کتنے نسوانی کردار ہیں جو کسی تخلیق کار کی نظر اور بنت کے انتظار میں ہیں۔ ان میں سے ایک پہ تو اختر رضا سلیمی کی نظر گئی ہے۔ اور حق ادا کر گئی ہے۔ حاجرہ کا کردار ناول کے وسطانیے کے بعد رونما ہوتا ہے۔ ناول میں وہ ایک ضدی اور خود شناس خاتون کے روپ میں متعارف کرائی گئی ہے۔ جو مرکزی کردار ولی خان کی چچا زاد ہے اور اس سے بارہ برس چھوٹی ہے۔ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن کا یہ اعزاز ہے کہ وہ اپنے گاؤں کی پہلی میٹرک پاس لڑکی ہے۔
لڑکوں کے ہائی اسکول میں پڑھنے والی واحد لڑکی ہونے کے باعث بہادری اور بے خوفی اس کا وصف بن گئی ہے۔ وہ سکول کے زمانے سے ہی ولی خان کے پاس جندر جاتی ہے اور یہیں اسے کتب بینی کی چاٹ لگتی ہے اور یہ کتاب دوستی اس کے ذہن کی پرواز کو بلند اور شعور کو پختہ کر دیتی ہے۔ وہ میٹرک کے بعد آنے والے ہر رشتے سے انکار کر دیتی ہے اور اسکول میں پڑھانا شروع کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیم جاری رکھتے ہوئے علاقے کی پہلی بی اے خاتون کا حق بھی محفوظ کر لیتی ہے۔
Read more