عمران خان سعودی پرنس جیسا کیوں بننا چاہتے ہیں؟

عمران خان صاحب کی تقریباً ہر دوسری تیسری تقریر میں ریاست مدینہ کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ ریاست مدینہ جس کی بنیاد حضور اکرم ﷺ نے رکھی تھی ، اس کا تو تاریخ میں نعم البدل نہیں ملتا لیکن جس ریاست مدینہ کا ذکر خان صاحب بار بار کر رہے ہیں، اس کا مقصد اب سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔

حال ہی میں سابقہ ایف آئی اے سربراہ نے تو خان صاحب کی نیت کو ایک ٹی وی ٹاک شو میں آشکار کر دیا ہے ، جس میں انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے شکوہ کیا ہے کہ سعودیہ کے شہزادے کی بات تو ہر کوئی مان لیتا ہے اور اس کے ہر حکم کو نافذ بھی کیا جاتا ہے، پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے؟

Read more

آئی ایم ایف شرائط پر عمل: معیشت کے لیے کیا مضمرات ہوں گے؟

حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قانون میں ترمیم کر کے بینک کو وفاقی سرکار سے مکمل خودمختار کرنے جا رہی ہے اور حکومت نے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی منشا کے مطابق چھوٹی صنعتوں اور دوسرے شعبوں کے لیے ٹیکس چھوٹ اور کمزور شعبوں کے لیے سبسڈی بھی ختم کرنے جا رہی ہے۔ یہ عمل ملکی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا۔

خیال رہے پاکستان نے آئی ایم ایف سے اس وقت معاہدہ کیا تھا جب پاکستان کا معاشی عدم استحکام بلندترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ تجارتی خسارہ دن بہ دن بڑھ رہا تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جا رہے تھے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ ڈالر کے مقابل روپے کی گراوٹ بھی تاریخ کی بلندترین سطح تک پہنچ چکی تھی۔ ایسے حالات میں تحریک انصاف کی حکومت نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دوست ممالک سے قرضہ لیا لیکن پھر بھی ملک کے معاشی حالات بہتر نہیں ہو رہے تھے۔

Read more