پولیس کا المیہ۔ مسجد وزیر خان سے یتیم خانہ چوک تک


تحریک لبیک کے احتجاج کا تنازعہ ابھی جاری ہے۔ آج ہم سب پر اس بارے میں دو دلچسپ کالم پڑھنے کو ملے ان میں سے ایک کالم اعزاز سید صاحب کا ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان فسادات میں حکومت نے فسادات پر قابو پانے کے لئے پولیس کو استعمال کیا۔ ان میں سے دو پولیس اہلکار شہید اور آٹھ سو کے قریب زخمی ہوئے۔ ان میں سے کچھ شدید زخمی ہیں۔ کئی پولیس اہلکاروں کو مختلف مقامات سے اغوا کیا گیا۔

اس کے بعد حکومت نے تحریک لبیک والوں سے معاہدہ کر کے فساد کرنے والوں کو رہا کرنا شروع کر دیا۔ ان لوگوں سے صلح کرنے سے پہلے حکومت نے پولیس افسران سے مشورہ کرنے کی تکلیف بھی گورا نہیں کی۔ اس وجہ سے پولیس میں سخت بد دلی پائی جاتی ہے۔ دوسرا دلچسپ کالم فاروق عادل صاحب کا تھا۔ اس میں انہوں نے موجودہ فسادات کا موازنہ 1953 میں برپا ہونے والے فسادات سے کیا ہے۔

سنہ 1953 میں اب کی طرح صوبہ پنجاب میں احمدیوں کے خلاف فسادات ہوئے تھے۔ اور آخر کار 6 مارچ کو لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ 1953 میں حکومت نے خود ہی مالی مدد کر کے فساد کرنے والے عناصر کی پرورش کی۔ اور انہیں ڈھیل دے کر پروان چڑھایا۔ آخر یہ جن بوتل سے باہر نکل کر بے قابو ہو گیا اور جو فسادات ایک تھانے کی نفری سے ختم کیے جا سکتے تھے ان پر قابو پانے کے لئے لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑا۔

1953 میں بھی مارشل لاء سے قبل پنجاب حکومت نے پہلے پنجاب پولیس کو استعمال اور پھر ان کو اکیلا چھوڑ دیا۔ اس کالم میں 1953 کے فسادات کے بارے میں کچھ حقائق پیش کیے جائیں گے اور پڑھنے والے خود موجودہ حالات اور 1953 کے حالات کا موازنہ کر سکتے ہیں۔

مارچ 1953 کے آغاز سے خاص طور پر لاہور میں حالات خراب ہونا شروع گئے تھے۔ لیکن 3 مارچ کو فوج جناح گارڈن میں پہنچ گئی۔ اور اس نے شہر کے صرف بعض علاقوں میں گشت کرنی شروع کی۔ فساد کرنے والے فوج کو دیکھتے ہی غائب ہو جاتے تھے اور ان سے کسی تصادم کی نوبت نہیں آئی۔ اگر چہ شہر میں کچھ جلوس نکالے گئے۔ اور انارکلی میں کچھ گرفتاریاں کی گئیں۔ مگر امن عامہ کے حالات بہتر ہو رہے تھے۔

لیکن شام کو پر اسرار طریق پر فوج نے شہر میں گشت کرنا بند کر دیا۔ اور شہریوں نے دیکھا کہ فوج کا ایک حصہ چھاؤنی واپس جا رہا ہے۔ عدالتی تحقیقات میں بتایا گیا کہ فوج کو اپنے ہیڈ کوارٹر کی طرف سے واپس جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور پولیس سے اس بارے میں کوئی مشورہ نہیں لیا گیا تھا۔

اسی رات کو مولانا عبدالستار نیازی نے مسجد وزیر خان میں ایک اشتعال انگیز تقریر کی۔ اگلے روز پولیس نے وہاں پہنچ کر عبدالستار نیازی صاحب کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ مسجد ان لوگوں کا ایک مضبوط گڑھ بن چکی تھی۔ 4 مارچ کو پولیس والوں کے خلاف ایسی خبریں پھیلائی گئیں، جن کے نتیجہ میں پولیس کے خلاف لوگوں کا غصہ بھڑک اٹھا۔

یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ پولیس افسران نے قرآن مجید کی توہین کی ہے۔ قرآن مجید کے نسخوں کو ٹھوکریں ماری ہیں اور ان کے اوراق پھاڑ دیے ہیں۔ اور لوگوں کو قرآن کریم کے پھٹے ہوئے اوراق دکھائے جا رہے تھے کہ انہیں پولیس والوں نے پھاڑا ہے۔ لاہور میں یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ جھنگ اور سرگودھا میں پولیس نے گولیاں مار کر ہزاروں لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ عدالتی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ تمام افواہیں غلط تھیں۔

جس طرح اب تحریک لبیک والوں نے پولیس والوں کو اغوا کیا ہے، 1953 میں مسجد وزیر خان میں موجود بلوائی پولیس کے دو سب انسپکٹر صاحبان کو اغوا کر کے مسجد وزیر خان میں لے گئے۔ اور یہ افواہ پھیل گئی کہ یہ ان کو قتل کرنے والے ہیں۔ پولیس کا ایک دستہ انہیں رہا کروانے کے لئے مسجد کے قریب پہنچا تو فسادیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اور پولیس والوں کو چھریوں اور لاٹھیوں سے مارنا شروع کیا۔ ایک ڈی ایس پی سید فردوس شاہ شہید ہو گئے۔ ان کے جسم پر 52 زخم تھے۔

5 مارچ کو فسادات اور بھی شدید ہو گئے۔ حکومت نے معززین شہر کا ایک اجلاس بلایا تا کہ وہ لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کریں۔ لیکن چند خواتین کے علاوہ کوئی بھی اس کے لئے آمادہ نہیں ہوا۔ لاہور بھر میں پولیس اور احمدیوں پر حملے کیے جا رہے تھے۔ بعض احمدیوں کو چھریاں مار کر مارا گیا۔ احمدیوں کے علاوہ حکومت کی املاک بھی نذر آتش کی جا رہی تھیں۔ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس روز حادثہ پر حادثہ نمودار ہوتا گیا۔ بار بار پولیس کو گولی چلانی پڑی اور کچھ لوگ مارے گئے۔ جس سے لوگوں کی بے چینی اور بڑھ گئی۔

اس صورت حال میں حکومتی ملازمین نے بھی حکومت کے احکامات کی پیروی چھوڑ دی۔ پنجاب کے سیکریٹریٹ میں کلرکوں نے کام بند کر دیا۔ اور یہ مطالبہ شروع کیا کہ پولیس گولی چلانا بند کرے جبکہ جو لوگ پولیس والوں کو اغوا کر رہے تھے اور مار رہے تھے انہیں روکنے کے لئے کوئی آمادہ نہیں ہوا تھا۔ اور لاہور کی دیواروں پر یہ اشتہار لگائے گئے کہ پولیس ہتھیار ڈال دے کیونکہ ہم حکومت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔

اس روز صبح حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ حالات قابو سے باہر ہو گئے ہیں اس لئے فسادات کو ختم کرنے کے لئے پولیس کو جتنی شدید طاقت کا استعمال کرنے کی ضرورت ہو وہ اسے استعمال کرے۔ ان کے ساتھ فوجی دستے بھی رہیں اور جہاں پر پولیس افسر یہ سمجھے کہ اب حالات اس کے قابو میں نہیں آ رہے وہ وہاں کا انتظام فوجی کمانڈر کے سپرد کر دے۔ لیکن ان احکامات پر عمل درآمد کرنے کی بجائے شام کو کابینہ کے اجلاس میں حکومت نے الٹا یہ حکم جاری کیا کہ پولیس گولی نہ چلائے اور اگر کرفیو اور قانون کی معمولی خلاف ورزیاں کی جائیں تو ان کی طرف توجہ بھی نہ کی جائے۔ اس اجلاس میں لاہور کے اعلیٰ ترین فوجی جنرل افسر میجر جنرل اعظم خان اور دیگر فوجی افسران بھی شامل تھے۔

ان متضاد احکامات کا یہ نتیجہ نکلا کہ پولیس کے حوصلے بالکل پست ہو گئے۔ افواہوں کے نتیجہ میں عوام ان کے خلاف ہو چکے تھے اور حکومت ان کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں تھی۔ 6 مارچ کی صبح کو فسادات اتنے شدید ہو چکے تھے کہ بلوائی پولیس کی عمارتوں کا محاصرہ کر کے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جن پولیس افسران نے گولی چلائی تھی انہیں ان کے حوالے کیا جائے۔ اور نوبت یہاں تک آئی کہ آئی جی مرزا نعیم الدین صاحب نے افسران کو کہا کہ حکومت کی کمزور پالیسی نے پولیس کے حوصلوں کو بالکل پست کر دیا ہے حالانکہ اب سرکاری اداروں میں سے صرف پولیس ہی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور اگر یہی رویہ رہا تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔

وزیر اعلیٰ نے شہر کا امن بحال کرنے کی بجائے یہ اعلان کیا کہ وہ فساد کرنے والوں سے گفت و شنید کے لئے تیار ہیں۔ اور وہ ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے حق میں۔ اس اعلان سے حالات بالکل ہی قابو سے باہر ہو گئے اور دوپہر ڈیڑھ بجے لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑا۔ تحقیقاتی عدالت میں ایک لاہور کے ڈی آئی جی ایس این عالم صاحب نے بتایا کہ لاہور میں زائد پولیس کی نفری بھجوانے کی درخواست بھی اس وقت تک منظور نہ ہوئی جب تک وہاں مارشل لاء نہ لگ گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لاء تھا۔ پھر یہ سلسلہ رک نہ سکا۔

ان واقعات اور چند روز قبل رونما ہونے والے واقعات میں آپ کو کافی مماثلت نظر آئے گی۔ ان چھ سات دہائیوں میں ہم نے کیا سیکھا ہے؟ یہ درست ہے کہ اگر کہیں پر کوئی پولیس اہلکار ظالمانہ رویے یا قانون شکنی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اس پہلو کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مختلف حکومتیں پولیس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں اور بحران کی حالت میں کوئی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہوتا اور اپنی غلطیاں بھی ان کے سر منڈھ کر فساد کرنے والوں سے مفاہمت کر لیتی ہیں۔

[رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ص 157 تا 170 ]

Comments - User is solely responsible for his/her words