کیا دوسرے شوہر کے لئے بھی کوئی ویب سائٹ متعارف کروائی جا سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف پاکستانی بزنس انٹر پرینیور ”آزاد چائے والا“ نے حال ہی میں اپنی ایک نئی ویب سائٹ ”سیکنڈ وائف۔ کام“ کے نام سے متعارف کروائی ہے۔ جس کا مقصد معاشرے میں مردوں کے لئے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کو فروغ دینا ہے۔ آزاد چائے والا نے اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ ویب سائٹ ان خواتین کے لئے معاون ثابت ہو گی جن کو ایسے امیر، شادی شدہ مردوں کی تلاش ہے جو ان کو بطور دوسری یا تیسری بیوی کے طور پر اپنا سکیں گے۔ آزاد اپنے وسیع سوشل نیٹ ورک کی بنیاد پر اپنے اس پلیٹ فارم کی کامیابی کے لیے خاصے پر امید ہیں۔

ان کے اس اقدام کا مقصد ان کی اس ویب سائٹ کے پہلے صفحہ کو دیکھ کر مزید سمجھ میں آ جاتا ہے۔ جس پر سب سے اوپر مردوں کی چار شادیوں سے متعلق قرآنی آیت درج کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ انصاف کر سکتے ہوں تو انہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر لینی چاہیے۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی یہ ویب سائٹ پاکستان میں اپنی طرز کا ایک پہلا پلیٹ فارم ہے جو کہ فتنہ کے اس دور میں ”کثرت ازدواج“ کو فروغ دینے کے لئے عمل میں لایا گیا ہے۔

اس کے بعد اس کی مزید وضاحت یوں دی گئی ہے کہ ہم ایک فتنہ کے دور میں رہ رہے ہیں۔جس میں ہمیں فحاشی، پورنو گرافی، جسم فروشی، مردوں، عورتوں کے درمیان دوستی اور ناجائز جنسی تعلقات جیسی سماجی برائیوں کا سامنا ہے۔ اور ان سماجی برائیوں پر ”کثیر ازواج“ کی روایت کو عام کر کے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اس پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس ویب سائٹ پر دیگر شادی کی ویب سائٹس کی طرح کچھ بنیادی معلومات لے کر آپ کا ایک اکاؤنٹ بنا دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد آپ اگر مرد ہیں تو ایسی خواتین کو ڈھونڈ سکتے ہیں جو کہ دوسری یا تیسری شادی کرنے پر رضامند ہوں گی اور اگر عورت ہیں تو آپ کو ایسے مرد ڈھونڈنے میں آسانی ہو جائے گی۔

اب اس حقیقت سے تو کوئی انکار نہیں ہے کہ ہمارے سماج میں یہ سب سماجی برائیاں کسی نہ کسی حد تک موجود ہیں مگر کیا محض ”کثیر ازواج“ کو فروغ دینے سے ان میں واقعی کمی واقع ہو جائے گی؟ یا کیا ہمارے اس سماج میں ”کثیر ازواج“ کو اپنانا آسان بھی ہے یا نہیں؟ تو اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ ہو سکتا کہ اس سے مردوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہو اور انہوں نے جلدی سے اس ویب سائٹ پر جا کر اکاؤنٹ بھی بنا لیے ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جس قسم کے سماج میں ہم آج کل رہ رہے ہیں اس میں مردوں کے لئے بھی پہلی شادی کے بعد دوسری کے لئے سوچنا بہت مشکل ہے۔

ہاں کچھ دہائیاں پہلے تک شاید ”کثیر ازواج“ کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔اسی لیے ہمارے آباء و اجداد میں دو یا تین شادیوں کا ہونا عام سی بات تھی۔ آج کل تو ایک شادی کے لئے ہی اتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور اس کے ہی اتنے جھنجھٹ ہوتے ہیں کہ اس سے کوئی نکلے تو آگے کی سوچے۔ پھر آزاد بھیا کو بھی ہمارے زیادہ تر لوگوں کی طرح شاید یہی لگتا ہے کہ ہمارے سماج میں جتنی بھی خرافات ہیں وہ عورت کی ہی وجہ سے ہیں، اس لیے ان کے نزدیک اگر سب عورتوں کی شادی کروا دی جائے تو شاید ساری بے حیائی ختم ہو جائے، سارے غلط تعلقات نہ رہیں تو ایسا بھی نہیں ہے۔ کیا اس سماج کے سب مرد پارسا ہیں؟ کیا وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی دوسری خواتین سے دوستی یا جنسی تعلقات نہیں رکھتے؟

اگر ایک مرد ایک شادی کرنے کے بعد بھی یہ سب کر رہا ہے تو کیسے یہ کہا جاسکتا کہ وہ دوسری یا تیسری شادی کے بعد ایسا نہیں کرے گا؟ ایک ایسا سماج جس میں مرد یہ سب کرنے کے باوجود بھی پارسا رہتا ہے جبکہ عورت کی ذات پر ایک چھوٹا سا داغ بھی پوری عمر کے لئے اس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ کو خراب کر دیتا ہے، وہاں آپ کو لگتا ہے کہ مرد کی چار شادیاں کر دینے سے سب مسائل حل ہو جائیں گے؟ ارے، پہلے اس سماج کے مرد کو چار بیٹیاں پیدا ہونے پر فخر کرنا تو سکھائیے ان کو عزت دینا تو سکھائیے پھر اس کی چار شادیاں بھی کروا لیجیے گا۔

چلیں کروائیے چار شادیاں مردوں کی کیونکہ مذہب نے کہا ہے مگر اس مذہب نے عورت کی مرضی پوچھ کر اس کی شادی کرنے کا بھی حکم دیا ہے، کیا یہاں اس پر عمل کیا جاتا ہے؟ مذہب نے عورت کو جائیداد میں جو حصہ دیا ہے کیا وہ یہاں درست طریقے سے دیا جاتا ہے؟ مذہب نے یہ حکم دیا کہ ذات پات، برادری نسب سے ماورا ہو کر رشتے طے کیے جا سکتے ہیں، کیا یہاں پر ایسا کیا جاتا ہے؟ اسی مذہب نے عورت کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اگر اپنے شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اسے اس رشتے سے آزاد کر دیا جائے، مگر کیا ہمارا یہ سماج عورت کو وہ آزادی دیتا ہے؟

لیکن اس سب پر عمل ہو یا نہ ہو آپ کو اس سے کیا، آپ نے تو مردوں کی چار شادیوں کے لئے اپنی ویب سائٹ متعارف کروا دی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اس سے فائدہ بھی عورتوں کو زیادہ پہنچے گا مگر کیا حقیقت میں ہمارے ہاں خواتین کے لئے کوئی ایسی ویب سائٹ متعارف کروائی جا سکتی ہے؟ جس کا نام ”سیکنڈ ہسبنڈ۔ کام“ ہو، جس میں اگر وہ اپنے موجودہ شوہر سے خوش نہ ہوں تو اپنے لیے وہ اپنی مرضی کا کوئی اور شوہر تلاش کر سکیں؟ یا جس میں طلاق یافتہ اور بیوہ ہونے والی خواتین کو بھی مردوں کی طرف سے اپنی پہلی بیوی کے طور پر عزت کے ساتھ اپنایا جا سکے؟ کیونکہ مذہب نے اس کی بھی ممانعت نہیں کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *