تحریک لبیک پر پابندی سے مذہبی انتہا پسندی ختم نہیں ہو گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر، جس نے مبینہ توہین اسلام کے الزام میں فرانس کے خلاف پرتشدد مظاہرے کیے تھے، پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مذہبی انتہا پسندی سے نمٹنے میں پاکستان کی سنجیدگی کا اشارہ دینا ہے۔ تاہم پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا مسئلہ تحریک لبیک پاکستان سے شروع نہیں ہوا تھا اور اس گروپ پر قانونی پابندی سے ختم بھی نہیں ہو گا۔

یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ پاکستانی سفارت کار دنیا کو یہ باور کروا سکیں کہ اس بار پاکستان واقعی اسلام پسند انتہا پسندوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلقہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے بے چین ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے بانی حافظ محمد سعید کو سزا سنانے سے لے کر دہشت گردی کی مالی اعانت روکنے کے لئے دہشت گرد تنظیموں کی عالمی فہرستوں میں شامل کئی گروپوں پر پابندی عائد کرنے جیسے کئی اقدامات شامل ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کے قوانین میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔

تاہم تشکیک پسند حلقوں میں پاکستان کے ایسے اقدامات بین الاقوامی مطالبات اور توقعات کی جانچ پڑتال کی فہرست میں خانہ پری کے مترادف ہیں۔

پاکستان میں اب بھی ایسے مصدقہ شواہد نہیں مل سکے جن سے معلوم ہو سکے کہ ریاست مذہبی انتہا پسندی سے واضح طور پر کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں کی جانے والی کارروائیوں سے یہ عندیہ نہیں ملتا کہ بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے جہادی انفراسٹرکچر کو ختم کیا جا رہا ہے یا ایسے عناصر کی پشت پناہی کرنے والے بنیاد پرست رجحانات کی موثر سطح پر حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ماضی میں جہادی گروہوں پر پابندی عائد کی گئی لیکن وہ نئے ناموں سے بدستور سرگرم عمل رہے۔

کالعدم گروہوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے لیکن قریب قریب ہر مرتبہ معلوم ہوا کہ ان اکاؤنٹس میں سرے سے پیسے تھے ہی نہیں۔ گویا اس ضمن میں کارروائی سے پہلے ہی متعلقہ تنظیموں کو ان اکاؤنٹس سے پیسہ نکالنے کا اشارہ مل چکا تھا۔ دھوم دھام کے ساتھ گرفتار ہونے والے بیشتر انتہا پسند رہنما عدالت کے احکامات پر ’ثبوت کی عدم دستیابی‘ کی بنا پر رہا ہوتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، تحریک لبیک پاکستان کے حالیہ احتجاج کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو یہ سمجھانے کی ضرورت پر زور دیا کہ اسلام کے بارے میں نازیبا آرا یا مسلمانوں کے بارے میں منفی تبصروں سے مسلمان اتنے ناراض کیوں ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ کسی بھی مذہب کے پیروکار اپنے عقائد کی تضحیک پر مبنی تقریر و تحریر یا خاکے بنانے سے مشتعل ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانیوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک متنوع دنیا ہے اور وہ اپنے ملک میں ٹریفک جام کر کے یا اپنے ہی پولیس افسران کو اغوا یا قتل کر کے دوسری قوموں پر اپنے عقیدے کی تقدیس مسلط نہیں کر سکتے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ تحریک لبیک ان جہادی گروہوں کا کبھی حصہ نہیں رہی جو پاکستان میں بیٹھ کر 1980 اور 1990 کی دہائی کے دوران افغانستان اور کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی برسوں ہی سے عالمی تشویش کا مرکز رہے ہیں۔ ماضی کے ان انتہا پسند گروپوں میں زیادہ تر کا تعلق دیوبندی مسلک سے تھا جبکہ تحریک لبیک کا تعلق سنی اسلام کے جنوبی ایشیائی ذیلی بریلوی فرقے سے ہے۔

سنی اسلام میں ان دو دھڑوں کی تقسیم تاریخی طور پر انیسویں صدی میں ہوئی۔ ان میں باہمی فرق کو سادہ طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دیوبندی مسلک مذہب کی زیادہ راسخ العقیدہ تشریح کرتا ہے اور باضابطہ دینی تعلیم پر زور دیتا ہے۔ دوسری طرف بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے لوک (عوامی) اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں، انہوں نے صوفی روایات کو اپنایا ہے، اور ان کے ہاں ایسے مذہبی مظاہر بھی ملتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی متون یا روایات کا حصہ نہیں رہے۔

دیوبندی مسلک کا مضبوط گڑھ اس کے مدرسے ہیں۔ افغانستان اور کشمیر میں لڑنے کے لئے پہلے پہل جہادیوں کو پاکستان کے دیوبندی مدرسوں ہی سے بھرتی کیا گیا تھا۔ پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق دیوبندی مسلک کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے اور انہوں نے پاکستان کے جہادی انفراسٹرکچر میں توسیع کرتے ہوئے دیوبندیوں کی پشت پناہی کی تھی۔

بریلوی حلقوں میں دیوبندی مسلمانوں کو کسی قدر استہزا سے ”گلابی وہابی“ کہا جاتا ہے۔ دیوبندی اپنی تصور عالم میں وہابی مسلک سے قریب تر ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طالبان اور پاکستانی جہادیوں نے پوری دنیا کے القاعدہ اور دیگر وہابی گروہوں کے ساتھ اشتراک میں کیوں سہولت محسوس کی۔

جنرل پرویز مشرف اور اس کے جانشین بریلویوں کے حامی تھے۔ انہوں نے اس دلیل کو قبول کیا کہ بریلوی صوفی روایت نے انہیں پاکستان کے مذہبی منظر نامے پر دیوبندی بالادستی کا فطری متبادل بنا دیا ہے۔ مشرف نے نائن الیون کے بعد امریکی حکومت میں کچھ لوگوں کو بریلویوں کو فنڈز دینے پر بھی آمادہ کر لیا تاکہ انہیں پاکستان میں ”شدت پسندی کے خاتمے“ کی کوششوں کا حصہ بنایا جا سکے۔ یہ بالکل اسی طرح تھا جیسے ضیا الحق نے امریکیوں کو کمیونزم کے خلاف جہاد کے لئے دیوبندیوں کی مالی اعانت پر راضی کیا تھا۔

دیوبندیوں نے غلبہ اسلام کے نعروں کے ساتھ جہادیوں کو بھرتی کیا۔ تحریک لبیک کے شعلہ بیان رہنما، مرحوم خادم حسین رضوی نے اپنے گروہ میں بھرتی کے لئے ’تحفظ ناموس رسالت‘ کا نعرہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر کسی کو خیال تھا کہ بریلوی فطری طور پر پر امن تھے تو یہ غلط فہمی تب دور ہو جانا چاہیے تھی جب خادم رضوی کے ایک پیروکار نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اس بنیاد پر قتل کر دیا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین پر بحث و مباحثے کی تجویز پیش کی تھی۔

نومبر 2017 میں خادم رضوی کی تحریک لبیک کے تقریباً 3000 حامیوں نے اسلام آباد پر ’قبضہ‘ کیا۔ اس دھرنے کے خلاف حکام کی جانب سے کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تب یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ خادم حسین رضوی کا احتجاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف ڈیپ اسٹیٹ کی ریشہ دوانیوں کا حصہ تھا۔

بعد ازاں خادم رضوی نے ڈچ اور فرانسیسی میڈیا کو توہین اسلام سے روکنے کے لئے پاکستان کی جوہری طاقت استعمال نہ کرنے پر فوج کو آڑے ہاتھوں لیا۔ پچھلے سال خادم حسین رضوی قید تھا تاہم رہائی کے کچھ روز بعد جب اس کی طبعی موت واقع ہوئی تو وہ اپنے سرپرستوں سے زیادہ کوش نہیں تھا۔ حالیہ دنوں میں خادم رضوی کے بیٹے سعد رضوی کے ذریعے پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں جو پاکستان کے نئے بریلوی رہنما کی حیثیت سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحریک لبیک کے کٹر حامیوں کی قابل ذکر تعداد ضرور موجود ہے لیکن اس جماعت کو بڑے پیمانے پر عوامی حمایت میسر نہیں ہے۔ تحریک لبیک انتخاب جیتنے کی سطح پر ووٹ نہیں لے سکتی لیکن اس کے ہارڈ کور حامی فساد برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تحریک لبیک ان بہت سے مذہب پسند گروہوں میں سے ایک ہے جو پاکستان کے استحکام کے لئے تشویش بلکہ پرتشدد خطرہ بن چکے ہیں۔ فرانس میں مبینہ توہین اسلام کے الزام میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ ان حیلوں بہانوں میں سے ایک ہے جو پاکستان کی مذہب پسند سیاست کا عمومی وتیرہ ہیں۔

اگر پاکستان نے ان تمام ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کر دیا جہاں کوئی شخص پاکستانی سخت گیر اسلام پسندوں کے تئیں توہین مذہب کا مرتکب ہوتا ہے تو پاکستان کے بہت ہی کم ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات باقی رہ جائیں گے۔ اس کے باوجود پاکستان میں عوامی سطح پر کسی کو اسلام پسندوں کے ناقابل عمل مطالبات کی مخالفت کا یارا نہیں۔

اگرچہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ مختلف اسلام پسند دھڑوں کو شطرنج کے مہروں کی طرح آگے پیچھے کرتی رہتی ہے، کبھی ایک کو دبایا اور دوسرے کو آگے بڑھایا اور کسی دوسرے موقع پر یہ ترتیب الٹ دی۔ تاہم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کبھی سیکولر عناصر کو مرکزی دھارے میں شامل کے بارے میں نہیں سوچا، جنہیں غدار یا نظریہ پاکستان کا مخالف کہا جاتا ہے۔

سیاسی مفادات کے تحت مذہبی جنون پھیلانے والوں کے خلاف ان سیکولر آوازوں کو میدان میں اتارے بغیر جو دلیل کی بنیاد پر حکمت کو فروغ دے سکیں، اس بات کا امکان نہیں کہ کسی ایک گروپ پر پابندی لگانے سے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔

( مصنف کی خصوصی اجازت اور The Print کے شکریے کے ساتھ شائع کیا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حسین حقانی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *