یتیم خانہ چوک: لاہور میں پولیس اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں، متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاجی کارکنوں اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں ہیں جس کے نتیجہ میں ہلاکتوں اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
خیال رہے کہ مذکورہ علاقے میں ٹی ایل پی کا احتجاج رواں ہفتے سے جاری ہے۔
کالعدم ٹی ایل پی کی جانب سے دعوٰی کیا گیا ہے کہ پولیس نے اتوار کی صبح ان کے مرکز پر آپریشن کیا جس میں ان کے دو کارکنان ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کی مرکزی شورٰی کے رہنما علامہ شفیق امینی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ہلاک کارکنان کی تدفین اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ’فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال نہیں دیا جاتا۔‘جبکہ دوسری جانب پولیس ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈی ایس پی نواں کوٹ سمیت پولیس کے پانچ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا جا رہا تھا۔
پولیس کے مطابق کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان نے ان پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد یرغمال بنا رکھا ہے۔ پولیس کے مطابق ’رینجرز کے دو جوان بھی تحریکِ لبیک کے کارکنان کی حراست میں ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
حکومت جیتے گی یا تحریک لبیک کے سعد رضوی؟
کیا تحریکِ لبیک پر پابندی موثر ثابت ہو گی؟
کیا حکومت کا تحریک لبیک پر پابندی کا طریقہ کار درست ہے؟
’ڈی ایس پی نواں کوٹ، دیگر پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا‘
پولیس ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان کے اہلکاروں نے گذشتہ روز قریبی پٹرول پمپ سے پٹرول سے بھرے دو ٹینکر بھی قبضہ میں لیے تھے جو تاحال ان کے مرکز کے قریب کھڑے ہیں۔
’اس پٹرول سے وہ پٹرول بم بنا کر پولیس پر حملے کرتے رہے ہیں۔ تاحال ایس ایچ او تھانہ نواں کوٹ بھی لاپتہ ہیں۔‘
پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان نے ایک ’پولیس اہلکار کو گذشتہ روز اس وقت اغوا کیا جب وہ روٹی لینے کے لیے قریبی تندور پر پہنچے تھے۔ ڈی ایس پی نواں کوٹ اور دیگر پولیس اہلکاروں کو نواں کوٹ تھانے پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا۔‘
ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ کا ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کی مبینہ حراست میں ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال آپریشن روک دیا گیا ہے کیونکہ پولیس کے اہلکار تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان کی حراست میں ہیں اور ’وہاں آئل ٹینکر موجود ہیں جن میں 55000 لیٹر پٹرول موجود ہے اور اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔‘
خیال رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ‘میں سب پر واضح کر دوں کہ: ہماری حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی۔
‘جب انھوں نے ریاستی عملداری کو للکارا اورکوچہ و بازار کو فساد سے بھرتے ہوئےعوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ آور ہوئے۔ کوئی بھی آئین و قانون سے بالاترنہیں ہوسکتا۔’
اس سے قبل انھوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک بھر میں انتشار کو ہوا دے کر حکومت کو بلیک میل کرنے کی غرض سے پھیلائے جانے والے منظم تشدد کا جوانمردی سے سامنا کرنے پر میں اپنی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
‘چار جوان شہید جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوئے۔ قوم ان ہیروز کی مقروض ہے چنانچہ شہدا کے اہلِ خانہ کی ہم مکمل دیکھ بھال کریں گے۔’
تحریک لبیک کے ملک میں احتجاجی مظاہرے
رواں ہفتے تحریک لبیک پاکستان نے اپنے رہنما سعد رضوی کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور اس دوران زیادہ کشیدگی والے علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کی گئی تھی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا تھا۔
رواں ہفتے پاکستان کی حکومت نے تحریک لبیک پر انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی کا اعلان کیا تھا۔
جبکہ جمعے کو پاکستان کی حکومت نے ملک میں چار گھنٹوں کے لیے سوشل میڈیا کی متعدد اہم ویب سائٹس تک رسائی پر پابندی لگا دی تھی۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا ارسلان خالد نے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ نمازِ جمعہ کے دوران لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا کیونکہ ’سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مظاہروں پر اُکسایا جاسکتا ہے۔‘
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ، دیگر رہنماؤں کے خلاف دہشتگردی کے مقدمے درج
گذشتہ ہفتے کے دوران ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد احتجاج اور مظاہروں میں کم از کم تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد لاہور اور کراچی میں جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی اور دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔
پولیس کی جانب سے سعد رضوی کی گرفتاری کی کوئی فوری وجہ نہیں بتائی گئی تھی تاہم اس اقدام کو تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے 20 اپریل کو اسلام آباد کی طرف ناموس رسالت مارچ کے تناظر میں دیکھا گیا تھا۔
لاہور اور کراچی کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے علاوہ امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔
پولیس کی مدعیت میں ایک مقدمہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں درج کیا گیا ہے اور اس میں سعد رضوی کے علاوہ قاضی محمود احمد قادری، پیر سید ظہیر الحسن شاہ، مہر محمد قاسم، محمد اعجاز رسول، پیر سید عنایت علی شاہ، مولانا غلام عباس فیضی، مولانا غلام غوث بغدادی سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔
ان رہنماؤں پر یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات برائے قتل، اغوا اور دیگر سمیت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت درج کیا گیا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد سمیت دیگر نے سوشل میڈیا اور مسجدوں سے اعلانات کے ذریعے عوام کو پرتشدد احتجاج اور پورے پاکستان کو جام کرنے پر اکسایا۔
اس کے علاوہ کراچی کے مشرقی ضلع کے چار مختلف پولیس سٹیشنوں میں 30 افراد کے خلاف پانچ مختلف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں دو ایف آئی آر میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل ہیں۔
گذشتہ برس خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔
حکومت اور ٹی ایل پی میں 2020 کا معاہدہ
پاکستان کی وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔
اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔
حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔



