کیا مذاہب کا مستقبل کا خطرے میں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ہفتے ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں اشتعال انگیز احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا، جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران تحریک لبیک کے مشتعل کارکنان کی جانب سے سڑکوں کو بلاک کر کے نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ پورا ہفتہ صورتحال کافی پریشان کن رہی۔ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر الجھن محسوس ہوتی ہے کہ آخر پاکستان کس سمت جا رہا ہے؟

دنیا میں کہیں کچھ ہو جائے، مقدس ہستیوں کے خلاف نازیبا الفاظ لکھے جائیں یا گستاخانہ خاکے بنائے جائیں، بطور مسلمان ہونے کے جذبات مجروح ہونا، دل پر گراں گزرنا فطری بات ہے۔ دنیا میں پچاس سے زائد مسلم آبادی والے ملک ہیں، وہاں بسنے والے مسلمان اور وہاں کی حکومتیں اپنے اپنے طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں، لیکن ہمارا طریقہ تمام مسلم ممالک اور وہاں بسنے والے مسلمانوں سے ذرا مختلف ہے۔ ہم توڑ پھوڑ اسلام کا سب سے اہم فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں، جلاؤ گھیراؤ اور اپنے ہی ہم مذہب بھائیوں کو اذیت تو گویا فرض سمجھ کر پہنچاتے ہیں۔

پروفیسر یووال نوح ہراری نے اپنی کتاب Homo Deus A Brief History of Tomorrow میں مستقبل کا خاکہ کھینچا ہے۔ جس میں انسانیت اور مذہب میں ٹیکنالوجی کے وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں لکھا ہے۔ کتاب پڑھتے وقت بارہا یہ محسوس ہوا کہ دنیا کس قدر آگے بڑھ رہی ہے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف ہے اور ہم ہیں کہ بطور معاشرہ تاریخ کا سفر الٹے پاؤں طے کرنے پر بضد ہیں۔

پروفیسر ہراری کتاب کے ایک باب The Humanist Schism میں لکھتے ہیں کہ روایتی مذاہب مثلاً جین ازم، بدھ ازم، ہندو ازم، مسیحیت، اسلام اور دیگر مذاہب اس صدی کے آخر تک اپنا رسوخ کھو دیں گے۔ صرف روایتی مذاہب ہی نہیں بلکہ ہیومنسٹ اور اس کے مختلف (فرقے برانچز)، کمیونزم، سوشلزم کے بعد لبرل ازم کو بھی خاصی مشکلات درپیش ہوں گی۔

22 ویں صدی میں نئے مذاہب ہوں گے، ان کی ابتدا نہ غاروں سے ہو گی نہ پہاڑوں سے اور نہ ہی جنگل سے بلکہ ان کی ابتدا ریسرچ لیبارٹریز سے ہو گی اور وہ ٹیکنو ریلیجن کہلائیں گے۔ ٹیکنو ریلیجن مذاہب کے فرقے ٹیکنو ہیومنزم اور، ڈیٹائزم وغیرہ ہوں گے۔ نئے مذاہب کی وجہ سے پرانے مذاہب کی رونق ماند پڑ جائے گی۔ عقائد کی بنیادیں ہل جل جائیں گی۔ رہن سہن اور کام کاج کے طور طریقے بدل جائیں گے۔

اوسط عمر 73 سے بڑھ کر 150 سو سال ہو جائے گی۔ جیسے 25 سال کے بعد اب اوسطاً 30 سال کی عمر میں شادی کرنا معمول بن چکا ہے۔ اسی طرح بائیسویں صدی میں 70 سال کی عمر میں زندگی کے نئے سفر کا آغاز کرنا معمول ہو گا۔

یہ سب آخر کیسے ممکن ہو سکے گا؟

سادہ الفاظ میں کہا جائے تو دنیا میڈیکلی ایڈوانسڈ ہو چکی ہے۔ گزشتہ دوسو سال کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی اوسط عمر 40 سے 45 سال ہوا کرتی تھی، جو اب بڑھ کر 73 برس ہو چکی ہے۔ اوسط عمر کو مزید بڑھانے اور انسان کو تادیر جوان رکھنے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں بیس سے زائد ترقی یافتہ ممالک میں اوسط عمر 80 سال سے زائد ہے۔ چالیس سے زائد ایسے ممالک ہیں جہاں انسان اوسطاً 75 سال زندہ رہتا ہے۔ پاکستان جیسا مفلوک الحال ملک جہاں صحت کے شعبے میں جدت کو اپنانے سے کترایا جاتا ہے، جہاں سائنسی تحقیق کے فروغ کی بات نہیں کی جاتی۔ جہاں 20 کروڑ آبادی کے لیے بمشکل 2000 ہسپتال ہیں وہاں بھی گزشتہ دو دہائیوں میں انسان کی اوسط عمر 62 سے بڑھ کر 67 برس ہو چکی ہے۔

ٹیکنو ریلجنز، روایتی مذاہب اور ہیومنسٹ مذاہب کو کیسے متاثر کریں گے؟

ٹیکنو ریلیجن میں روایتی مذاہب کی طرح عبادت کا نہیں کہا جائے گا، اور نہ تو نیکی بدی اور اخلاقیات کا درس دیا جائے گا۔ ٹیکنو ریلیجنز کی ابتدائی جھلک یہی ہے کہ آج ہم ڈیجیٹل ڈیوائسز کے بغیر خود کو ادھورا سمجھتے ہیں۔

گو کہ ہم میں سے اکثریت گیجیٹس کا استعمال صرف اس لیے کرتی ہے کہ ایک دوسرے کو نازیبا الفاظ میں یاد کر سکیں، کسی کو نیچا دکھا سکیں، غداروں کے بھیانک منصوبوں اور لبرلز کی منافقت کو قوم کے سامنے لا سکیں۔ اگر آپ اوپر بیان کردہ فضولیات کے لیے ہر وقت انٹرنیٹ سے جڑے رہنا چاہتے ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ڈیٹائزم کے پیروکار بن چکے ہیں، اور اب آپ ہر وقت ڈیٹا کی زیر نگرانی ہیں۔ کبھی گوگل پر مائی ایکٹویٹی لکھ کر چیک کریں تو ہوش ٹھکانے آ جائیں گے کہ آپ کا سالہا سال کا ڈیٹا گوگل کے پاس محفوظ ہے۔

گزشتہ صدی کیپٹلزم کمیونزم اور سوشلزم کے درمیان مقابلے کی صدی رہی۔ صدی کے آخر میں کمیونزم اور سوشلزم کو کیپٹلزم نے زیر کیا۔ بہرحال اب کیپٹلزم اور لبرل ازم کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دو تین دہائی کے بعد کیپٹلزم پر لبرل ازم کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ اور پھر لبرل ازم کو ڈیٹائزم کے ہاتھوں شکست ہو گی۔ لبرل ویلیوز سب سے زیادہ شخصی آزادی اور فری ول کی بات کرتے ہیں اور انہی ویلیوز کو وہ ٹیکنو ریلیجن کے فرقے ڈیٹائزم بائیو کیمیکل الگوردھم کے سپرد کریں گے اور انہیں اپنی آزادی کھونے کا ذرا بھی ادراک نہ ہو گا۔ یہ وہ وقت ہو گا جب آپ کی روزمرہ زندگی ڈیٹا کے مرہون منت ہو گی۔

آئندہ صدی میں نہ تو روایتی کام ہوں گے نہ روایتی انسان۔ سوچیں اور  فیصلہ کریں کہ آپ نے کس سمت جانا ہے؟ سائنسی مشاہدات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو اور آنے والی نسلوں کو مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کرنا ہے یا پھر سڑکوں پر احتجاج کرتے چیختے چلاتے نعرے لگاتے توڑ پھوڑ کرتے زندگی گزارنی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *