آرمی چیف قدم بڑھاؤ


میری آج کی تحریر پاکستان کی مسلح افواج کے سپہ سالار کے لیے ہے۔ آج میں ملک کے معروضی حالات سے پریشان ہو کر اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور ان سرحدوں کے درمیان بسنے والے کروڑوں انسانوں کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے اور پھر اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے دہشت گردی اور دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے دینے والے شہدا اور لاکھوں فوجیوں کے کمانڈر جناب قمر جاوید باجوہ صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ جناب! ملک اس وقت بحران کا شکار ہے اس بحران کے خاتمے کے لیے قدم بڑھائیں۔

جناب آپ کو یاد ہو گا کہ 2009 میں سوات مالاکنڈ ڈویژن میں قائم شرعی عدالتوں کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج نے مئی میں آپریشن راہ راست شروع کیا۔ یہ فوج کی طرف سے ایک ایسی سنجیدہ کوشش تھی جس میں ہمارے بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا بلکہ بنیادی طور پر یہ ریاست کا واضح اور مستحکم بیانیہ تھا جو ہر اس طاقت کے خلاف تھا جو ریاست کے قوانین سے متصادم ہو۔ لاکھوں مہاجرین نے ہجرت کی اور پھر ان کی دوبارہ آبادکاری ہوئی۔ تاہم سوات، بونیر، اپردیر، لوئر دیر اور دیگر مضافاتی علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ختم کر کے ریاست کی عمل داری قائم کر دی گئی۔ یہی نہیں بلکہ جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے خلاف آپریشن راہ نجات بھی کامیاب رہا۔

جناب! آپ کو یاد ہو گا کہ 2014 میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ طالبان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ملک بھر میں دہشت گرد کارروائیوں کا اعلان کیا۔ ایسے میں ریاست نے فیصلہ کیا اور جون 2014 میں فوج نے وزیرستان میں عسکری آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ بلاشبہ فوج نے لازوال قربانیاں دیں جس کے نتیجے میں شدت پسندوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی۔ یہ بھی ریاست کا بیانیہ تھا اور ریاست چند عناصر کے سامنے بلیک میل نہیں ہوئی اور بدترین حالات میں مشکل مگر درست فیصلے کیے۔

تاہم مشکلات کم نہیں ہوئیں اور عوام کی جان و مال کی حفاظت جو کہ ریاست کے اولین فرائض میں شامل ہے اس وقت تک یقینی نہیں بن سکی تھی۔ ایسے میں ریاست نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردوں کی بچی کچھی باقیات کو بھی ختم کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کوششوں سے انٹیلی جنس آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا۔ اس آپریشن میں کامیابی ملی اور اس کے نتیجے میں پہلی بار کراچی کی رونقیں بحال ہوئیں ، پہلی بار پاکستان سپر لیگ منعقد ہوئی۔ بلاشبہ ان کامیابیوں کے پیچھے ریاست کا اٹل فیصلہ، مسلح افواج کا پروفیشنل ازم اور عوام کی قربانیاں شامل تھیں۔

ان تمام تر اقدامات کے نتیجے میں آج ملک بھر میں سکون ہے اور عوام دہشت گرد کارروائیوں سے محفوظ ہیں۔ آج کہیں بھی خودکش حملے نہیں ہوتے اور نہ ہی بم بلاسٹ ہو رہے ہیں۔ ریاست کے اٹل فیصلوں نے مستقبل کا بیانیہ طے کر دیا۔ یہ طے ہو گیا کہ ملک کے آئین اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ہر اس طاقت کو بزور طاقت ختم کر دیا جائے گا جو ریاست سے متصادم ہو گا۔ جو ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرے گا اس کے چیلنج کو قبول کر کے اس کا مقابلہ کیا جائے گا ، اس سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

جناب والا! بے پناہ قربانیاں دینے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے امن اور ملنے والی ٹھیک راہ کے باوجود ریاست اور ریاستی ادارے ایک بار پھر الجھن کا شکار ہو گئے ہیں۔ ریاست پاکستان نے تحریک لبیک کو پرتشدد ہنگاموں کے بعد کالعدم قرار دے دیا۔ یہ وہی تحریک لبیک ہے جس سے کچھ عرصہ قبل ایک معاہدہ کیا گیا جس میں فریقین نے فرانسیسی سفیر کے مسئلے کے حل پر اتفاق کرتے ہوئے دستخط کر دیے۔ سوال یہیں سے پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ معاہدہ ہونا چاہیے تھا؟ اگر ہاں تو اس پر عمل کون اور کیسے کرے گا اور اگر نہیں ہونا چاہیے تھا تو پھر یہ معاہدہ کس نے کیا اور کس کی اجازت سے کیا؟

کیا یہ بات دل کے زیادہ قریب نہیں ہے کہ اگر یہ معاہدہ نہ کیا جاتا تو وہ کچھ نہ ہوتا جو آج کل لاہور کی سڑکوں پر ہو رہا ہے۔ ریاست اگر اس وقت کمزوری نہ دکھاتی اور اپنی سابقہ روش پر قائم رہتی تو آج یہ حالات ہی پیدا نہ ہوتے۔ آج ایک ایسی مذہبی آگ جل اٹھی ہے جس سے ہر صورت بچنا ہو گا اس کو وقت پر بجھانا ہو گا۔ ریاست کو ایک بار پھر ٹھیک اور دیرپا فیصلے کرنے ہوں گے۔ ریاست کو اپنا بیانیہ پھر سے دہرانا ہو گا اور اس الجھن کو دور کرنا ہو گا ، جو تحریک لبیک سے معاہدے کی صورت میں پیدا ہوئی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل ہے کہ ملک کے سیاسی حالات انتشار کا شکار ہو چکے ہیں موجودہ حکومت اپنا وہ تأثر قائم نہیں کرسکی جو کسی بھی مستحکم حکومت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس افراتفری سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں ، یہ انتشار شرپسندوں کے ارادوں کی تکمیل میں معاون ہو سکتا ہے۔ آپ ریاست کے اہم عناصر میں شامل ہیں۔ آپ قدم بڑھائیں اور اس انتشار کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور آپ بلاشبہ کر بھی رہے ہوں گے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ایک متفقہ نیا ریاستی بیانیہ تشکیل دیں۔ منتشر سیاسی قوتوں کو ایک دھارے میں بدلنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ سیاسی قوتوں کے تحفظات دور کرنے میں کردار ادا کریں۔

عوامی رائے کے مطابق یہی تأثر مل رہا ہے کہ موجودہ حکومت اس بحران سمیت معاشی اور سیاسی محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس عوامی رائے کو بدلنے کی ضرورت ہے اور عوامی رائے اس وقت بدلے گی جب ان کو معاشی آسودگی حاصل ہو گی، روزگار ملے گا ، مہنگائی سے نجات ملے گی ، بے روزگاری سے جان چھوٹے گی۔ ریاست کے تمام عناصر کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ عوام کو کسی کے کرپٹ یا ایمان دار ہونے سے غرض نہیں ہے ، عوام کو اس بات سے غرض ہے کہ ان کی ضروریات زندگی کیسے پوری ہوں گی اور انہیں دو وقت کی روٹی کیسے ملے گی۔

Facebook Comments HS