عورت، خاندان اور سرمایہ دار نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرمایہ دارانہ نظام میں پیدا ہونے والے نئے مالی بحران کے نتیجے میں ہونے والی تنقید عورتوں کی ایک نئی تحریک کو جنم دینے جا رہی ہے۔ عورتوں کے حقوق کو جب بھی خطرہ لاحق ہوا ہے تو عورتوں نے اس کے خلاف بھرپور رد عمل کا اظہار کیا ہے لیکن عورتوں کے مظاہروں سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ تر قانونی موشگافیوں پر زور دیتی ہیں اور سرمایہ دار سیاست دانوں کی حمایت کرتی ہیں۔ بورژوا ریفارمسٹ یا اصلاح پسند کی حیثیت سے ان کا مفاد اس جھوٹ کو آگے بڑھانے میں پوشیدہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ابھی بھی عورتوں کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

1960 کے عشرے کے برعکس اب خوشحالی کا زمانہ نہیں رہا اور اقتصادی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب اصلاحات کی بہت کم گنجائش رہ گئی ہے لیکن اصلاح پسندوں کے مسئلے کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں۔ جدید دنیا میں عورت پر ہونے والے مظالم کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہی ہے۔ ظلم کے اسباب کا انقلابی اور ترقی پسند تجزیہ ہی تحریک نسواں کے کارکنوں کے لئے نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک مزدور گھرانا سرمایہ دارانہ نظام کی ضرورت ہے اور عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا بنیادی ذریعہ بھی۔

اس تجزیے کا آغاز ہم ایک صدی قبل شائع ہونے والی فریڈرک اینگلز کی کتاب ”خاندان، نجی ملکیت اور ریاست کا آغاز“ سے کریں گے۔ اینگلز نے عورتوں کی غلامی کا تعلق نجی ملکیت اور طبقاتی معاشرے سے جوڑا تھا اور بتایا تھا کہ آزادی کے لیے ان اداروں کو ختم کرنا ضروری ہے لیکن علم البشریات کی معلومات کے حوالے سے اس کتاب کی بہت سی باتیں درست ثابت نہیں ہوئیں۔

اینگلز نے اس بات پر زور دیا تھا کہ صنعتی سرمایہ داری کے ابھرنے کا مطلب عورتوں کی ترقی تھا کیونکہ اس کی وجہ سے وہ سماجی افرادی قوت میں شامل ہوئیں۔ گھریلو کاموں کو سماجیانے (Socialization) کے عمل کے ساتھ یہ آزادی کی پیشگی شرط تھی۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں عورتیں دبی کچلی رہیں کیونکہ سماجی پیداوار کے عمل میں شامل ہونے کے باوجود انہیں گھریلو کام کاج کا بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔ اینگلز اور مارکس نے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں کہا تھا ”کام والی جگہ پر عورتوں کے بڑھتے ہوئے استحصال کے ذریعے سرمایہ داری محنت کش گھرانے کو تباہ کر رہی ہے“۔

مارکس کی طرح اینگلز بھی سرمایہ داری کی جلد موت کی توقع کر رہا تھا، اس لئے اس نے ان عوامل پر زیادہ توجہ نہیں دی جو خاندان کو زیادہ اہمیت دلانے کا باعث بنے۔ وہ مزدور گھرانے اور سرمایہ دار گھرانے میں امتیاز کرتا تھا۔ اس کی رائے میں مزدور گھرانے میں رشتوں کی بنیاد جائیداد اور وراثت پر نہیں ہوتی، لیکن یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ خاندان کی بنیاد صرف جائیداد یا املاک پر ہی رکھی جا سکتی ہے، ایسا کہنا سرمایہ داری نظام میں محنت کش خاندان کے مخصوص اقتصادی کردار کو نظر انداز کرنا ہے۔

مارکسی تجزیے میں سرمایہ داری کی بنیاد اجرتی محنت کے ذریعے محنت کشوں کے استحصال پر رکھی جاتی ہے۔ محنت کش گھرانا اس سسٹم کا اقتصادی یونٹ ہے یعنی سرمایہ داری تعلقات کی افزائش یا تولید کا ناگزیر حصہ۔ استحصال کی اجرتی شکل کے ضروری حصے کے طور پرسرمایہ داری محنت کی جنسی تقسیم مسلط کرتی ہے۔ اجرتی مزدوروں کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لئے عورتیں بیوی اور ماں کا کردار ادا کرتی ہیں۔

مزدور اور اس کی افرادی قوت کی پیداوار یا افزائش کے دو پہلو ہیں، ”روایتی سرمایہ داری خاندان میں مرد مزدور کو اگلے دن کام کے لئے تیار رکھنے کے لئے اس کی بیوی کھانا بناتی ہے، گھر صاف رکھتی ہے، لباس تیار کرتی ہے اور اس کا دھیان رکھتی ہے۔ دوسرا پہلو مزدوروں کی نئی نسل تیار کرنے کے لئے بچوں کی پیدائش کا حیاتیاتی فریضہ اور بچوں کو پالنے کا سماجی فریضہ ادا کرنا ہے۔

کسی بھی دوسری شے کی طرح محنت کی قوت کی قدر و قیمت کا انحصار بھی زندہ رہنے اور افزائش نسل کے لئے درکار کم از کم ضروریات پوری کرنے والے ذرائع کی قدر و قیمت پر ہے۔ یہ قیمت مزدور کی اجرت سے ادا ہوتی ہے۔ اس لئے مزدور کا معاوضہ انفرادی ادائیگی نہیں ہوتی بلکہ اسے اپنے گھرانے کے ان افراد کا پیٹ بھی پالنا ہوتا ہے جو کام نہیں کرتے۔ اگرچہ اجرت یا معاوضہ لیبر پاور کی ویلیو کی عکاسی کرتا ہے لیکن یہ جسمانی بقاء کے لئے درکار محض کم سے کم ویلیو نہیں ہوتی۔اس کی ضروریات کی تعداد اور حد کیا ہے اور وہ کس طرح سے پوری ہوتی ہیں، یہ خود تاریخ کی پیداوار ہیں، اس کا انحصار بڑی حد تک کسی ملک کی تہذیب و تمدن کی ترقی پر ہے۔ اس کا انحصار مزدوروں کے حالات، ان کی عادات اورتوقعات پر بھی ہے۔

دوسری اجناس کے برعکس لیبر پاور کی ویلیو کے تعین میں تاریخی اور اخلاقی عناصر بھی کار فرما ہوتے ہیں۔ خاندان کے افراد کی تعداد میں تبدیلی کے ساتھ اجرت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا کمیونسٹ یا سوشلسٹ ممالک میں ہی سوچا جاتا تھا۔ ہم جیسے مخلوط معیشت والے ملک جو بتدریج سب کچھ نجی ملکیت میں دیے چلے جا رہے ہیں، اگر ہم اپنی حکومتوں سے عالمی ادارۂ  محنت کے ان کنونشنز پر ہی عمل درآمد کروا لیں جن پر وہ دستخط کر چکی ہیں تو بڑی بات ہو گی۔

کم از کم اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ اس کے لئے عالمی ادارۂ محنت 1919 سے کام کر رہا ہے۔ 2008 میں جینیوا میں ہونے والی عالمی لیبر کانفرنس میں منصفانہ عالم گیریت کے لئے سماجی انصاف کا ایک ڈیکلریشن منظور کیا گیا اس کا مقصد مزدوروں کو زندگی گزارنے کے لئے خاطر خواہ اجرت کا تعین کرنا تھا۔ اس ادارے کا مقصد بین الاقوامی اقتصادی مسابقت اور فری ٹریڈ کے سیاق و سباق میں اس سماجی بے چینی کو ختم کرنا ہے جس سے دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ محنت کی کوششوں کے باعث بہت سے ملکوں کی حکومتیں مزدوروں کے لئے کم از کم اجرت کا تعین کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں لیکن عورتیں عالمی اقتصادی دھچکوں سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں خاص طور پر کورونا کی وبا نے ان کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ اس لئے سول سوسائٹی کی تنظیمیں حکومت سے سارے شہریوں کے لئے سوشل سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

Women and the capitalist family : The Ties that Bind
Proletarian revolution No: 34

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *