پروٹوکول کی قبیح رسم کب ختم ہو گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی زبان کے اس لفظ کا مناسب اردو متبادل نہیں مل سکا۔ ترجمہ کیا جائے تو ترجیحی سلوک یا ترجیحی برتاؤ ایسے الفاظ سوجھتے ہیں مگر یہ پروٹوکول کے پورے عمل کے مترشح نہیں۔ میری نظروں سے ایک تحریر گزری جس میں پروٹوکول کے خواہش مندوں کو ذہنی مریض کہا گیا ہے۔ بات تو صحیح ہے۔ ویسے بھی کسی بھی صورت حال میں کسی بھی درجہ پر پروٹوکول دیا جاتا ہے لیا نہیں جاتا۔

پروٹوکول کی کئی صورتیں ہیں جیسے کسی کی سواری گزرنے سے پہلے سڑکوں کو عوام الناس کے لئے بند رکھنا، کسی پبلک سہولت والے مقام پر ترجیحی بنیاد پر وہ سہولت نہ صرف حاصل کرنا بلکہ اس دوران اس ادارے کو عوام کے لئے بند کر دینا، کسی کی آمد سے پہلے در و دیوار کی سجاوٹ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ پروٹوکول نجی حیثیت میں بھی دیا جاتا ہے اور سرکاری حیثیت میں بھی۔ ہمارا تذکرہ سرکاری حیثیت میں دیے جانے والے پروٹوکول تک محدود ہے۔

شاہراہوں کو عوام کے لئے گھنٹوں بند رکھنے کی روایت ہمارے ہاں تو پرانی ہے۔ میرے مشاہدے میں سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم کی سواری گزرنے سے پہلے سڑکوں کا بند کیا جانا ہے۔ عوام کو پریشانی ہوتی تھی۔ مریضوں کو خاص طور پر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا اور ویسے بھی عوام کا نقصان مجموعی طور پر تو ملک کا نقصان ہی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کوئی مریض ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دو بیٹھتا ہے تو وہ فرد واحد بعض اوقات پورے کنبے کا کفیل ہوتا ہے لہٰذا نقصان ہر حال میں مجموعی ہوتا ہے اور پریشانی الگ۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا دور اس گھٹن والی روایت کے سلسلے میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا جو اس کے بعد آج دن تک دوبارہ نصیب نہیں ہوا۔ بھٹو صاحب نے برسراقتدار آتے ہی اپنے گزرنے کے اوقات میں شاہراہوں کو کھلا رکھنے کا فرمان جاری کیا تھا۔ یہ ایک قابل ستائش اور قابل تقلید روایت تھی۔ بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ ازاں بعد کسی حاکم یا نام نہاد عوامی خدمت سے سرشار حکمران کو شاہراہیں بند رکھنے سے عوام کی تکلیف کا ادراک نہ ہو سکا اور نہ ہی ان کے ضمیر نے کبھی ملامت کی کہ عوام پر کیے گئے اس جبر سے کتنی اموات واقع ہو جاتی ہیں۔

بچوں کی پیدائش کا مرحلہ سواری کے اندر آ پہنچتا ہے، کتنے خاندان اپنے کفیل سے محروم ہو جاتے ہیں، کتنے طالب علم امتحانی مراکز میں نہیں پہنچ سکتے، کتنے امیدوار انٹرویو دینے سے رہ جاتے ہیں، کتنے لوگوں کی فلائٹ رہ جاتی ہے اور کتنوں کی گاڑی چھوٹ جاتی ہے۔ خوش قسمتی سے دور حاضر کی ایجادات کے سبب اب سڑکوں کی بندش کا دورانیہ کم ہو گیا ہے۔

شاہراہیں بند کرنے کی روایت کو روا رکھنے کے لئے حفاظت کی توجیہہ پیش کی جاتی ہے حالانکہ حفاظت کے لئے کئی اور تدابیر بھی اختیار کی جا سکتی ہیں۔ مروجہ طریقہ کار میں خرچ زیادہ اٹھتا ہے اور ہاں شان و شوکت اور تمکنت زیادہ ٹپکتی ہے اور مقتدر طبقہ اسی کا خواہاں ہوتا ہے۔

ہزاروں معتوب لوگوں کو انتظار کی اذیت میں مبتلا کیے ہوئے درجن بھر گاڑیوں کے جلو میں جب شاہی سواری شاہراہ کو رن وے میں بدل کر فراٹے بھرتی ہے تو حاکم کی انا کو جو تسکین ملتی ہے وہ اسی طرز کہن پر اڑے رہنے کو تقویت دیتی ہے۔ یہی وہ دماغی خلل یا بیماری ہے جس کا میں نے ابتدا میں ذکر کیا۔

یہ بیماری صرف حکمرانوں تک محدود نہیں ، اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے ملازمین بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بیماری کے مختلف مراحل ہیں۔ عہدے کے ساتھ ساتھ پروٹوکول کے درجات بھی بلند ہوتے جاتے ہیں۔ اس بیماری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ متعدی ہونے کے سبب بڑے حکمرانوں یا افسروں کے قریب رہنے والے اہلکار بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس میں مبتلا لوگ خود کو مافوق الفطرت سمجھنے لگتے ہیں۔ قومی مال و دولت کی حرمت سے تہی دست ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں یہ بیماری تقریباً لاعلاج ہے۔ مبتلائے بلا حکمران جب مسند اقتدار کھو بیٹھتے ہیں اور سرکاری افسران جب ریٹائر ہو جاتے ہیں تو اس بیماری کی پیچیدگیاں دیکھنے میں آتی ہیں جن میں ڈپریشن سرفہرست ہے اس کے علاوہ مالیخولیا اور چپ سادھ لینے کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔

اس کے برعکس جو معدودے چند منصب دار اس کر و فر سے اجتناب برتتے ہیں اور خدا خوفی کرتے ہوئے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتے، ان کی ریٹائرڈ زندگی انتہائی پرسکون گزرتی ہے اور پہلے سے زیادہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں اجر کے حق دار بھی ٹھہرتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے بھٹو صاحب نے اس قبیح رسم کو توڑا تھا ، اسی طرح پھر سے کوئی مرد مجاہد آگے بڑھے اور پروٹوکول کے بت کو توڑے۔ ایسے کام کی ابتدا کے لئے موجودہ حکمران سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے جو دہائیوں سے پروٹوکول کی نفی کرتا رہا ہو۔ پروٹوکول کو رد کرنے سے جہاں حکمرانوں کی عزت و تکریم عوام کے دلوں میں جاگزیں ہو گی وہاں ان کے ذہن میں عوامی مسائل بھی رسائی پائیں گے اور حالات کے سدھار کی طرف بڑھیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments