محمد سلیم الرحمان کی نظمیں: ان دیکھا سچ

محمد سلیم الرحمان کی نظمیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں۔ جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے نظم کو پا لیا ہے یہ کسی ان دیکھے بن میں گم ہو جاتی ہیں۔ دور سے سنائی دیتا سر ہو جاتی ہیں۔ یہ بھول بھلیاں ہیں۔ جس میں کبھی دن ہے کبھی رات ’کبھی سہ پہر ہے اور کبھی دوپہر۔ اور کبھی کبھی تو اس سے بھی پرے ان دیکھے پہر ہیں۔ اور یہیں سے سلیم الرحمان دکھتا ہے۔ جس کی خاموشیاں بولتی

Read more

سندرتا کی ملکہ نیرہ نور

اکہتر برس کی نیرہ نور اچانک چلی گئیں۔ ہم نے نیرہ کی گائیکی کے سنگ جینا سیکھا ہے۔ نیرہ کے سر سنگیت نے ہمیشہ ہم جیسوں کا ساتھ دیا ہے۔ اس کی صاف و شفاف آواز جذبوں کے درمیان حائل نہیں ہوتی اسے تیکھا کر کے اور سانولا کر کے ہمارے گوش گزار کر دیتی ہے۔ وہ احساسات کی ملکہ ہے۔ جذبے اس کے در پہ اپنے معنی کی تلاش میں آتے ہیں۔ وہ انھیں خالی واپس نہیں جانے دیتی۔

Read more

ممتاز مفتی کا "سمے کا بندھن”

بندھن بہت سے ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک سمے کا بندھن بھی ہوتا ہے جو روح کو باندھ لیتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے جس میں اندر کے سروں کو پکا کرنا پڑتا ہے، تال ملانی پڑتی ہے، آئینہ بننا پڑتا ہے، آئینہ دکھانا جتنا آ سان ہے ،  آئینہ بننا اور پھر بن کے رہنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اخلاص نہ ہو تو بے دردی جنم لیتی ہے اور بے

Read more

عصمت چغتائی کا ”دوزخی“

بہن اور بھائی کا رشتہ بہت انو کھا، دلچسپ اور دل فریب ہوتا ہے۔ زندگی پل پل جتنے رنگ بدلتی ہے یہ رشتہ انھیں رنگوں سے ہم آمیز ہوتا چلاجاتا ہے۔ کبھی یہ رشتہ گڑ سے میٹھالگتا ہے اور کبھی سقراط کے پیالے جیسا۔ ایک بہن اپنے بھائی سے اتنی ہی محبت کرتی ہے جتنی اپنے آپ سے کر سکتی ہے اور نفرت کا پیمانہ بھی کم و بیش یہی ہے۔ محبت اور نفرت کا یہی رس اس رشتے کو

Read more

جندر، حاجرہ، ایک آزاد عورت

کتنے نسوانی کردار ہیں جو کسی تخلیق کار کی نظر اور بنت کے انتظار میں ہیں۔ ان میں سے ایک پہ تو اختر رضا سلیمی کی نظر گئی ہے۔ اور حق ادا کر گئی ہے۔ حاجرہ کا کردار ناول کے وسطانیے کے بعد رونما ہوتا ہے۔ ناول میں وہ ایک ضدی اور خود شناس خاتون کے روپ میں متعارف کرائی گئی ہے۔ جو مرکزی کردار ولی خان کی چچا زاد ہے اور اس سے بارہ برس چھوٹی ہے۔ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن کا یہ اعزاز ہے کہ وہ اپنے گاؤں کی پہلی میٹرک پاس لڑکی ہے۔

لڑکوں کے ہائی اسکول میں پڑھنے والی واحد لڑکی ہونے کے باعث بہادری اور بے خوفی اس کا وصف بن گئی ہے۔ وہ سکول کے زمانے سے ہی ولی خان کے پاس جندر جاتی ہے اور یہیں اسے کتب بینی کی چاٹ لگتی ہے اور یہ کتاب دوستی اس کے ذہن کی پرواز کو بلند اور شعور کو پختہ کر دیتی ہے۔ وہ میٹرک کے بعد آنے والے ہر رشتے سے انکار کر دیتی ہے اور اسکول میں پڑھانا شروع کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیم جاری رکھتے ہوئے علاقے کی پہلی بی اے خاتون کا حق بھی محفوظ کر لیتی ہے۔

Read more