صورت حرف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو کہانیاں نانیاں اور دادیاں سناتی تھیں وہ کتابوں میں حرف کی صورت اتر آئیں، تو یہ امید کرنے میں میں حق بجانب ٹھہروں گی کہ ادب زندہ رہے گا۔ اور دعا کروں گی کہ ہماری پیاری زبان اردو کا ادب زندہ بھی رہے اور اس میں ایک معیار بھی باقی رہ جائے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ تازہ واردان ادب کی تخلیقات کو خصوصی توجہ سے پڑھوں۔ اس پس منظر میں زیرنظر مجموعے کے افسانوں کو پڑھا تو بڑی خوشگوار طمانیت کا احساس ہوا۔

ایک تو یہ کہ سبھی افسانہ نگار خواتین ہیں اور ان میں کوئی کہنہ مشق اور معمر نہیں ہے۔ یہ آج کی نوجوان نسل ہے۔ اس نسل کی اردو سے وابستگی ہی دل خوش کن ہے۔ اور بیشتر افسانے اس بات کے ضامن ہیں کہ ایک معیار نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ آگے اور آگے بڑھتا جائے گا۔ اور ہاں یہ خواتین افسانہ نگار اس بات کی بھی ضامن ہیں کہ زبان و ادب ساری تکنیکی ترقی کے باوجود نئی نسل میں ضرور منتقل ہوں گے۔

مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ اس مجموعے میں میں نے جن افسانوں کو پڑھا، وہ عصری مسائل سے آنکھیں چار کر رہے ہیں۔ پڑھا میں نے سب کو اور بہت خلوص اور توجہ کے ساتھ پڑھا لیکن سب کو زیر بحث لانا ممکن نہیں ہے۔ میں ابصار فاطمہ، ثروت نجیب، سمیرا ناز، صفیہ شاہد، فاطمہ عثمان، فرحین خالد، اور معافیہ شیخ ان سبھی کی تخلیقات میں سے کچھ کا تذکرہ کروں گی۔ ان سب نے کہیں نہ کہیں سماجی، سیاسی، معاشی، جذباتی، غرض یہ کہ ہر قسم کے استحصال کے خلاف جو آوازیں بلند کی ہیں وہ طاقتور ہی نہیں کہیں کہیں بہت بے خوف (Bold) بھی نظر آتی ہیں اور دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے۔ شاباش!

ان کے مضامین میں تنوع ہے اور اگر ان ساتوں خواتین کے تحریر کردہ زیر نظر افسانوں پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالی جائے تو احساس ہو گا کہ انہوں نے اس پر خطر اور کانٹے دار جھاڑ کے اندر شامل ہونے سے بھی گریز نہیں کیا جسے ہم مذہب کہتے ہیں۔ بعض موضوعات ایسے ہیں جنہیں ہاتھ لگاتے ہوئے میری بھی روح فنا ہوئی لیکن یہ نوجوان خواتین نہیں ڈریں۔

ابصار فاطمہ کے افسانے ”لچھی کی کرسی“ (یوں تو ان کے سبھی افسانوں نے تاثر چھوڑا) کا خاص طور پر ذکر کروں گی۔ سرحد پار سے آنے والے افسانوں میں میں نے وہاں کی اقلیت کے مسائل شاذ و نادر ہی دیکھے۔ اس لحاظ سے بھی یہ افسانہ منفرد ہے۔

لڑکیوں کے اوپر بیٹھنے تک میں اعتراض اور یہ جملہ ”بھگوان اس کی ٹانگوں کے بیچ میں وہی کچھ دے دیتا جو اس کے بھائیوں کے پاس تھا تو یہ ذرا سی اونچائی ناقابل تسخیر نہ ہوتی۔“ شاید اقلیتی سماج کا ہی نہیں بلکہ برصغیر پر صادق آتا ہے۔ اور بڑی ہمت چاہتا ہے کھولے جانے کو۔ ابصار فاطمہ کے افسانے، پر زور احتجاج اور گنوار معاشرے کی ریا کاری کو یوں کھول رہے ہیں کہ ”کہانی پن“ برقرار ہے۔

افغانستان کی ثروت نجیب بھیانک افسانے لکھ رہی ہیں، دل دہلا دینے والے۔ ان کا مختصر افسانہ ”آگ اور آتش“ جس جملے پر ختم ہوا وہ جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی معنی خیز یا جتنا معنی خیز ہے اتنا ہی خوبصورت۔

”گزری صدیوں میں آگ دریافت کرنے والے کا ضرور وصال ہوا تھا مگر آگ کا نہیں۔“

یہ جملہ زمان و مکان سے پرے ہے اور کچھ دیر تک خاموش کر دینے والا، خوفزدہ کر دینے والا۔ یہ آگ کہیں ہم تک تو نہیں آ رہی؟ کیا ہمارے اعزاء و اقرباء محفوظ رہیں گے؟

پھر شہر ہائی زغالی کا پہلا جملہ۔

”ابھی تک میری داڑھی نہیں آئی البتہ بہت سی داڑھیاں رسی کی طرح بٹی ہوئی میرے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہیں۔ نہ جانے قیامت ان بیڑیوں کو کھولنے کب آئے گی۔“

ان جملوں ہی میں ایک پوری کہانی پوشیدہ ہے۔ اور یہاں بھی ”ایسے دشوار گزار علاقے ہیں جہاں قانون پہنچ سکتا ہے نہ سہولیات۔ وہاں مذہب کیسے پہنچ جاتا ہے۔“

ثروت بی بی۔ مذہب ایسی ہی جگہوں میں آسانی سے پہنچتا ہے۔ آپ ہی تو بتا رہی ہیں کہ چوبی پنگھوڑا اس لیے ہمیشہ آباد رہتا ہے کہ روزی رساں تو خدا ہے۔ آپ کا یہ خوفناک افسانہ الگ سے گفتگو چاہتا ہے۔ بس میں یہ کہوں گی کہ اسے نثری نظم کی صورت میں نہ کہا ہوتا تو بہتر تھا۔ دوسرے آپ کے یہاں جو علامت نگاری ہے (دوسرے افسانوں کی بات کر رہی ہوں ) وہ کہیں کہیں گنجلک ہو جاتی ہے۔ ابہام سے بچیں تو بہتر ہے۔

فاطمہ عثمان کے مختصر افسانے سماج کی دکھتی رگوں پر نشتر لگا رہے ہیں۔ ”اجالوں کا اندھیرا“ ان کا بڑا ہی بے باک افسانہ ہے۔ کھوکھلی مذہبیت پر گہرا طنز ہے۔ فاطمہ کے ہاں عورت بے بسی سے روئی نہیں بلکہ وہ دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کر تن کر کھڑی ہو گئی۔ اور معاشرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گناہ و ثواب کے پیمانوں کو چیلنج کیا۔ کیا اسے بدکار کہا جائے گا۔ اس نے نیکو کار رہنے کی ہر کوشش کر ڈالی تھی۔ ”اشک لازم“ کی عورت بھی یونہی تن کر کھڑی ہوئی ہے اور سماج کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔ میں چاہوں گی فاطمہ اپنے افسانوں کو تھوڑا سا اور بڑھائیں۔ وہ مکمل ہیں لیکن پھر بھی تشنگی رہ جاتی ہے، جی چاہتا ہے اور کچھ بھی ہوتا۔ یہ ویسے ان کی کامیابی ہے۔

سمیرا ناز نے بھی بڑی بے باکی سے ایک اچھوت سمجھے جانے والے موضوع کو ہاتھ لگایا ہے۔ بڑی خوبصورتی سے وہ فحش نگاری سے دامن بچاتے ہوئے ایک تیسری جنس کے ریپ کو بیان کر گئی ہیں۔ سماج کا نہایت بے رحم رویہ جو کچھ لوگوں کو انسانوں کے زمرے سے خارج کر دیتا ہے۔ جن میں کچھ نارمل جسمانی صلاحیتوں سے معذور گونگے، بہرے، اپاہج، ٹرانسجینڈر، نہ جانے کون کون شامل ہیں۔ سمیرا نے ایک اور موضوع بھی ایسا لیا ہے جس پر کم عورتیں طبع آزمائی کرتی ہیں۔

ایک مرد کا درد۔ میں نے جیلانی بانو کا ایک افسانہ پڑھا تھا ”پرایا گھر“ اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ یہ مرد بھی وہ ہے جسے درد ہوتا ہے۔ اسے تنہائی کے دو پل میسر نہیں آئے تو وہ ابنارمل ہو گیا ہے۔ سمیرا کا مرکزی کردار دو پل چرا کر کوشش کر رہا ہے کہ ذہنی توازن برقرار رکھ سکے۔ بڑا نفسیاتی تجزیہ کرتا بہت ہی مختصر افسانہ ہے۔ اور بڑا نازک۔ ان سے بھی درخواست ہے کہ بھئی قاری کو تشنہ مت چھوڑیے۔

فرحین خالد کا افسانہ ”در زنداں نہ کھلا“ بھی کرداروں کی نفسیاتی کیفیات کا بڑی مہارت سے تجزیہ کرتے ہوئے مرسی کلنگ کے گرد بنا گیا ہے۔ یہ بھی ایک ایسا موضوع ہے جس پر زیادہ کچھ نہیں لکھا گیا۔ کم از کم میں نے خواتین کی تحریروں میں اسے نہیں پایا۔ بڑا دلدوز افسانہ ہے۔ لیکن فرحین سے کہیں کہیں کچھ غلو ہو گیا ہے یا یہ میرا خیال ہے جس سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ لیکن اپنی مجموعی حیثیت میں افسانہ جھنجوڑتا ہے۔ اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ان کے دوسرے افسانے ”بے ڈھب بڑھیا“ کا موضوع ہیومن ٹریفکنگ ہے۔ گل جانہ جو ابتدا میں ایک شگفتہ کلی تھی، اپنے سارے حسن کے باوجود کچھ دن مسلے کچلے جانے کے بعد ”بے ڈھب بڑھیا“ کا لقب پاتی ہے۔ استعمال کیجیے۔ اور پھینک دیجیے۔ اختتامی جملے افسانے کو ایک نئی جہت اور نئی بلندی عطا کرتے ہیں۔

”گل جانہ مسترد و متروک ہو کر العطش کی تصویر بنی پڑی رہی۔ وہ مر جانا چاہتی تھی مگر جانتی تھی کہ لوگ کچھ ضائع نہیں کرتے۔ اس کو خشک کر کے پھر کسی طور استعمال کریں گے۔ اور اس سے حاصل ہوئے بیج نامحرم زمین میں غریب الوطنی کی نئی داستان رقم کریں گے۔“

معافیہ شیخ کا افسانہ ”دیواریں“ کوزے میں دریا بند کرنے کی اچھی کوشش ہے۔ انسانوں کے درمیان دوریاں، ترسیل کے المیے اور ان کی وجہ سے تعلقات کی شکست و ریخت۔ اس شدید فرسٹریشن کے عالم میں جب جی چاہے کہ خود اپنا سر پھوڑ لیا جائے، ایک جانور احساس دلاتا ہے کہ ”تم ہو“ میں تمہیں سن سکتا ہوں۔ تو وہ بے بضاعت جانور کتنا اہم ہو جاتا ہے۔ ان کا گلدان علامت ہے اس ”گھر“ کی جو ایک عورت کے ہاتھوں سنورتا ہے۔ جس میں تہذیب پنپتی ہے، جہاں رشتے سنورتے ہیں، جہاں محبت ہوتی ہے۔ جہاں اقدار ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہیں اور ان کی شکست و ریخت کیسے معاشرے کو چٹخا رہی ہے۔ معافیہ اپنی ترسیل میں کامیاب ہیں۔

صفیہ شاہد کے افسانے بھی مختصر ہیں۔ آپ یہ نہ سوچیں کہ مختصر ہونا کوئی عیب ہے یہ ایک وصف ہے اور بس۔ اگر بات مکمل کر لی تو اچھا ہے کہ گاگر میں ساگر رہے۔ ان کے دو افسانوں ”طیب“ اور ”کہانی کے کردار کا حقیقی جنم“ میں معاشرے کے نام نہاد پڑھے لکھے اور اشرافیہ کے زمرے میں آنے والے لوگوں کی ریاکاری کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ باقی افسانے بھی خوب ہیں۔ صفیہ مجھے قدرے جذباتی نظر آ رہی ہیں لیکن آئینہ دکھانے میں کمی نہیں کر رہیں۔

مجھے امید ہے کہ آپ کے یہاں پریم چند کو رد نہیں کیا گیا ہو گا۔ پریم چند اردو افسانے کے پیش رو ہیں۔ یہاں ان کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گی۔

”ہمیں اپنے ذوق اور رجحان کے مطابق موضوع کا انتخاب کر لینا چاہیے اور یوں اس موضوع پر پوری دسترس حاصل کرنی چاہیے۔ ہم جن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ہمارا آدرش اونچا رہنا چاہیے۔ ہم پہاڑ کی چوٹی تک نہ پہنچے تو کمر تک تو ضرور پہنچ جائیں گے جو زمین پر پڑے رہنے سے کہیں اچھا ہے۔“

(ہندی سے ترجمہ)

آپ زمین سے اٹھ چکی ہیں اور آگے بڑھیے اور چوٹیاں سر کیجیے۔ خدارا اس سسٹم کا حصہ کبھی نہ بنیے گا جس کے خلاف آپ آواز اٹھا رہی ہیں، جسے آپ چیلنج کر رہی ہیں۔ انسانی اقدار کی پاسداری اور اپنی خودداری کو سلامت رکھتے ہوئے لکھیے اور خوب لکھیے۔ اور ہاں یہ گرہ میں باندھ لیجیے کہ تنقید سے گھبرانا نہیں ہے بلکہ اس پر غور کرنا ہے۔

آخر میں فرحین خالد اور صفیہ شاہد کو خصوصی مبارک باد دیتی ہوں کہ اتنی پر اثر آوازوں کو اکٹھا کر کے انہوں نے یہ مجموعہ ترتیب دیا ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے میری نیک خواہشات۔ میں جو آپ کی پر خلوص قاری ہوں، نقاد نہیں۔

Latest posts by ذکیہ مشہدی، پٹنہ، انڈیا (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذکیہ مشہدی، پٹنہ، انڈیا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *