جب بات کہنا جرم ٹھہرے…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی تناظر کے اس پس منظر میں ہم آج ایک ایسے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں جس کی آج کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دنیا کے منظر نامے پر کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ آج ہم عقل کے دور میں جی رہے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے ایک بڑے خون خرابے نے انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا اور اسی سوچ بچار کے نتیجے میں صدیوں کے دشمن ایک دوسرے کے قریب آ گئے، اسی قربت کی بدولت دنیا عالمی گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس عالمی منظرنامے پر اپنا مقام و مرتبہ بنانے کے لیے بدلتی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانا بہت ضروری ہے ۔ جو ممالک ایسا کر رہے ہیں وہ علمی میدانوں میں ہم سے بہت آگے جا چکے ہیں اور ترقی کے اس تسلسل کو وہ مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی عہد وسطیٰ میں جی رہے ہیں اور جذبات کی رو میں بہہ کر اور ماضی کے نشے میں دھت ہو کر اپنے ملک کو جلا رہے ہیں اور اپنے ہی لوگوں پر ظلم و تشدد کر رہے ہیں۔

آج کا عہد فریڈم آف ایکسپریشن کا ہے اور جمہوری روایات میں بطور فرد ایک انسان کو بہت اہمیت حاصل ہے اور آج کی دنیا میں جذبات کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور آج کی حقیقت انکلوژن ہے نہ کہ ایکسکلوژن۔ مذہب، یقین اور اعتقاد ہر انسان کا نجی معاملہ ہوتا ہے۔ ہمیں آج کی دنیا میں اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے عقیدے کی وجہ سے تذلیل کا نشانہ بنانا شروع کر دیں۔ دنیا میں مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہیں اور ان کے جذبات بھی اپنی اپنی مقدس ہستیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

ہر کسی کے جذبات کسی نہ کسی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور آج کے انٹرنیشنل فریم میں ایک گلوبل شہری کی حیثیت سے ہر کسی کو کسی کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ باقی رہا ان مقدس ہستیوں کا مقام و مرتبہ تو اس کو کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا جو بلند ہے وہ بلند ہی رہے گا ، کوئی اس کو پست نہیں کر سکتا ۔ کسی کی تنقید اور نازیبا الفاظ کسی مقدس ہستی کے مقام کو کم نہیں کر سکتے کیونکہ چاند پر تھوکا اسی کے منہ پر گرے گا اور کسی کو اس کی حرکت سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، کیونکہ سچ عیاں ہوتا ہے اور اسے کسی کے دفاع کی ضرورت نہیں ہوتی۔

باقی رہا ہمارا جنونی قسم کا رویہ کہ ہمیں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کر دینا چاہیے اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے تو یاد رکھیے ایسا طرزعمل اختیار کرنے سے مغرب کو کچھ بھی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ ہم دنیا میں تنہا رہ جائیں گے کیونکہ وہ پروڈیوسر ہیں اور ہم صارف ہیں اور ہمارا دامن ایجادات سے بالکل خالی ہے۔ ہمارے پاس لے دے کر اگر کچھ بچتا ہے تو صرف سستی جذباتیت رہ جاتی ہے۔ جس کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

آج کی جدید اور ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز خیالات کی رنگا رنگی میں پنہاں ہے۔ وہاں پر مختلف خیالات کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور لوگوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ اگر ہم آج اپنے ملک کو دیکھیں تو ہم نے اسے ایک جنونستان جزیرہ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں پر طلبا کو سوچنا سکھانے والے اساتذہ، پروفیسر، لکھاری اور ادیب اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار کرنے سے خوف زدہ ہیں، وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری تحریر سے کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچ جائے اور اس کا خمیازہ انہیں جان دے کر بھگتنا پڑے گا۔ جہاں پر دانشور طبقہ محفوظ نہ رہے، اسے ہر وقت اپنی جان کے لالے پڑے رہیں تو اس سماج میں نئے خیالات کا گزر کیسے ممکن ہو پائے گا، جب نئے خیالات کو خوش آمدید نہیں کہا جائے گا تو ایجادات اور دریافت کیسے ممکن ہو پائے گی؟

جب ایجادات اور دریافت نہیں ہو گی تو پھر ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہو کر اپنا منفرد مقام کیسے بنائیں گے؟ کتنے المیہ کی بات ہے کہ جن کفار کو ہم گالیوں سے نواز رہے ہیں انہی کی کورونا ویکسین سے آج ہم مستفید ہو رہے ہیں، اس کے علاوہ مختلف موذی امراض کی ویکسین بھی انہی کی عطا کردہ ہیں۔ ہم فکری سطح پر زیرو ہیں اور جذباتیت میں نمبر ون ہیں۔ پچاس کے قریب دنیا میں اسلامی ممالک ہیں، ہمارے علاوہ کیا کسی اور مسلمان ملک نے بھی ایسا رویہ اختیار کیا جس کا مظاہرہ آج ہم کر رہے ہیں؟

کیا وہ ہم سے کم مسلمان ہیں؟ کیا کسی اور اسلامی ملک کے کسی جتھے نے اپنے ملک کے حکمرانوں سے کسی سفیر کو نکالنے اور مغربی دنیا سے ناتا توڑنے کا مطالبہ کیا؟ ہمیں تھوڑا سا اپنی اداؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اندر مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کر برداشت کرنے کی سکت ہونی چاہیے۔ ریزننگ اور عقل پرستی کے اس دور میں ہمیں ڈائیلاگ کو فروغ دینا چاہیے، ایک دوسرے کو سننے اور جاننے سے ہی برداشت کا کلچر فروغ پاتا ہے، ہمیں اپنی ذات کے حصار سے نکل کر اوروں کو جاننے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *