دوبارہ راستہ نہ کھو دینا

وزیرا عظم شہباز شریف نے جن حالات میں اپنا دور حکومت شروع کیا ہے وہ نہایت گمبھیر ہیں۔ لیکن یہ کسی حد تک ویسے ہی ہیں جن میں ان کے بڑے بھائی، نواز شریف نے چوبیس اکتوبر 1990ء کے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالا تھا۔ اس وقت ملک اقتصادی بحران کی زد میں تھا کیونکہ امریکہ نے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر پریسلر ترمیم کے تحت معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں اور تمام امداد معطل کردی

Read more

بدلتی دنیا سے بے خبری

گزشتہ تین عشروں سے پاکستانی اپنے ہمسائے میں جہاد اور اپنے وطن میں اقتدار کی نہ ختم ہونے والی جنگ میں مصروف رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کا قومی تفکر ان تبدیلیوں کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا جو سرد جنگ کے بعد دنیا میں آئی ہیں۔ سرد جنگ دسمبر 1991 ء میں سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ تمام ہوئی تھی۔ اقوام عالم کو ابھی تک کسی نہ کسی کشمکش کا سامنا ہے لیکن

Read more

معاشی عملیت پسندی اور نظریاتی جمود

گزشتہ ہفتے کے اخبارات کی شہ سرخیوں کا 1990 کی دہائی سے موازنہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت سے آج تک پاکستان کے معاشی حالات میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی۔ 1990 کی دہائی کی طرح آج بھی ملک کو زرمبادلہ کی کمی کا سامنا ہے کیوں کہ اس کی درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں۔ اس خلا کوپورا کرنے کیلئے بیرونی قرضے لینا پڑتے ہیں۔ حکومت محصولات کی مد میں اس سے کہیں کم رقم اکٹھا

Read more

افغانستان میں معاملات کیسے آگے بڑھائے جائیں؟

افغانستان میں متعدد ایسے اضلاع پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کی حالیہ اطلاعات سے طالبان حکومت کی واپسی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جہاں پہلے سے فریقین میں عسکری کشمکش جاری تھی۔ افغانستان کے بارے میں حالیہ خبروں اور ذرائع ابلاغ کے تبصروں نے اس خوف و ہراس کی یاد تازہ کردی ہے جو 2011 میں عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہوا تھا۔ طالبان کی حالیہ جنگی کامیابیوں کی وجہ یہ ہے کہ افغان

Read more

تحریک لبیک پر پابندی سے مذہبی انتہا پسندی ختم نہیں ہو گی

عمران خان حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر، جس نے مبینہ توہین اسلام کے الزام میں فرانس کے خلاف پرتشدد مظاہرے کیے تھے، پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مذہبی انتہا پسندی سے نمٹنے میں پاکستان کی سنجیدگی کا اشارہ دینا ہے۔ تاہم پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا مسئلہ تحریک لبیک پاکستان سے شروع نہیں ہوا تھا اور اس گروپ پر قانونی پابندی سے ختم بھی نہیں ہو گا۔

یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ پاکستانی سفارت کار دنیا کو یہ باور کروا سکیں کہ اس بار پاکستان واقعی اسلام پسند انتہا پسندوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

Read more