سول ہسپتال جھنگ کے آئسولیشن وارڈ میں خوشگوار لمحات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یقیناً پڑھنے والے عنوان پڑھ کر خاکسار کی ذہنی حالت پر شک کر رہے ہوں گے کہ ایک ظالم وبا کی مشکل صورت حال سے نمٹنے کے لیے قائم آئسولیشن وارڈ میں رہنے والا کوئی خوشگواریت کی بات کیا بقائمی ہوش و حواس کر رہا ہو گا؟ لیکن پہلے یہ وضاحت ضروری کہ اس ظالم وبا کا خاکسار شکار نہیں ہوا ہے بلکہ چھوٹے بھائی پروفیسر وحید اقبال (صدر شعبۂ ریاضی، گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ) اس سے متاثر ہوئے ہیں اور جب انہیں 1122 کی ایمبولینس میں سول ہسپتال جھنگ کی ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا تو انہوں نے علامات و شواہد کی بنیاد پر فی الفور اپنے آئسولیشن وارڈ منتقلی کے احکامات جاری کر دیے اور یہاں پہنچ کر خاکسار حیران رہ گیا کہ جھنگ جیسے پسماندہ ترین علاقے کے اس ہسپتال میں جہاں آکسیجن کی فراہمی ایسی مثالی اور بھرپور بنائی گئی ہے کہ دیکھ کر رشک آتا ہے اور پھر یہ بھی کہ اس بیماری میں بندہ نفسیاتی طور پر بھی ایسے عمدہ انتظامات دیکھ کر تیزی سے بہتری کی طرف جاتا ہے اور یہاں موجود طبی عملہ ایسا با اخلاق اور خیال کرنے والا ہے کہ مریض اور اس کے متعلقین بے فکر سے ہو جاتے ہیں۔

آپ رات کے کسی بھی پہر کسی بھی نرس کو مسکراتے ہوئے مریض کے پاس پائیں گے اور ڈاکٹرز کی موجودگی بھی اس حساس ترین وارڈ کے حوالے سے متاثر کن اور قابل تعریف کہی جا سکتی ہے، بظاہر نوجوان ڈاکٹرز بھی پوری تفصیلات کے ساتھ مریض کی کیس ہسٹری کو دیکھتے ہیں، اس سے کسی ٹینشن یا پریشانی یا تکلیف بارے متعدد سوالات بھی ان کی شاید عادت ثانیہ بن چکی ہے اور یہ وہ طرز عمل ہے کہ جس کے کارن مریض کا آدھے سے زیادہ مسئلہ اڑنچھو ہو جاتا ہے، یقینی طور پر یہ ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن کی رہنمائی میں ہو رہا ہوگا کہ اس وقت اس ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ارتضیٰ ایک پڑھی لکھی اور وضع دار فیملی سے ہیں اور ان کے انتظامات کا شاندار نظارہ ہسپتال میں عملے کے اخلاق، فرض شناسی سے تو ہو ہی رہا ہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ اس ہسپتال میں صفائی کا معیار بھی کمال کا ہے۔

عام طور پر ہسپتالوں پر صفائی ستھرائی کے حوالے سے بہت تنقید ہوتی ہے لیکن اگر آپ ہسپتال کی راہداریوں، کمروں، وارڈوں اور باتھ روموں کی چمک دمک دیکھیں تو پھر آپ حیرانی سے دوچار ضرور ہوں گے اور یہ منظر نامہ کسی یورپین ہسپتال سے کم نہیں ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ڈاکٹر ارتضیٰ اور ان کی مینجمنٹ ایسا کارنامہ دکھانے میں کامیاب جا رہی ہے لیکن بات ہو رہی تھی آئسولیشن وارڈ کی جہاں خاکسار اپنے بھائی پروفیسر وحید اقبال کے ساتھ گزشتہ پانچ روز سے ہے اور خدا گواہ ہے کہ ان پورے پانچ دنوں میں نرسیں وقت کی پابند، ہر وقت مریض کی مدد کے لیے تیار ملتی ہیں حالانکہ جب ہم باہر تھے تو سنا کرتے تھے کہ آئسولیشن وارڈ کی طرف ہسپتال کا طبی عملہ بھی نہ پھٹکتا ہے بلکہ دور دور سے سلام والا معاملہ کر کے چلا جاتا ہے لیکن سول ہسپتال جھنگ کا آئسولیشن وارڈ شاید اپنی مثال آپ ہے ۔ یہاں نہ صرف باریک بینی سے ہر مریض کی نگہداشت کی جا رہی ہے بلکہ اس کی میڈیسن بارے بھی مکمل طور پر آگاہی دی جاتی ہے اور انجکشن، بھاپ کے عمل اور دیگر معاملات بارے پوچھے گئے ہر سوال کا جواب عملہ مسکراتے ہوئے دیتا ہے۔

چونکہ یہ مرض ایسا ہے کہ متعلقین بھی ازحد پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی حفاظتی انتظامات کو قابل قدر حد تک بہتر بنایا گیا ہے کہ غیر ضروری آمدورفت سے گریز کی سختی سے پابندی کروائی جاتی ہے کیونکہ یہ مرض احتیاط کے دائرے سے باہر نکلنے پر ہی حملہ آور ہوتا ہے اور اس ضمن میں انتظامیہ نے آئسولیشن وارڈ کی نکر پر ایک مستقل سیکیورٹی گارڈ بھی تعینات کر رکھا ہے جو کہ غیر ضروری افراد کی آمد کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور ساتھ ہی آکسیجن کی مستقل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک تجربہ کار بندہ بھی ہمہ وقت وارڈ کے آس پاس ہی دستیاب ہوتا ہے جو کہ آکسیجن کی 24 گھنٹے عمدگی سے فراہمی کا خاص اور چوکنا ہو کر خیال رکھتا ہے۔

ہمارے ساتھ ڈاکٹر نوید صفدر، ڈاکٹر کامران رؤف، ڈاکٹر حیدر کے ساتھ ساتھ آئسولیشن وارڈ کے مستعد، ہمدرد، فرض شناس اور ذہین عملے کی خدمات بہت سی ذہنی و نفسیاتی الجھنوں کو رفع کرنے کا کام نہایت عمدگی سے کر رہی ہیں اور خاکسار سوچتا ہے کہ کیا ہم اس وقت یورپ کے کسی ہسپتال میں تو نہیں ہیں؟ خاکسار سمجھتا ہے کہ جب کہیں کسی بات پر داد بنے تو اس میں کنجوسی سے بالکل بھی کام نہ لینا چاہیے اور ویسے بھی ہمارا طبی عملہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس طرح چوکس ہو کر کام کر رہا ہے، یہ کوئی معمولی اور نظر انداز کرنے والی بات نہ ہے۔

یہاں سینیئرز اور جونیئرز کی بات نہیں ہے بلکہ سب ہی اپنی ڈیوٹی پوری تندہی اور جانفشانی سے ادا کر رہے ہیں، رات کی شفٹ کی مہربان نرسز ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق مریض کا مکمل طور پر خیال رکھتی ملیں گی تو صبح والی تازہ دم ہو کر اور بھی شفقت سے پیش آتی دکھائی دیں گی۔ خاکروب مجال ہے کہ کسی جگہ پانی کا ایک قطرہ، گندگی یا کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی رہنے دیں۔ وہ مریضوں کے کہنے پر بار بار صفائی بھی کر دیتے ہیں اور ماتھے پر شکن تک نہ آتی ہے۔

خاکسار اس وبا میں فکشن لکھنے کے حوالے سے بھی کچھ تحریریں سامنے لاچکا ہے اور اب لگتا ہے کہ طبیعت ایسی موزوں ہو گی کہ شاید سول ہسپتان جھنگ کے آئسولیشن وارڈ کے طبی عملہ کو خراج تحسین پیش کرتا کوئی فن پارہ ہی سامنے لانا پڑ جائے۔ بہرحال سلام محبت و عقیدت ظالم وبا سے انسان اور انسانیت کو بچانے والے طبی عملہ کو۔ اللہ انہیں ہمیشہ خوش و صحت مند رکھے کہ یہ لوگ صحت مند ہوں گے تو ہم بھی ایسی وباؤں سے بچے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *