ضیا شاہد کی یاد میں
محترم ضیا شاہد مرحوم ایک عرصہ تک لوح و قلم کی پرورش کرتے رہے اور انہوں نے ایک صحافی، ایڈیٹر اور مصنف ہونے کے ناتے اپنی خداداد صلاحیتوں کو ملک و ملت کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ ضیا شاہد مرحوم مسلمانوں اور ملکی و بین الاقوامی سماج اور ثقافتی معاملات اور پس منظر سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔ انہیں لکھنے اور پڑھنے کا شوق تو تھا لیکن ایک صحافی ہونے کے ناتے قومی اور ملی مسائل پر ان کا قلم خوب چلتا تھا۔ ملکی حالات کے تجزیے میں مذہبی، سیاسی اور تاریخی تناظر کی گہری واقفیت کا ہی نتیجہ تھا کہ ضیا شاہد کے قلم میں کبھی چوک نہیں آئی۔
محترم ضیا شاہد کو شاید یہ احساس تھا کہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے کم مواقع میسر آئے اور جو کچھ انہوں نے روایتی طریقہ تعلیم سے سیکھا اس سے وہ کچھ زیادہ مطمئن بھی نہیں تھے لیکن شاید ان کا یہی اضطراب ان کی عملی کارگزاریوں کا ایک اہم سبب بن گیا۔ محترم ضیا شاہد مرحوم سے میری ملاقات ان کے آفس میں ملک کے نامور پبلشر، کالم نویس اور پچاس سے زائد کتب کے مصنف علامہ عبدالستار عاصم اور ممتاز کالم نویس محمد فاروق چوہان کے ہمراہ ہوئی تھی ۔ اس ملاقات میں وہ بڑی بے تکلف گفتگو کرتے رہے اور بھارت کی آبی جارحیت کے علاوہ ملکی سیاست اور قومی مسائل پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
اگر ضیا شاہد مرحوم کی زندگی کے پرت الٹ کر دیکھیں تو محسوس ہو گا کہ کیسا عجیب آدمی تھا، کتنا بہادر، کتنا باہمت، کیسا متحمل مزاج، منسکر المزاج اور صلح کل کا قائل انسان تھا ۔ کیسا سعادت مند بیٹا، کیسا وفا شعار شوہر، کیسا شفیق باپ، کیسا وفادار دوست۔ یہ تمام خوبیاں ان کے ظاہر و باطن کا حصہ تھیں۔ ضیا شاہد مرحوم اردو صحافت کے ایسے سرخیل اور صف اول کے صحافی تھے جن کے مضامین میں غیر معمولی علمی، ادبی اور تہذیبی خوبیوں کے علاوہ سب سے بڑی بات بلند نظری، حقائق پسندی اور ملکی و بین الاقوامی معاملات کی پرکھ ہوتی تھی جس نے ان کی صحافت کو عام اردو صحافت سے بہت بلند، بہت کارآمد اور معیاری بنا دیا تھا۔
یہ ضیا شاہد کا ہی جگر تھا جو ملک میں آباد کمزور طبقے کی توانا آواز تھے ۔ وہ جدید صحافت کا عنوان اور بے کسوں کی پہچان تھے ۔ انہوں نے اپنے صحافتی دورانیے میں ذاتی عمل و کردار سے روایتی صحافت کو آئینہ دکھانے کا مثالی کام کیا، ان کی شخصیت میں جہاں بے باکی اور اپنی بات کہہ دینے کا حوصلہ تھا وہیں اپنے معاصرین اور حلقۂ احباب کا احترام بھی ان کی گویا گٹھی میں شامل تھا۔
سچ تو یہ ہے ضیا شاہد مرحوم جیسے نڈر، بے باک صحافیوں کی محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ صحافت آج بھی جمہوری ریاست کے سینے پر چوتھے ستون کا جھومر سجائے ہوئے ہے ۔ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ ضیا شاہد کی الیکڑانک میڈیا میں خدمات بھی تادیر یاد رکھی جائینگی۔ وہ صف اول کے کالم نویس تجزیہ کار تھے، ان کے بے شمار علمی،ادبی، تحقیقی مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے درجن بھر کتابیں لکھیں۔ ایک صحافی کو مسائل اور وقت کی تنگی سے بھی لڑنا پڑتا ہے لیکن ضیا شاہد مرحوم نے ملک کے دیگر صحافیوں کی طرح خود کو محدود نہیں رکھا۔
ضیا شاہد مرحوم کے صحافتی طریقہ کار سے بہت سوں کو اختلاف ہو گا لیکن میں نے ملاقات کے دوران یہ ضرور اخذ کیا کہ وہ اخلاق و عادات میں بھی ممتاز تھے۔ اپنی سادگی اور بے تکلف وضع داری سمیت حسن اخلاق کی وجہ سے معاصرین کے درمیان از خود پہچان لیے جاتے تھے۔ محترم ضیا شاہد مرحوم سے جب ملاقات ہوئی تو ایسے محسوس ہوا کہ جیسے مدتوں کی شناسائی ہے، ان میں جو خوبیاں تھیں وہ خوبیاں اچھے انسانوں کی قطاروں میں دور دور تک نہیں ملیں گی۔ یہی وجہ تھی کہ معاصرین اور ہم پیشہ احباب بھی خلوص دل کے ساتھ ان کے قدر دان تھے۔
وہ ظالم کے خلاف ننگی تلوار تھے اور بے کسوں کے ہمنوا تھے ۔ وہ ہمیشہ عوام کی آواز بنے رہے، ان کے مسائل کو اپنا سمجھا ان کے درد کو اپنا جانا اور ان کے مکان و در کو اپنا سمجھتے تھے۔ ضیا شاہد کی زندگی کے ماہ و سال کئی عجوبوں سے مربوط ہیں، جہاں قدم قدم پر انہیں تنہائی کا احساس ضرور ہوا ہو گا لیکن وہ اپنی راہ چلتے گئے سفر طے ہوتا رہا اور کامیابیوں کی منزلیں قدم بوس ہوتی رہیں ۔ خاص کر انہوں نے زندگی جینے کے لئے جس میدان کا انتخاب کیا تھا وہ کانٹوں بھری سیج تھی، قدم قدم رہزنوں کا ڈیرہ تھا۔ وہیں امیدوں پر وقت بتانے والے بہت سے دبے کچلے، بے زبان، کمزور اور مظلوم انسانوں کا ایک بڑا طبقہ بھی تھا جس کی نمائندگی کرنا ضیا شاہد نے اپنا فرض سمجھا۔
وہ کمزور مظلوم طبقے کے لئے انصاف کی لڑائی ایک بلند مقصد کے تحت پوری ایمانداری کے ساتھ دلجمعی سے لڑتے رہے ۔ وہ فرائض کی انجام دہی میں کتنے چست تھے کوئی ان کی جوکھم بھری زندگی سے پوچھے ۔وہ آخر دم تک بیماری کی حالت میں بھی اپنے عظیم مقصد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
ضیا شاہد 4 جنوری 1945ء کو گڑھی یاسین ضلع شکار پور (سندھ) چوہدری جان محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ضیا شاہد کے والد کا تعلق جالندھر مشرقی پنجاب سے تھا، ان کے والد ضلع شکار پور میں اسسٹنٹ کمشنر رہے۔ ضیا شاہد بہاول نگر‘ ملتان اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہو گئے اور وطن عزیز کے مؤقر اخبارات میں اپنے فرائض نبھاتے رہے ۔آخر میں انہوں نے روزنامہ خبریں اور دوپہر کو شائع ہونے والا روزنامہ نیا اخبار کا بطور چیف ایڈیٹر اجراء کیا۔
محترم ضیا شاہد مرحوم کی طویل صحافتی جدوجہد کا ثمرہ ہے کہ اردو اخبارات میں خبریت کے حوالے سے جدت نمایاں ہے۔ بھٹو دور میں شاہی قلعہ میں مہمان رہے اور آزادیٔ اظہار کی جنگ لڑنے کی پاداش میں سات ماہ پابند سلاسل بھی رہے۔ ان کی طویل اعلیٰ صحافتی خدمات کے عوض انہیں صدر پاکستان کی جانب سے سول اعزاز (ستارۂ امتیاز) اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ وہ سی پی این ای کے صدر بھی رہے۔
محترم ضیا شاہد مرحوم ایک وقت میں نڈر صحافی، کہنہ مشق ایڈیٹر اور مصنف بھی تھے ان کی تحریر کردہ تصانیف میں باتیں سیاست دانوں کی، صحافی کے سفرنامے، سچا اور کھرا لیڈر، میرا دوست نواز شریف، پاکستانی صحافت کے 24 ایڈیٹرز، پاکستان کے خلاف سازش، گاندھی کے چیلے، امی جان اور ہنستا کھیلتا عدنان شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ محترم ضیا شاہد مرحوم کو جنت مکین کرے اور مجبور، بے کس، مظلوم، بے نواؤں اور مفلوک الحال انسانوں کی دعاؤں کے طفیل ان کے سفر آخرت کو آسان بنائے۔ آمین یا رب العالمین


