بھارت میں کیا ہو رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ایسے ملک میں رہنے کا تجربہ کیسا ہے، جہاں ہسپتالوں، سکولوں یا قبرستانوں یا شمشانوں کے مقابلے میں کئی گنا مندر اور مسجد ہیں۔ کم از کم میں جس علاقے میں رہتا ہوں، وہاں سو ڈیڑھ سو مساجد ہیں اور ڈھنگ کے ہسپتال شاید دو یا تین ہیں۔ جن میں سے غریبوں کے لیے شاید ایک میں بھی کچھ دنوں کے لیے بھرتی ہونا مشکل ہوگا۔ ابھی بیس بائیس دن پہلے میری امی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، انہیں بخار ہوا، پھر کھانسی آنی شروع ہوئی۔ پھر تین چار روز بعد میری یہی حالت ہوئی۔ میں اس کمر توڑ بخار اور کھانسی میں، جس میں رات کو لیٹ کر سوپانا قریب قریب میرے لیے ناممکن تھا، ابھی خود کو سنبھال ہی رہا تھا کہ چھوٹے بھائی تالیف کے بخار کی خبر آئی۔ میری ، امی کی اور تالیف کی حالت ایک ہی جیسی تھی۔ تالیف اب کچھ کچھ ٹھیک ہورہے ہیں، میری طبیعت بالکل ٹھیک ہوچکی ہے، کھانسی بھی ختم ہوگئی، مگر کمزوری ہے کہ جانے کا نام نہیں لے رہی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ میری اور امی کے ٹیسٹ کی کووِڈرپورٹ، آر ٹی پی سی آر کی جانب سے ، جس کے نتیجوں کو سنہرے نتیجے سے تعبیر کیا جاتا ہے،نگیٹو آئی تھی، جب کہ تالیف کی رپورٹ پازیٹو تھی۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ کورونا کے نئے اور تبدیل شدہ وائرس کو پکڑ پانا اب آر ٹی پی سی آر کے لیے بھی ممکن نہیں ہورہا ہے۔اور بہت سے ایسے لوگ ، جن کی رپورٹ نگیٹو آرہی ہے، دراصل وہ کورونا سے متاثر ہیں۔
بہرحال، جی سنبھلا تو ملک کے حالات پر نظر ڈالی ۔ معلوم ہوا کہ ایک طرف مغربی بنگال میں چنائو ہورہےہیں، جہاں ملک کے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم دونوں ہی بڑی بڑی ریلیاں کررہے ہیں، وہاں کی وزیر اعلیٰ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں۔ جہاں تہاں ریلیاں، مشاعرے، مندر اور مزاروں کی زیارت وغیرہ اس طرح ہورہی ہے ، جیسے ملک کسی پریشانی سے گزر ہی نہیں رہا۔ ادھر سے ہٹ کر شمالی ہندوستان پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ دہلی کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے بہت سے شہروں کی حالت خراب ہے۔ ہندوستان میں اس وقت روزانہ جو ٹیسٹ ہو رہے ہیں، ان کے مطابق دو سے ڈھائی لاکھ لوگ روزانہ کورونا کے مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ لکھنئو، کانپور، گورکھپور، پریاگ راج اور بہت سے دوسرے شہروں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ وہاں ہسپتالوں میں بیڈ، آکسیجن، ریمڈیسور نامی انجیکشن یا پھر وینٹی لیٹر وغیرہ ملنے ممکن ہی نہیں ہیں۔ لوگ راستوں پر دم توڑ رہے ہیں۔ م
جھے انٹرنیٹ پر موجود غازی آباد کی ایک ویڈیو نے زیادہ پریشان کردیا، جب معلوم ہوا کہ وہاں لاشوں کو شمشان میں جلانے تک کے لیے دو یا تین دنوں کا انتظار کرنا پڑرہا ہے۔ مہاراشٹر کا جو حال تھا اور ہے ، وہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ اب موت لوگوں کے بہت قریب پہنچ گئی ہے، فون پر روزانہ کسی کی سنائونی آتی ہے یا پھر اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ آپ کا کوئی جاننے والا، عزیز یا رشتہ دار یا خاندان کا کوئی فرد کسی بھی وقت کورونا کی چپیٹ میں آسکتا ہے اور آپ اس کی مدد کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ دلی کے وزیر اعلیٰ کیجریوال نے یہ بات مان لی ہے کہ روزانہ پچیس ہزار کیس دلی میں آرہے ہیں اور ایسے میں اب لاک ڈائون نہیں لگایا گیا تو ہمارا تمام نظام صحت چرمرا سکتا ہے۔

حکومتوں کو تو جس بات کا ڈر ہے، سو ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب ہمارے آس پاس لوگوں کے لیے موت کا خوف ان دنوں زیادہ سچا ہوگیا ہے۔ مرنا ، اب زیادہ حقیقی معلوم ہورہا ہے۔ زندگی کے دوسرے مسئلوں میں گھرے ہوئے لوگ، بے روزگاری، مذہبی منافرت یا پھر بھکتی اور عقیدت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو اچانک یہ دکھنے لگا ہے کہ کوئی وبا اس طرح انہیں اپنے گھیرے میں لے کر مرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ ان کے سامنے ان کے اپنے سسکتے ہوئے دم توڑ دیں گے اور وہ اس کے سوائے کچھ نہیں کرسکتے کہ انہیں جلانے یا دفنانے کی ایک لمبی اور تھکا دینے والی قطار میں لگ جائیں۔ مگر اس سب کے باوجود سوال یہ ہے کہ یہ صورت حال مستقل نہیں ہے، یہ بھی بدلے گی اور کچھ حد تک یا کل کو سب کچھ پھر سے ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا۔ حکومت نے گھبرا کر ہی سہی، اب یہ اعلان کردیا ہے کہ یکم مئی سے اٹھارہ سال سے اوپر کےتمام لوگوں کو ویکسین لگوانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ حالانکہ یہ الگ مسئلہ ہے کہ اب ہمارے پاس کتنی ویکسین ہے اور اس کو اتنی بڑی آبادی تک پہنچانے میں مزید کتنا وقت لگ جائے گا۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ مئی کے مہینے میں کورونا کے کیسز ہر شہر سے لاکھوں کی تعداد میں آسکتے ہیں۔
اس سب میں بھی کچھ لوگوں کا غم دوسرا ہے۔ میرے ایک دوست کہہ رہے تھےکہ تبلیغی جماعت کو پچھلے سال جس طرح ہندوستانی میڈیا نے نشانہ بنایا تھا۔ اس بار کمبھ کے میلے میں شرکت کرنے والوں کو ویسا ہی نشانہ نہیں بنایا گیا۔ جبکہ دونوں کی تعداد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ بات منطقی رو سے بالکل صحیح ہوسکتی ہے۔ ہندوستانی میڈیا جس نفرت کی تجارت کرتا ہے، اس میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے موقع اسے آسانی سے میسر بھی آجاتے ہیں اور وہ اس معاملے میں ایک لکیر کھینچ کر ضرور کھڑا رہتا ہے۔ مگر ہمیں اس معاملے میں عدلیہ کا رول نہیں بھولنا چاہیے، جس نے حکومت کو تبلیغی جماعت والے مسئلے میں آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ اور اس بار بھی الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ہی اتر پردیش کے پانچ شہروںمیں لاک ڈائون لگانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ میڈیا اور حکومت کے رویے کو تو ہم جانتے ہیں۔ مگر لوگوں کے بارے میں ہم کیا سوچتے ہیں۔ آخر ہمارے لوگ اتنے بھولے کیوں ہیں کہ وہ ایسی وبا کے گزرنے کے بعد بھی نیتائوں یا مذہبی رہنمائوں کے اس دلاسے سے بہل سکتے ہیں کہ مرنے والے کا وقت طے تھا، جو نقصان ہوا ہے، اسے روکا جانا ممکن نہیں تھا۔آنے والا اپنی موت کا وقت لکھوا کر لایا تھا، چنانچہ اگر کسی کا وقت آجائے تو اسے کوئی ڈاکٹر یا کوئی دوا بچا ہی نہیں سکتی۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ مذہب اگر کسی سماج کی بنیاد میں اہم کردار ادا کرے گا تو سماج کو بھی اپنی غیر ذمہ داری سے نکل بھاگنے کے مذہبی حیلے آسانی سے ہاتھ آجائیں گے۔ یہی ہمارے دلاسوں اور تسلیوں تک پہنچ چکے ہیں۔
ابھی لکھنئو میں میری ایک کزن کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر چالیس سے کچھ زیادہ رہی ہوگی۔ مگر مرنے کی عمر تو بہرحال نہیں تھی۔ وہ کورونا کی اس بیماری کے سامنے کئی دنوں ٹکے رہنے کے بعد آخر دم توڑ گئے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ان کی بیوی جوان ہے، اور پہاڑ جیسی زندگیاں ان سب کے سامنے منہ کھولے کھڑی ہیں۔ مگر اپنی ماں کو دلاسہ دینے کے لیے میرے پاس بھی یہی الفاظ تھے کہ جو ہونا تھا، وہ تو ہو ہی گیا۔ میں سوچتا ہوں کہ مجھے ایسے لچر نظام میں اس قسم کے دلاسے دینے پر مجبور کرنے والی یہ دھوکے بازی کس نے سکھائی۔ میں کس حکومت اور کس سماج سے توقع رکھوں کہ وہ مجھے اس پاگل بنادینے والی مجبوری کے دائرے سے باہر نکال سکے گا۔ ہندو کمبھ میں جمع ہوں یا مسلمان تبلیغ کے بہانے۔ نقصان کس کا ہے؟
میڈیا کو چھوڑ دیجیے، حکومت کے رویے کو بھول جائیے۔ مگر کیا میرے گھر کے اندر یہ سب نہیں ہوتا یا نہیں کہا جاتا ؟ مجھے یہ دلاسہ یا یہ جھوٹا بھروسہ دینے والی مذہبی ڈوز کیا بچپن سے نہیں پلائی گئی؟ کیا مجھ کو کبھی سکھایا گیا کہ میں بگڑتے ہوئے حالات کا مقابلہ کر سکتا ہوں؟ کیا مجھ کو کبھی مسجدوں، مندروں، مذہبی کتابوں کے بجائے ہسپتالوں، سکولوں اور اپنے سے زیادہ مقدس یا طاقتور سمجھے جانے والے قوت سے سوال کرنے یا اسے چیلنج کرنے کا سبق پڑھایا گیا؟ اسی لیے میرے غم بہت وقتی اور معمولی ہیں۔ میرے اپنے مرجائیں یا میں خود موت کے منہ میں چلا جائوں۔ میں کسی بھی لاپروائی کا شکار ہوکر مروں۔ سیاست کی با لارادہ سازشوں کا شکار ہوجائوں یا ریاست کی غیر ذمہ داریوں کی سولی پر چڑھایا جائوں۔ میری لاش سے بھی یہی بات کہی جائے گی کہ تم کو مرنے سے بچایا ہی نہیں جاسکتا تھا۔
ان دنوں سوشل میڈیا کا رویہ کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ ابھی بھی اندر اندر مذہبی خونخواری پورے زور و شور سے ہمیں للکار رہی ہے۔ مگر موت نے مذہب کی آنکھ سے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، پٹی تو ہٹائی ہے۔ اس وقت لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ضروری معلومات آپس میں شیئر کررہے ہیں ، دوائوں، انجیکشن یا ایسی ہی دوسری چیزوں کی فراہمی کے بارے میں بتارہے ہیں، جو جسمانی طور پر مدد کرسکتے ہیں، وہ آگے آرہے ہیں۔ لوگ اپنی تھکان، بخار یا غم بھول کردوسروں کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ وبا کا یہ بادل جیسے ہی کچھ چھٹے گا، پھر ہمارے لوگ پاگلوں کی طرح ایک دوسرے سے الجھ پڑیں گے۔ ابھی ان کے عزیزوں کی لاشیں قبروں میں پوری طرح گلی بھی نہیں ہونگی کہ وہ مذہب کے پھاوڑے لے کر ایک دوسرے کے سر وں پر وار کرنے میں جٹ جائیں گے۔
پھر ہندو کو بتایا جائے گا کہ کورونا اصل میں مسلمانوں کی سازش تھی، وہ کورونا جہاد تھا اور پھر مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہندوئوں پر اللہ کا عذاب تھا۔ ابھی جو بابا، یونانی دوائوں کے ماہر، کاڑھا ایکسپرٹ کہیں روپوش ہوگئے ہیں، اچانک آگے آئیں گے اور کہیں گے کہ کورونا کا علاج تو کالی مرچوں یا لونگ میں چھپا ہوا تھا، بلاوجہ حکومت نے ہمارے مشوروں کو نظر انداز کرکے بیماری اتنی بڑھادی۔ پھر لوگ ہسپتالوں کی ڈیمانڈ کو بھول کر، دوائوں کی فراہمی، غریبوں کی موت اور بھوک پیاس کو بھول کر مزاروں یا مندروں میں منت مانگتے نظر آئیں گے۔ یہ سب ہوگا اور ہم دیکھیں گے کہ کورونا کے بعد بھی مذہبی سیاست کامیاب ہے، مذہبی سماج نے اپنے پر پھر سے پھیلا لیے ہیں اور ہم اتنی بڑی آفت سے نکل کر بھی ، موت کو اتنے قریب دیکھ کر بھی اس مذہبی غرور کے نشے میں ڈوب گئے ہیں، ہمارے ذہنوں کو بچپن سے جس کا عادی بنادیا گیا ہے۔
ہم کورونا کے بعد اور کورونا سے پہلے ایک قسم کی ماورائی دنیا میں رہتے ہیں۔ جہاں انسان کی مرضی اور اس کی سمجھ کی اہمیت کو کبھی بھی قبول کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا۔ ہم یہ یقین ہی نہیں کرپاتے کہ انسان اپنی مرضی سے بھی کچھ کرسکتا ہے، حالات بدل سکتا ہے اور اپنی عام زندگی میں خوشحالی لا سکتا ہے۔ مانا کہ سیاسی اور مذہبی لٹیروں کو اپنے اقتدار کے لیے لوگوں کو ان کی لاچاری اور غریبی پر مطمئن رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مگر ہمارے لوگ، ہمارے بھولے لوگ، جو سڑ ک کے گڑھوں، مچھروں کی بہتات، بیماریوں کے اندھے کنویں میں جینے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہم، عام لوگ ، جنہیں ذہنی طور پر اس حد تک غلام بنادیا گیا ہے کہ انہیں سوال پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ نہ اپنے رواجوں سے، نہ رسموں سے، نہ سماج سے، نہ مذہب سے، نہ سیاسی رہنما سے اور نہ ہی اپنے آپ سے۔یہ وبا تو آج ہے، کل چلی جائے گی، مگر جس وبا میں ہم گھرے ہیں، وہ شاید ہی کبھی اس تیسری دنیا سے رخصت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *