ایک قصہ مذہبی جنونیت کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ قصہ ایک ایسے دور کا ہے جہاں قبیلوں سے نکل کر زمین قوموں اور ملکوں میں بٹ گئی تھی۔ مذہبی جنونیت کو پس پشت ڈالے قوم پرستی اور ملکی مفادات کو ترجیحات دی جانے لگیں۔ طاقت کی تقسیم اقتصادی مضبوطی پر ہونے لگی۔ اسی صورت میں ایک درجہ بندی کا عمل شروع ہو گیا، جہاں پست حال ملکوں کو ”تیسری دنیا“ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ ہر کوئی ایک دوسرے کے مدمقابل دوڑ میں تھا۔

طاقتور ممالک میں ایک طبقہ سائنس کی پوجا کرنے لگا ہوتا اور دوسرا طبقہ پست حال ممالک پر نت نئے طریقوں سے اپنا زور جمانے میں مشغول تھا۔ تقریباً تمام قومیں اس حقیقیت کو تسلیم کر چکی تھیں کہ تجارتی، سائنسی اور معاشی سطح پر برتری ہی عزت افزائی کا سبب ہے۔ لہٰذا مذہب کو انفرادی حیثیت دیتے ہوئے، اختلافات کو ایک حد تک رکھتے ہوئے ملکی مفاد کے لیے تجارت جاری رہی۔ دلائل اور مفادات کو جذبات پر فوقیت دی گئی۔

وہیں خود کو ”تیسری دنیا“ ثابت کرنے کے لیے چند قومیں جدیدیت کے تقاضوں سے عاری تھیں۔ ان میں ایک ایسی قوم بھی تھی جو اپنی مذہبی روایات میں دیگر ملکوں سے مماثلت رکھتی تھی، لیکن ان کے دینی برادر بھائی کافی حد تک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھے لہٰذا وہ غیر طاقتوں سے خارجی اور اقتصادی تعلقات میں بالکل نہیں کتراتے تھے۔

مذکورہ قوم مذہبی انتہاپسندی میں جکڑی ہوئی محض اپنے اجداد کے تاریخی کارناموں کی آغوش میں دل ہی دل میں فخر محسوس کرتی تھی جبکہ حالیہ تقاضوں سے یکسر غافل۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قوم عالم مدہوشی میں ایک بردار قوم کے تاریخی اسلاف سے بھی بہت متاثر ہوئی تھی اور دوبارہ آنکھوں میں خلافت کے خواب سجائے بیٹھی تھی۔ انہی خوابوں کی اثر میں من ہی من میں اس لمحے پر فخر محسوس کرتی تھی کہ جب یہ ان تمام دوشمن قوموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیں گے۔ لہٰذا جذبات ابل رہے تھے۔

اگرچہ اس قوم کا ایک بہت بڑا طبقہ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ جس عزیز برادر قوم کی خلافت کے خواب آنکھوں میں سجائے یہ دشمنوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی سوچ رہے تھے، ان کے اب تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ سماجی اور معاشی تعلقات ہیں۔ یہ اس قوم کا وہم تھا جو صحرا میں سورج کی تپتی روشنی میں دور سے دیکھنے پر سمندر معلوم ہونے جیسا تھا۔

کہنے کو تو اس قوم کی خام خیالی کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ان میں سبب اول اس کے اپنے حکمران تھے جو اس جنونی قوم کے عقلی پیمانوں سے بخوبی واقف تھے۔ وہ اس مذہبی جنونیت کی آگ کو بھڑکنے دیتے، بلکہ کبھی کبھی اپنے اقتدار کے مفاد کے لیے اس آگ پر مزید تیل چھڑک کر ہاتھ بھی سینک لیتے۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ علمی پستی اور مذہبی جنونیت اس قوم کے لیے زہرقاتل ثابت ہونے لگی۔ اغیار کے خلاف اشتعال میں خود کو ہی زخمی کرنا شروع کر دیا، اور مذہب کے نام پر اپنوں کا ہی گلا کاٹنا معمول بن گیا۔

بگڑتی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکمرانوں کے بھی کان کھڑے ہونے لگے، اور حالات پر قابو پانے کی بے سود کوششیں شروع ہو گئیں۔ لیکن اب کے یہ سمجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ عقل و دانش کے پھول اس لاوے میں اپنی پنکھڑیاں بچانے سے قاصر تھے۔ کچھ آگ کی لپیٹ میں آ جاتے اور کچھ کو یہ قوم خود اکھاڑ کر پرے پھینک دیتی۔ اس جنونیت سے باہر نکلنا ایک طویل سفر تھا۔

نہ جانے اس قوم کو اس آفت سے نکلنے کے لیے کتنی نسلوں کی مسافت درکار تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد بٹ، فیصل آباد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *