر میں عورتوں کی تحریکوں کی نئی لہر سے ابھرتا ہوا 99 فیصد کا فیمینزم دراصل نظریات اور تجربات کی بھٹی سے کندن ہو کے نکلا ہے اور یہ ان ہی تجربات اور نظریات کا عکاس ہے۔ چونکہ نیو لبرل ازم صنفی جبر اور امتیاز کو کسی نہ کسی شکل میں قائم رکھتا ہے، لہٰذا ہمیں صرف ایک ہی راستہ دکھائی دیتا ہے کہ ہم تمام خواتین اور ایسے لوگ جو اپنے آپ کو کسی بھی صنف سے شناخت نہیں کرتے ، کے حقوق کے حصول کے لیے جد و جہد کریں۔

یہ فیمینزم اس بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو معیشت کی آڑ میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔ مثلاً اسقاط حمل کی قانونی سہولت، محنت کش اورغریب عورت کے لیے محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے کیونکہ نہ تو اس کے پاس اتنے ذرائع ہیں کہ وہ یہ سہولت استعمال کر سکے اور نہ ہی اس کی ایسے کلینکوں تک رسائی ہے جہاں یہ سہولت میسر ہو۔ تولیدی انصاف کے لیے ضروری ہے کہ یونیورسل، مفت اور بلامنافع نظام صحت لایا جائے جو ذات پات اور رنگ و نسل کی بنیادوں پہ تفریق جیسی بدعتوں سے پاک ہو۔

اسی طرح ہمارا ماننا ہے کہ محنت کش اور غریب عورت کے لئے مساوی اجرت کی کوششیں اس وقت تک مساوی ذلت کے مصداق رہیں گی جب تک جب تک کہ روزگار کے ایسے مواقع نہ پیدا کیے جائیں جو باعزت زندگی بسر کرنے مناسب آمدنی مہیا کریں۔ علاوہ ازیں قابل عمل لیبر رائٹس بنائے جائیں اور گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی نگہداشت جیسے کاموں کے اصول از سر نو وضع کیے جائیں۔ ہماری نظر میں جب تک کریمنل جسٹس سسٹم کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہ کیا جائے ، اس وقت تک عورتوں پر تشدد کی روک تھام کے لئے بنائے گئے قوانین صرف اور صرف ظالمانہ دھوکہ دہی ہے۔

موجودہ کریمنل جسٹس سسٹم صنفی اور نسلی تعصب پر قائم ہے اور جب تک اس کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہ لائی جائے ، اس وقت تک پولیس کا ظلم و ستم، نسلی امتیاز اور کام کی جگہوں پر جنسی تشدد اور ہراسانی جاری رہے گی۔ اور آخر میں ہمارا ماننا ہے کہ قانونی آزادی اس وقت تک ایک کھوکھلا نعرہ ہی رہے گا ، جب تک اس کے ذریعے عوام کو بنیادی سہولیات و خدمات اور رہائش مہیا کی جا سکیں تاکہ عورتوں کی جان گھریلو اور کام کے مقامات پر تشدد سے چھڑائی جا سکے۔ 99 فیصد کا فیمینزم ان مطالبات کے ذریعے مستقل، پائیدار اور دور رس تبدیلی کی تلاش میں ہے۔ مختصراً یہ فیمینسٹ تحریک دوری یا علیحدگی کی تحریک نہیں بلکہ یہ سب انسانوں سے جڑت کی تحریک ہے۔

اسی لئے ہم تجویز کرتے ہیں کہ ہر اس تحریک کے ساتھ جڑت بنائی جائے جو 99 فیصد کے لیے کام کرتی ہو۔ خواہ وہ تحریکیں ماحولیاتی تحفظ اور انصاف کی تحریکیں ہوں، مفت اور اعلیٰ نظام تعلیم کے لیے کوشاں ہوں، ضروری عوامی سہولیات و خدمات اور مناسب رہائش کے لیے کام کرتی ہوں، مزدوروں کے حقوق اور مفت یونیورسل نظام صحت یا جنگ اور نسل پرستی کے خلاف بات کرتی ہوں، ان سب تحریکوں کے ساتھ جڑت ہی ایسا طریقہ ہے جس سے 99 فیصد کے فیمینزم کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور اداروں کے جبر کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

99 فیصد کا فیمینزم طبقاتی تفریق اور کشمکش کا مکمل طور پہ ادراک رکھتا ہے اور ادارتی جبروتسلط اور نسل پرستی کے خلاف نبرد آزما ہے۔ اس کی مرکز نگاہ وہ تمام عورتیں ہیں جو نسلی امتیاز کا شکار ہیں، مہاجر یا جنگ زدہ ہیں، سفید فام ہیں، کسی بھی صنف کو اپنی شناخت نہیں مانتی، جن کو کام کے عوض معاوضہ ملتا ہے یا نہیں ملتا، بے روزگار ہیں، مفلوک الحال ہیں، جوان ہیں یا عمر رسیدہ۔ یہ فیمینزم مکمل طور پہ بین الاقوامی ہے۔ یہ نہ صرف نیو لبرل ازم کے خلاف ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی بھی شدید مخالفت کرتا ہے۔ اس فیمینزم کا یقین ہے کہ ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں ، وہ مجموعی طور پر ایک بحران زدہ معاشرہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔

مرکزی دھارے کے مبصرین اس بات ہر متفق ہیں کہ 2007۔ 2008 کا مالی بحران 1930 کے بعد دنیا کا بد ترین مالی بحران تھا۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن کسی کو اس کی سنجیدگی اور پیچیدگی کا صحیح ادراک نہیں اور اگر ہے بھی تو بہت سطحی سا۔ ہم جس بحران میں جی رہے ہیں وہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ یہ ماحولیاتی، سیاسی، نگہداشت اور پرداخت کا بحران ہے۔ دراصل یہ سماجی بحران ہے اوراس کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ نہایت چالاک اور مکار نظام، عالمگیری اقتصاد و مالیات، یعنی نیو لبرل ازم۔

سرمایہ دارانہ نظام درحقیقت وقتاً فوقتاً ایسے مالی بحران پیدا کرتا رہتا ہے اور بدقسمتی سے ایسے بحران اکثر حادثاتی نہیں ہوتے۔ یہ نظام محنت کشوں کے استحصال پر پنپتا ہے۔ بالخصوص یہ پہ فطرت (Nature) اور عوام کو سہولیات اور خدمات کا معاوضہ ادا کیے بغیر اس محنت پر پلتا ہے جو سماج اور انسان پیدا کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بنیادی طور پر بے لگام اور لامحدود منافع پر پھلتا پھولتا ہے اور ان تمام چیزوں کے بدلے مفت میں ترقی کرتا ہے جس کی اس نے کبھی قیمت ادا نہیں کی (سوائے مجبوری کی صورت میں)۔

اس نظام کی مشہور زمانہ عیارانہ منطقوں میں ماحول کی بربادی، عوامی طاقت کو آلۂ کار بنانا، بلا معاوضہ پرداخت اور نگہداشت کے کام پر قبضہ جمانا وغیرہ شامل ہیں۔ سرمایہ وقتاً فوقتاً عدم استحکام پیدا کرتا رہتا ہے کیونکہ بحران اس کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ آج کے دور میں مالیاتی بحران بہت شدید ہے۔ پچھلی چار دہائیوں میں نیو لبرل ازم نے معاشرے میں مالیات کو پھیلاتے ہوئے اجرت کو گرایا، مزدور کے حقوق کو کمزور کیا، قدرتی ماحول کو تباہ کیا اور کنبوں اور سماج کو قائم رکھنے والی توانائیوں پر قبضہ کیا جس کے نتیجے میں آج دنیا کے لوگ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ Basta (stop it) ، یعنی بس کر دو!

اب لوگوں نے عام اور گھسے پٹے طریقوں سے ہٹ کر سوچنا شروع کر دیا ہے۔ لوگ بڑی، پرانی اور آزمائی ہوئی سیاسی جماعتوں پر اعتماد کھو رہے ہیں۔ لوگ نیو لبرل ازم کی فری مارکیٹ اکانومی کے ڈھونگ، اوپر سے نیچے کو پھیلتی معیشت کے بے بنیاد دعوؤں، محنت کی منڈی کی لچک اور غیر پیداواری قرضہ جات کی دھوکہ دہی کو سمجھ بھی رہے ہیں اور نیو لبرل ازم سے انکار بھی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تنظیم اور لیڈرشپ کے خلاء کو بھی محسوس کر رہے ہیں۔ لوگوں میں کچھ کر گزرنے اور بہت کچھ کرنے کی خواہش زور پکڑ چکی ہے۔

99 فیصد کا فیمینزم بہت سی ابھرتی طاقتوں میں سے ایک ایسی طاقت ہے جو تنظیم اور لیڈر شپ کے اس خلاء کو پر کر سکتی ہے۔ تاہم ہمارا اس خلاء پر قبضہ نہیں بلکہ ہم بہت سے نا پسندیدہ ”برے اداکاروں“ کے ساتھ سٹیج پر ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف دائیں بازو کی تحریکیں دنیا بھر میں عائلی اور خاندانی حالت میں بہتری، خاص طرز کی نسل پرستی، قومیت، مذہب کی ترویج، آزادانہ تجارت اور ہجرت پر پابندی کا تقاضا کرنے کے ساتھ ساتھ عورتوں، LGBT اور مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کے حقوق سلب کرتی ہیں اور دوسری طرف ترقی پسند مزاحمتی تحریکیں یونیورسل برابری کے ایجنڈے کو بڑھاوا دیتی ہیں اور درپردہ عالمی مالیات کے اعداد و شمار کی اجارہ داری قائم رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ لبرل ازم کے یہ محافظ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کسی طرح وہ فیمینسٹوں، نسل پرستی کے خلاف لوگوں اور ماحولیاتی تحفظ کی تحریکوں کے ساتھ صف بندی کر لیں تاکہ یہ تحریکیں اصل یونیورسل مساوات اور سماجی ڈھانچوں میں دیرپا تبدیلی کے خواب کو تج دیں۔

99 فیصد کا فیمینزم ان کی اس چال کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ یہ نہ صرف رجعت پسندانہ مقبولیت Populism) ) کو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ترقی پسندانہ نیو لبرل ازم کو بھی مسترد کرتا ہے۔ یہ بحران اور بدحالی کی اصل وجہ، یعنی سرمایہ دارانہ نظام، کی نشاندہی اور اس کا مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ہم بحران کو مصیبت کا وقت نہیں، بلکہ سیاسی بیداری اور سماجی تبدیلی کا سنہری موقع سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بحرانوں کے دور میں لوگ اکثر طاقت کے محوروں سے منہ موڑ لیتے ہیں اور سیاست سے عموماً دور ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں عوام نئے خیالات، نئے اتحاد اور نئی تنظیم سازی تلاش کرتے ہیں۔ ان حالات میں بہت سے اہم سوال اٹھتے ہیں۔ مثلاً سماجی تبدیلی کے عمل کی رہنمائی کون کرے گا؟ یہ تبدیلی کس کے مفاد میں ہو گی؟ اور آخر میں کیا رخ اختیار کرے گی؟

بحران کے دور میں پیدا ہونے والی سماجی تبدیلی عموماً نئی سماجی تنظیم کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن اگر تاریخ کے ورق پلٹ کر دیکھیں تو اس کا رخ ہمیشہ سرمائے کی طرف ہی مڑتا ہے اور اس کا فائدہ صرف سرمایہ دار کو ہی ہوتا ہے۔ سرمائے کے چیمپیئنز نے نہ صرف ایک خاص طرح کی معیشت کو تشکیل دیا بلکہ سیاست، سماجی پیداوار اور غیر انسانی رویوں کو بھی۔ یہ سب کچھ کرنے میں ان لوگوں نے طبقاتی، صنفی اور نسلی استحصال اور امتیاز کو اپنے مفاد کی خاطر پروان چڑھایا اور استعمال کیا۔

اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بھی سماجی تبدیلی کا عمل وہی رخ اختیار کرے گا؟ تاریخی لحاظ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سرمائے کے چیمپیئنز 1 فیصد کے فائدے کے لیے 99فیصد کی بھلائی سے یکسر غیر جانب دار رہے ہیں۔ یہ مفاد کی دوڑ اور منافعے کا چکر ایسے وقت میں اور بھی خطرناک ہے کیونکہ سرمایہ دار قلیل المدتی نفع کمانے کے پاگل پن میں اپنے ہی طویل المدتی فائدے کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ صرف اور صرف منافع کمانے کے خواب نے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کر دیا ہے اور صورت حال کی سنجیدگی کا اندازہ کرنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔

جو خطرات خود سرمایہ دارانہ نظام کو لاحق ہیں، یہ ان سے بھی آنکھیں چرا کے بیٹھے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ آج بھی تیل نکالنے کے لیے مسلسل کھدائی کرتے رہیں گے خواہ اس کے بدلے قدرتی ماحول تباہ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ قلیل المدت منافعے کے اس اندھے خواب کو پورا کرنے کی دھن میں یہ اس قابل ہی نہیں رہے کہ ماحولیاتی پیچیدگیوں کو سمجھ سکیں اور ایسی ماحول دوست پالیسیاں مرتب کریں جن سے منافع کمانے کا طویل المدت خواب پورا ہو سکے۔ دولت اکٹھا کرنے کے لالچ نے انھیں اندھا کر دیا ہے۔

99 فیصد کا فیمینزم سوال اٹھاتا ہے کہ کب ہم معیشت اور سماج، پیداوار اور افزائش نسل اور روزگار اور کنبے کے درمیان حد بندی کریں گے؟ زائد پیداوار جسے ہم سب مل کر پیدا کرتے ہیں اس کی تقسیم کس طرح ہو گی؟ کیا سرمایہ دارانہ نظام نجی دولت کی مسلسل پیداوار اور ارتکاز کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کرتا رہے گا؟ بالکل اسی طرح جیسے اس نے صنفی درجہ بندی (Hierarchy) کو تسلیم کر رکھا ہے۔ کیا یہ فیمینزم کے اہم دھڑوں کو اپنے اندر ضم کر لے گا؟ یا آج جس طرح دنیا بھر کے لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، کیا وہ منافع کے اس سرکش گھوڑے کو لگام دے سکیں گے؟ اگر ہاں تو کیا فیمینزم اس کو لگام دینے میں سب سے آگے کھڑا ہوگا؟ تو اس کا جواب ہے ہاں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مجیبہ بتول، اسلام آباد کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments