ممتاز مفتی کا "سمے کا بندھن”



بندھن بہت سے ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک سمے کا بندھن بھی ہوتا ہے جو روح کو باندھ لیتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے جس میں اندر کے سروں کو پکا کرنا پڑتا ہے، تال ملانی پڑتی ہے، آئینہ بننا پڑتا ہے، آئینہ دکھانا جتنا آ سان ہے ،  آئینہ بننا اور پھر بن کے رہنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اخلاص نہ ہو تو بے دردی جنم لیتی ہے اور بے دردی ان آئینوں کو چور چور کر دیتی ہے۔ چور ہونا آسان نہیں لیکن اس کے بعد کچھ ہونا باقی نہیں رہتا اور جیون مکمل ہو جاتا ہے۔ کسی کے کام آ جاتا ہے۔ جیون کسی کے کارن بیتے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے۔

ممتاز مفتی نے اپنے افسانے ”سمے کا بندھن“ میں ایسی ہی ایک کیفیت کو باندھا ہے۔ کہانی اک طوائف زادی کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ طوائف کی زندگی میں روحانی پاکیزگی دیکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہت کم ادیب ہیں جو اس موضوع سے انصاف کر پائے ہیں۔ کیونکہ اس کے لیے اپنا من صاف کرنا پڑتا ہے، اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ ممتاز مفتی نے اپنے اندر جھانک کر ہی سنہری کا مرکزی کردار تخلیق کیا ہے۔ کتاب ”سمے کا بندھن“ کے آغاز میں انھوں نے ٹھیک کہا ہے:

”یہ کہانیاں نہ تو میں نے فن کے لیے لکھی ہیں اور نہ ہی زندگی کے لیے یہ کہانیاں میں نے اپنے لیے لکھی ہیں۔ دراصل یہ کہانیاں نہیں ہیں ، یہ سب کچھ وہ ہے جو میں نے زندگی میں پایا، کھویا،  یہ میرے ہونٹوں پر آیا ہوا تبسم بھی ہیں طنز سے پاک۔ میری آنکھ سے گرا ہوا آنسو بھی ہیں۔“ (ممتاز مفتی، سمے کا بندھن، فیروزسنز، لاہور: 1993 ص 5 )

مرکزی کردار سنہری جس کی زبانی کہانی سنائی گئی ہے ، آپی کی بیٹھک کی زینت ہے۔ دو اور لڑکیاں روپہ اور پیلی بھی اس بیٹھک کا حصہ ہیں۔ لیکن آپی کی سب سے زیادہ سنہری سے بنتی ہے، وہ اسے محبت سے ”سنہرے“ کہتی ہے۔ آپی اپنے دل اور تجربے کی سب باتیں سنہری سے کرتی ہے۔

آپی کی بیٹھک کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں فن کی قدر کرنے والوں کی تواضع کی جاتی ہے اور پوترتا کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ پوترتا اصولوں سے حاصل ہوتی ہے ، اس لیے آپی نے اس بیٹھک کے کچھ اصول بنا رکھے ہیں جن میں سے سب سے اہم اصول سمے کا دھیان رکھنا ہے۔

”لڑکیو! سمے بڑی چیز ہے۔ ہر کام کا الگ سمے بنا ہے۔ رات کو گاؤ بجاؤ۔ پیو پلاو۔ ملو ملاؤ۔ موج اڑاؤ۔ بس تین بجے تک۔ پھر بھور سمے اس کا سمے ہے۔ اس کا نام جپو۔ اسے پکارو۔ فریاد کرو۔ دعائیں مانگو۔ سجدے کرو۔ اس سمے تم عیش نہیں کر سکتے۔ گناہ نہیں کر سکتے۔ قتل نہیں کر سکتے۔ یہ دھندا جو ہمارا ہے اس کے سمے میں نہیں چل سکتا۔ اس کے سمے میں پاؤں نہ دھرنا۔ اس نے برا مانا تو ماری جاؤ گی۔ جو وہ راضی ہو گیا تو بھی ماری جاؤ گی۔اور دیکھو اس کے سمے کے نیڑے نیڑے بھی ایسا گیت نہ گانا جو اسے پکارے بھجن نہ چھیڑنا۔ ڈرو کہیں وہ تمہاری پکار سن کر ہنکارا نہ بھر دے۔ ”(ص 11 )

اس بیٹھک میں بہت سے گاہک آتے ہیں مگر عزت صرف ٹھاکر کی کی جاتی ہے ہے کیونکہ وہ اپنے من میں بھیگا ہوا شخص ہے۔ قدر دان ہے۔ ایک دن ٹھاکر آپی سے درخواست کرتا ہے کہ اس کے مرشد خواجہ معین الدین چشتی (غریب نواز) کا دن منانا ہے وہ اس کے گھر آئیں۔ یہ خالصتاً ایک گھریلو تقریب ہے ، اس لیے ٹھاکر صرف آپی کو ہی لے کے جانا چاہتا ہے۔ ایک لڑکی روپہ کی طبعیت اچھی نہیں ہوتی ، اس لیے آپی جانا نہیں چاہتی لیکن پھر ٹھاکر کے اصرار اور خواجہ کے دن کی اہمیت کے پیشں نظر وہ پیلی کو روپہ کے پاس چھوڑتی ہے اور سنہری کو لے کے چلی جاتی ہے۔

اس دن محفل خوب جمتی ہے۔ کیفیت سے بھرے سنہری کے گیت پوری محفل کو بھگو دیتے ہیں۔ آپی کی طبعیت بھی ناساز ہو جاتی ہے اور وہ محفل چھوڑ کے چلی جاتی ہے۔ رات گزرتی جاتی ہے اور پو پھٹنے کا سمے آ جاتا ہے۔ بھیگتی ہوئی رات کے اس پل سنہری کو سمے کا دھیان نہیں رہتا ، آپی بھی نہیں ہوتی جو اسے ٹوک دیتی۔ جس وقت ٹھاکر اسے کہتا ہے کہ ’خواجہ مورے رنگ دی چنریا ایسی بھی رنگ دے رنگ نہ چھوٹے دھوبیا دھوئے جائے ساری عمریا ‘سنائے تو اسے گاتے گاتے ایسا رنگ چھوٹتا ہے کہ سنہری کا اپنا رنگ سنہری نہیں رہتا۔ یوں لگتا ہے گویا خواجہ نے اس کی عرض سن کر اس کی چنریا رنگ دی ہے۔

محبوب الٰہی کا رستہ بڑا صاف اور سیدھا ہوتا ہے۔ جب مرشد چنریا پکڑ کر اس ذات واحد کے رنگ میں رنگتا ہے تو سب سے پہلے اپنی نفی کا خیال اجاگر ہوتا ہے۔ دل وحدانیت کے افق پہ پنچھی بن کے اڑتا رہتا ہے۔

سنہرے کا دل بھی پھر کہیں نہیں لگتا ، وہ عجیب کیفیت کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اب وہ کسی ایک کی ہو جائے، اس کی خدمت کرے اور اس خدمت کی کنجی سے اپنے من کی مراد پا لے۔ اس لیے وہ شادی کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ آپی اس کی کیفیت سے واقف ہے ، وہ اس کا بھرپور ساتھ دیتی ہے اور جب جاگیردار اس کی قسمت کا فیصلہ بن کے آتا ہے اور سنہری سے شادی کی بات کرتا ہے تو وہ سنہری کو اپنی بیٹی بنا کے اس کے ساتھ رخصت کر دیتی ہے۔

یہاں ایک زندگی ختم ہو جاتی ہے اور دوسری جنم لیتی ہے۔ اب سنہری بائی چھوٹی چودھرانی ہے۔ جیون مختلف کہانیوں سے مل کر بنتا ہے سنہری کی ایک کہانی سمے میں قید ہونے سے بنتی ہے اور دوسری اس سمے کے نتیجے کی چاہ میں گزر رہی ہے۔ اس سمے نے جو فیصلہ کیا۔ اس نے قبول کیا لیکن اس نے اس سمے میں کیا کھویا کیا پایا، اس کی دھن اسے بے چین رکھتی ہے۔ بے شک انسان نتیجہ باز ہے۔ وہ نتیجے کی چاہ اور کھوج میں رہتا ہے۔ خواہ وہ ایسے رنگ میں ہی رنگا کیوں نہ ہو جسے دھوبی نہ دھو سکے۔ بس وہ اپنے پکے رنگ کا ثبوت چاہتا ہے۔

سنہری بھی ایک انسان ہے ، چنری کا رنگ پکا ہے یا کچا ، یہ جاننے کا حق اسے بے چین رکھتا ہے۔

کہانی کے دوسرے حصے کے آغاز میں زمیندار کی موت ہو چکی ہے اور چھوٹی چودھرانی (سنہری) نے اپنی تمام جائیداد اپنے سوتیلے بیٹوں کے نام لگا دی ہے۔ اور اب وہ گم صم سی رہتی ہے۔ مالی اور دیگر نوکر اس کی یہ حالت دیکھ دیکھ کے کڑھتے ہیں کہ کیوں اس نے اپنا سب کچھ دے دیا اور اب چپ لگائے بیٹھی ہے۔ وہ سب اس نیک دل چودھرانی کے خیر خواہ ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ سنہری پر تو کوئی اور ہی دھن سوار ہے ، ان دنوں وہ ایک ہی گیت گاتی ہے۔

”خواجہ پیا موری لیجیو خبریا“
اس کے اندر سے ایک ہی آواز اٹھتی ہے
”بول تیرا جیون کس کام آیا“

ایک دن پٹواری اس کے پاس آتا ہے اور مہمان خانے میں درویش رکھنے کی اجازت مانگتا ہے۔ وہ اجازت دے دیتی ہے۔ لیکن جب اسے اپنی ملازمہ جنت بی بی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز کے مرید ہیں تو وہ ان سے ملنے کے لیے بے قرار ہو جاتی ہے۔ جنت بی بی اسے کہتی ہے کہ یہ درویش مغرب کے بعد کسی سے نہیں ملتے۔ لیکن سنہری اپنے من کی موج کے آگے نہیں ٹھہر پاتی اور ان سے ملنے چلی جاتی ہے۔ وہاں پہنچتے ہی وہ ایک سوال ان کے توسط سے اپنے مرشد کے سامنے رکھتی ہے۔

”تو نے بیٹھک کے گملے سے ایک بوٹا اکھیڑا۔ اسے بیل بنا کر ایک درخت کے گرد لپیٹ دیا کہ جا اس پر نثار ہوتی رہ“ ۔ ”اب تو نے اس درخت کو اکھیڑ پھینکا ہے۔ بیل مٹی میں رل گئی۔ وہ بیل پوچھتی ہے :بول میرا جیون کس کام آیا؟“ (ص 18 )

یہاں تجسس کی ایک فضاء جنم لیتی ہے اور خواجہ کے ان دو بالکوں کا بھید کھل جاتا ہے ان میں سے ایک سارنگی نواز اور دوسرا ٹھاکر ہے۔ سنہری انھیں دیکھ کے حیران رہ جاتی ہے۔

دونوں کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ کہ اس کا جیون کس کام آیا۔

کہانی کا اختتامیہ بہت دلچسپ ہے ، اسے اونچے سروں میں باندھا گیا ہے۔ اس دن خواجہ کی محفل کا رنگ صرف سنہری کو نہیں بھگوتا، سارنگی نواز اور ٹھاکر بھی اس سمے قید میں بندھ جاتے ہیں۔ بے شک سمے سمے کی بات ہے۔ یوں سنہری کا جیون بھی کام آ جاتا ہے۔ ایک سوال کو جواب مل جاتا ہے۔ انسان کے کارن کسی ایک کا جیون بھی بدل جائے تو زیست رائیگاں نہیں جاتی۔ سنہری کا اخلاص بھی بوٹی بن کر ان دونوں کے اندر مشک اٹھا دیتا ہے۔

کہانی کہنے کا فن اس افسانے کا حسن ہے۔ کہنے کی بات ہو تو ہی کہانی بنتی ہے۔ ممتاز مفتی نے کہانی کو اچھا تراشا ہے۔ اسے رنگوں میں بھیگنے دیا ہے اور سروں میں بہنے دیا ہے۔ تشنگی کیسے سیراب کرتی ہے؟ یہ کیفیت اس افسانے کا فریم ہے اور اس کے سب کردار اس فریم میں اپنی اپنی جگہ سموئے ہوئے ہیں۔ افسانے کی اضافی خوبی اس کے مکالمے ہیں ان مکالموں نے کہانی میں ایک ایسی جکڑ پیدا کی ہے کہ جگ بیتی ہڈ بیتی لگنے لگتی ہے۔

ممتاز مفتی کا ”سمے کا بندھن“ سنہری کی طرح قاری کے بھی کام آتا ہے۔ یہ ایک ایسا افسانہ ہے جو پڑھنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ اور اسے زندہ رکھنے کے لیے یہ سوال ہی کافی ہے۔

”بول تیرا جیون کس کام آیا“

Facebook Comments HS