علی زیدی سے منسوب ویڈیو کا سچ، عمران خان اور مقتدرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم رہنما اور حکومت کے وزیر علی زیدی سے منسوب کی گئی بات چیت سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے۔ علی زیدی کے مطابق یہ بات چیت فیک ہے لیکن اس میں بولنے والے نے جو تحریک انصاف، عمران خان اور حکومت کے بارے تحریک لیبک کے احتجاج کے تناظر میں کہا ہے۔ جس طریقے سے کہا ہے۔ روایتی طور پر بالکل درست ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ حکومت کیا ہے۔ عمران خان کو کون لایا ہے۔ لغویات اور فحش گوئی کا بھی جم کے مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اس وائرل ویڈیو سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے اندر بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے۔ گلی محلوں میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں نے منہ موڑ لیا ہے۔ اب وہ برملا کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ عمران خان اتنا کمزور اور بزدل نکلے گا۔ ہمیں یہ توقع ہرگز نہیں تھی۔

حلقہ احباب میں ایک پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن ہے۔ اب وہ بہت شرمندہ ہے۔ کہتی ہے اب عمران خان کا نام لینا بھی اچھا نہیں لگتا ہے۔ بعض توپی ٹی آئی کے جھنڈے اور ٹوپیاں گھر سے نکال کر چوراہے میں لا کر جلا رہے ہیں۔ عہدے دار تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت سے استعفے دینے کے اعلان کر رہے ہیں۔ خدا لگتی ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی حالت پر افسوس ہوتا ہے۔ سب خواب ہی چکنا چور ہوئے ہیں۔

راولپنڈی کے ایم پی اے تنویر بٹ نے جہانگیر ترین سے ملاقات کر کے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے جس کا مطلب ہے کہ جہانگیر ترین کا قافلہ ترقی کر رہا ہے یعنی عمران خان اب جماعت کے اندر بھی بلیک میل ہوں گے۔ اطلاعات ہیں کہ بلیک میل ہو رہے ہیں۔ جہانگیر ترین کا پلہ دن بدن بھاری ہوتا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی منتشر صفوں میں یہ خیال بھی راسخ ہو رہا ہے کہ مقتدرہ عمران خان سے جان چھڑوا کر جہانگیر ترین کو آگے لا رہی ہے۔ اس لئے جہانگیر کی قربت ہی مفید اور نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔

تحریک انصاف میں مفادپرستی، خوشامد اور مقتدرہ کی بیساکھیوں کے ساتھ چلنے کی روایت کے بانی بھی جہانگیر ترین ہیں۔ جو آج دعویٰ کرتے ہیں کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے والے ہی وہ ہیں۔ اگر ونر ہارسز کو گھیر کر نہ لاتے تو پھر نتائج 2013 والے ہی برآمد ہونے تھے۔

ملکی سیاست دان ماضی سے سبق حاصل کرنے کی بجائے بار بار ایک ہی سوراخ میں ہاتھ دینے کو ترجیح دیتے آئے ہیں۔ عمران خان کی وزرات عظمیٰ سے شاید کچھ سبق حاصل کریں۔ انہیں علی زیدی سے منسوب آڈیو کئی بار سننے کی ضرورت ہے تاکہ عبرت پکڑیں اور عوامی طاقت پر بھروسا کریں بصورت دیگر یہ سفر رائیگاں ہی رہے گا اور طاہر القادری جیسی مایوسی دیکھنا پڑے گی اور ملک سے بھاگ جانے میں ہی بھلائی ہو گی۔ سنا ہے موصوف دیار غیر میں امن و اطمینان سے زندگی کر رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا۔ ملک پر ایک غیر آئینی حکومت تھی اور آئین معطل تھا۔ احتساب کا نعرہ بھی آج ہی کی طرح الاپا جا رہا تھا۔ جب ڈکٹیٹر نے اپنی ڈکٹیٹر شپ کو جمہوری رنگ میں رنگنے کی ناکام کوشش میں مرضی کے انتخابات کا ڈرامہ رچایا تھا اور طاہر القادری قومی اسمبلی میں در آئے تھے۔

واقفان حال بتاتے تھے کہ عوامی تحریک کے کارکنان نے قائد انقلاب سے ایک اجلاس میں سوال کیا کہ ہمارا ایک سیٹ سے کیا ہو گا اور ہم کیا کر سکیں گے۔ موصوف فرمایا کرتے تھے کہ ہزاروں خربوزوں کو کاٹنے کے لئے ایک چاقو ہی کافی ہوتا ہے۔ پھر سب نے دیکھا کہ چاقو اسمبلی چھوڑ کر ہی بھاگ تھا۔ اس ویڈیو کے مطابق پی ٹی آئی کے سارے چاقو کند ہیں بلکہ کند کر دیے گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کند چاقو اسمبلی چھوڑ کر کب بھاگتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *