نومولود بچوں میں نیند کی کمی کا مسئلہ: کیا گھریلو ٹوٹکے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں؟

ثنا آصف ڈار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نمرہ

’میں بچے کو اپنا دودھ پلا رہی تھی تو کسی نے کہا کہ آپ خشخاص پیس کر اسے نہار منھ گرم پانی کے ساتھ پی لیں تو بچہ سونے لگے گا لیکن ایسا کرنے سے مجھے ہی نیند آنے لگی۔‘

طبی ماہرین کے مطابق نومولود بچے عام طور پر دن میں تقریباً 18 گھنٹے تک سوتے ہیں لیکن اگر بچے کی نیند میں خلل یا کمی آ جائے تو اس سے نہ صرف اس کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ والدین کے لیے پریشانی اور خاص طور پر ماں کے لیے تھکاوٹ اور بی چینی کا سبب بن سکتا ہے۔

کچھ ایسا ہی کراچی کے رہائشی جوڑے صہیب صدیقی اور ان کی اہلیہ نمرہ صہیب کے ساتھ ہوا جب یہ دونوں پہلی بار والدین بنے۔

نمرہ کہتی ہیں ’میری امی کی دوست نے کہا کہ اس کی مالش کر کے اسے ململ کے کپڑے میں لپیٹ کر سلانے کی کوشش کریں۔ کسی اور نے کہا کہ سرسوں کا تیل لیں اور اس سے بچے کی مساج کریں تو یہ سوئے گا لیکن وہ اس سے بھی نہیں سویا۔‘

کچھ ایسے ہی ملتے جلتے مشورے اسلام آباد کے رہائشی جوڑے ڈاکٹر ثنا اور ان کے شوہر حبیب الرحمان کو بھی دیے گئے جب ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔

ڈاکٹر ثنا کہتی ہیں کہ ’ہمیں کہا گیا کہ اس کی مالش کریں، اس کا دودھ تبدیل کر کے دیکھیں، عرق پلا کر دیکھیں، گرائپ واٹر پلا کر دیکھیں، پودینے کا قہوہ پلا کر دیکھیں، کچھ لوگوں نے کہا کہ نظر لگ جائے تو بھی بچہ نہیں سوتا، اس کی نظر اتاریں۔ ہم نے یہ سب کیا اور وقتی طور پر تھوڑا فرق بھی پڑتا لیکن پھر بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔‘

یہ بھی پڑھیے

نومولود بچوں کے پانچ بڑے مسائل جن کا سامنا تقریباً ہر ماں کو ہوتا ہے

پاکستان میں حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کا نظام کتنا مؤثر

بچوں میں وقفہ: ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اندر سے ختم ہو گئی ہوں‘

’کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ماں کا دودھ نہیں پی رہا تو اس وجہ سے یہ گہری نیند نہیں لیتا۔ ہم انتظار کرتے رہے کہ شاید جب یہ چھ ماہ کا ہو گا اور دودھ کے علاوہ دوسری خوراک بھی لینا شروع کرے گا تو اس کا پیٹ بھرے کا اور یہ سو جائے گا۔‘

نمرہ اور صہیب

BBC
نمرہ اور صہیب کے بیٹے کی عمر اس وقت چھ ماہ ہے لیکن پیدائش سے لے کر تقریباً تین ماہ کی عمر تک ان کا بچہ 24 گھنٹے میں بمشکل تین سے چار گھنٹے ہی سوتا تھا

’جب یہ سوتا نہیں تھا تو میرا غصہ اور بے چینی بڑھ جاتے

نمرہ اور صہیب کے بیٹے کی عمر اس وقت چھ ماہ ہے لیکن ان کے مطابق پیدائش سے لے کر تقریباً تین ماہ کی عمر تک ان کا بچہ 24 گھنٹے میں بمشکل تین سے چار گھنٹے ہی سوتا تھا۔

نمرہ کہتی ہیں ’جب میرا بچہ پیدا ہوا تو اسے دیکھنے آنے والے بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ صبح کے وقت پیدا ہوا ہے تو یہ پوری رات سوئے گا اور پورا دن جاگتا رہے گا لیکن یہ 24 گھنٹوں میں صرف 3 سے چار گھنٹے تک ہی سوتا تھا۔‘

اس وجہ سے نہ صرف نمرہ کی نیند متاثر ہوئی بلکہ ان میں چڑچڑا پن بھی پیدا ہونے لگا۔

وہ کہتی ہیں ’بچہ ہونے کی خوشی تو سائیڈ پر چلی گئی، جب یہ سوتا نہیں تھا تو میرے میں غصہ اور بے چینی بہت زیادہ بڑھ جاتا اور میں سارا غصہ اپنے شوہر پر نکالتی تھی۔ اپنی امی کو فون کر کے روتی تھی کہ یہ سو نہیں رہا۔ میرا سی سیکشن ہوا تھا تو میرا تو اٹھنا بیٹھنا بھی مشکل تھا۔‘

’پوری رات نیند پوری نہیں ہو پاتی تھی اور جس ٹائم پر میرا بچہ سوتا میں اس وقت پر نہیں سو پاتی تھی کیونکہ مجھے گھر کی دیگر چیزیں بھی دیکھنا ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی میں تنگ آ کر سب چیزیں چھوڑ کر صرف رونا شروع کر دیتی تھی۔‘

لیکن بچے کے نہ سونے کی وجہ سے صرف نمرہ کی ہی زندگی متاثر نہیں ہوئی بلکہ ان کے شوہر کے دن بھر کے معمولات زندگی بھی متاثر ہونے لگے۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے دفتر جانا ہوتا تھا تو میری نیند پوری نہیں ہوتی تھی، رات کو تین چار بجے تک جاگتا تو دفتر میں بھی سویا رہتا، بچے کے سونے اور جاگنے کا کوئی وقت نہیں تھا۔‘

ڈاکٹر ثنا اور ان کے شوہر حبیب الرحمان نے ہمیں بتایا کہ پیدائش کے فوراً بعد سے ہی ان کا بیٹا بھی تین سے چار گھنٹے سے زیادہ نہیں سوتا تھا۔

’ہمارے گھر کے بڑے ہمیں بتاتے تھے کہ نومولود بچے بہت زیادہ سوتے ہیں لیکن ہمارا بچہ صرف رات کو تین بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک ہی سوتا تھا اور باقی دن نہ تو سوتا تھا بلکہ بار بار دودھ بھی مانگتا تھا۔‘

لیکن نمرہ اور صہیب کے بچے کے برعکس اس جوڑے کے بچے میں یہ مسئلہ وقت گزرنے کے باوجود بھی حل نہیں ہوا اور سکول جانے کی عمر تک جاری رہا۔

’چھ ماہ کے بعد بھی اس کی نیند بہتر نہیں ہوئی۔ ایک سال کی عمر میں تو اس نے کھیلنا، چلنا پھرنا بھی شروع کر دیا لیکن اس کے باوجود یہ نہیں سوتا تھا۔ چار برس تک کی عمر تک یہ صرف رات میں تین گھنٹے ہی سوتا تھا۔‘

اور پھر تقریباً سوا چار برس کی عمر میں ڈاکٹر ثنا اور حبیب الرحمان کے بیٹے میں آٹزم کی تشخیص ہوئی۔

اس صورتحال میں ان جوڑوں کو ڈاکٹرز نے کیا مشورہ دیا؟

حبیب الرحمان نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے پاکستان کے علاوہ بیرون ملک بھی بہت سے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا لیکن اس مسئلے کو مناسب حل نہیں ملا۔

’ڈاکٹر نے ہمیں کہا کہ آپ نوٹس کریں کہ کوئی چیز اس کی روٹین کو خراب کرتی ہے۔ ماہر نفسیات نے کہا کہ آپ دن کے وقت اسے زیادہ سے زیادہ مصروف رکھیں۔‘

ڈاکٹر ثنا کہتی ہیں کہ ’ہم دن میں دو تین گھنٹے کے لیے اسے پارک بھی لے جاتے، ڈاکٹر نے کہا کہ اسے کم مقدار میں کھانسی کا شربت دیں۔۔۔ میں اس حق میں تو نہیں تھی لیکن جب زیادہ مسئلہ ہوتا تھا تو میں نے ایک دو بار کھانسی کا شربت بھی استعمال کیا لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔‘

نمرہ نے بتایا کہ انھیں کسی نے کہا کہ بچے کو گیسٹرک کا مسئلہ ہو سکتا ہے لہذا اسے ڈاکٹر کو دکھائیں۔

’ہمیں ڈاکٹر نے کہا کہ شام سات سے رات بارہ تک اسے سلانا ہی نہیں، تو پھر یہ باقی رات سویا رہے گا۔ ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ کمرے میں اندھیرا کر دیں، لائٹ کم کر دیں، کھڑکیوں کے آگے پردے کر دیں۔‘

’ڈاکٹر نے کہا کہ کچھ بچے بہت پرو ایکٹو ہوتے ہیں کہ اگر وہ 15 منٹ بھی سو لیں تو وہ کئی گھنٹے تک جاگ سکتے ہیں اور کچھ ایسا ہی ہمارے بچے کے ساتھ بھی تھا۔‘

بچوں کی نیند کا مسئلہ پھر ٹھیک کیسے ہوا؟

ڈاکٹر ثنا کے مطابق ان کے بیٹے کے معاملے میں کوئی بھی گھریلو ٹوٹکہ کام نہیں کیا کیونکہ ان کا بچہ آٹسٹک تھا اور اس کے کچھ مسائل تھے جن کے بارے میں انھیں علم نہیں تھا۔

’تقریباً سوا چار برس کی عمر میں ہمارے بیٹے میں آٹزم کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد ہمیں اسے مسئلے کی سمجھ آئی اور ہم نے بائیو میڈیکل کی مدد اور اس کے طرز زندگی میں کچھ تبدیلی لائی اور تقریباً ایک ماہ میں ہی یہ 10 سے 12 گھنٹے سونے لگا۔‘

اس کے علاہ اس جوڑے نے اپنے بچے کا سکرین ٹائم اور کھانے میں فاسٹ فوڈ کا استعمال بھی کم کیا جس سے کافی فرق پڑا اور ان کا بچہ دن کے وقت تو ابھی بھی نہیں سوتا تاہم رات کے وقت وہ بالکل ٹھیک نیند لیتا ہے۔

نمرہ کہتی ہیں کہ انھیں سب لوگوں نے یہ ہی کہا کہ پہلا بچہ ہے اس کی جلد روٹین سیٹ ہو جائے گی۔

’تین ماہ بعد میرے بچے کا سونے کا پیٹرن سیٹ ہو گیا۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہ تو ایک معجزہ ہے۔ اب تو میرا بچہ کھیلتے کھیلتے تھک کر خود ہی سو جاتا ہے۔‘

’میں اس کی مالش کر کے، نہلا کر کپڑے میں اچھی طرح سے لپیٹ کر سلاتی تو یہ تین سے چار گھنٹے تک سو جاتا تھا اور میں اس پر بھی شکر ادا کرتی تھی۔‘

ڈاکٹر ثنا اور ان کے شوہر حبیب الرحمان

کیا بچے کے نہ سونے کے پیچھے وجہ کوئی بیماری تو نہیں؟

ڈاکٹر سعدیہ شبیر جو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں پیڈیاٹرک ڈیپارٹمنٹ میں بطور اسسسٹنٹ پروفیسر کام کر رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ والدین کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ بچے کے نہ سونے کے پیچھے وجہ کوئی بیماری تو نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر بچہ کسی بیماری میں مبتلا ہو تو نیند نہ آنے کے ساتھ ساتھ اس میں عمومی طور پر کچھ اور علامات بھی موجود ہوتی ہیں۔

’جیسے بچے کا پیٹ خراب ہو، اسے قے آ رہی ہو یا اسے پاخانے ہو رہے ہوں گے، وہ دودھ نہیں پی رہا ہو گا۔ اگر اس کی چھاتی خراب ہے تو اس کے سانس سے کچھ آوازیں آ رہی ہوں گی۔ وہ کھانسی کر رہا ہو گا، اس کی ناک بند ہو گی، اسے زکام ہو گا۔

’اگر نہ سونے کے ساتھ ان میں سے کوئی بھی علامات ساتھ ہیں تو یہ کوئی بیماری ہو سکتی ہے ورنہ اس کا مطلب یہی کہ بچہ ابھی سونے کی لیے مکمل طور پر ٹرین (تربیت نہیں حاصل کر سکا) ہی نہیں ہوا۔‘

تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ان علامات کے نہ ہونے کی صورت میں بھی والدین کو لازمی طور پر ڈاکٹر سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔

’بچے کو نیند کی کوئی دوا نہ دیں‘

ڈاکٹر سعدیہ شبیر کا والدین کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اپنے بچے کو نیند کی کوئی دوا ہرگز نہ دیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اکثر مائیں یا گھر والے تھک ہار کر کہتے ہیں کہ فلاح کا بچہ تو اتنا سوتا ہے اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ اسے کوئی دوا پلا دیں یا کوئی قطرے پلا دیں۔

’کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بچے کو سوتے وقت دیسی گھی یا گڑ کی کوئی چیز پلا دیں۔ لیکن والدین کو ان تمام چیزوں سے بچنا ہے اور اس کے علاوہ نیند کے لیے کسی قسم کی کوئی دوا بھی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18943 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp