اسلامی تہوار اور اس کی کھوئی ہوئی روح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے بیس پچیس سال پہلے کا ماحول قدرے مختلف تھا۔ ہر چیز کی روح زندہ تھی اور لوگ بھی زندہ دل تھے۔ پرانے زمانے میں احساسات تھے، جذبات تھے اور مصنوعی چیزوں پر دھیان نہ تھا۔ رشتے بھی مضبوط تھے، معاشرتی تعلقات بھی پر اثر تھے۔ لوگ باشعور اور اسمارٹ تھے ، البتہ اسمارٹ موبائل فون کا دور نہیں آیا تھا۔ لوگ کماتے کم تھے مگر برکت بھی تھی اور مہنگائی بھی کم تھی۔ گھر چھوٹے تھے مگر دل بڑے تھے۔ دسترخوان پر ڈشز کم ہوتی تھیں مگر دستر خوان وسیع تھے۔

کوئی بھی اسلامی تہوار ہو یا پھر خاص مہینہ ، اب اس میں پہلے کی طرح روحانیت نہیں رہی جو پہلے تھی۔ آپ خود آج سے 20 سال پہلے اور آج کا موازنہ کر کے دیکھ لیجیے ، تہواریا خاص اسلامی مہینے کو منانے میں کس حد تک تبدیلی آ چکی ہے۔ اب سب دکھاوا سا لگتا ہے ،  بس وقت گزاری لگتی ہے۔

ان خوبصورت مہینوں یا خاص تہواروں کا مقصد انسان کی روحانی تربیت تھی ، مگر ان مہینوں میں تربیت اب نہیں ہوتی۔ یہ مہینے اب بے جان سے معلوم ہوتے ہیں یعنی جسم تو ہے مگر روح کہیں غائب ہے۔ جو مہینے مسلمان کو بنانے یا سنوارنے آتے تھے ، اب وہ مہینے مسلمان صرف مناتے ہیں۔

اگلے زمانے کے رمضان کو ذرا یاد کیجیے۔ کیا خوبصورت لمحات ہوتے تھے۔ سحری میں اٹھنا، پھر نماز پڑھنا، دعائیں پڑھنا، قرآن کی تلاوت کرنا۔ روزے رکھ کر وقت نہیں گزارا جاتا تھا بلکہ روزے کو قائم کیا جاتا تھا اپنی زبان سے، اپنی نظروں سے، اپنے کان سے، اپنے ہاتھ اور پیروں سے۔ پھر افطاری کے وقت دسترخوان پر بیٹھ کر اجتماعی دعا کرنا اور پھر افطار کرنا ۔

اسی طرح رات کی اپنی عبادتیں تھی۔ رمضان میں اپنے روح کو سنوارا جاتا تھا مگر گزشتہ 15، 20 برسوں میں اتنی تیزی سے تبدیلی آئی ہے کہ اب روح کو نہیں صرف جسم کو سنوارا جاتا ہے۔ اب سحری ہو یا پھر افطاری اور اس کے درمیان گزرنے والا وقت بس ایک روایت کے طور پر گزارا جانے لگا ہے۔ روزہ رکھ کر گزارنا کیسے ہے ، اس کی الگ داستانیں ہیں اور رہی سہی کسر رمضان ٹرانسمیشن کے ’ششکے‘ پوری کر دیتا ہے۔ ایک طرف عجیب عجیب سی حرکت پر تحفے ملتے ہیں تو دوسری جانب نچا کر تحفے بانٹے جاتے ہیں۔

نہ صرف رمضان بلکہ بڑی عید کو بھی دیکھ لیجیے اس عید کی روح بھی ختم ہو گئی ہے۔ پہلے قربانی کی جاتی تھی ، اللہ کی راہ میں اچھی اور پاک نیت کے ساتھ، مگر اب کچھ لوگوں کے علاوہ قربانی کے اصل مقصد سے سب بے بہرہ ہیں۔ اب قربانی ہوتی ہے سوشل سٹیٹس کے لئے، اب قربانی ہوتی ہے فریج کو بھرنے کے لئے، اب قربانی ہوتی ہے دکھاوے کے لئے۔ قربانی تو ہو جاتی ہے مگر جو سبق اس قربانی میں پوشیدہ تھا ، اس کی تلاش اب کسی کو نہیں، بس قربانی بھی خوب طرح سے منائی جاتی ہے نہ یہ کہ اس سے سبق حاصل ہو۔

یہ چند مثالیں ہیں جو ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ لیکن ہم سمجھنا نہیں چاہتے یا پھر سمجھ آتی ہے تو اس پر عمل نہیں کرنا چاہتے ۔ خدا نے ہمیں خوبصورت تہواروں اور مہینوں سے نوازا ہے مگر اس خوبصورتی کو ہم نے خود نقصان پہنچا دیا ہے۔ جن مہینوں اور دنوں میں روح کو تازگی دینی تھی، ان دنوں کو ہم ضائع کر دیتے ہیں۔ ان خاص دنوں کو ہم جوش و خروش سے مناتے ہیں مگر ہم اپنے روح کو سنوارنا بھول جاتے ہیں۔ ہم نے ان خاص دنوں کو بھی روحانیت سے نکال کر مادیت پرستی کے طرف دھکیل دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *