آل مائٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پھر مجھے ہیری بلڈنگ کی پچھلی سیڑھیوں میں سگریٹ پیتا نظر آیا۔ میں یہاں نماز پڑھنے کے لیے آتا ہوں۔ جونہی اس نے مجھے دیکھا تو ہنستا ہوا گرمجوشی سے میری طرف بڑھا، حال احوال کرنے کے بعد معافی مانگنا شروع ہو گیا۔ کہنے لگا، معذرت تمہاری عبادت کی جگہ میں سگریٹ پیتا ہوں۔ مگر کوشش کرتا ہوں یہ بڑی سی سیڑھی پہ جہاں تم یہ کپڑا (جائے نماز) بچھاتے ہو گندا نہ کروں۔ میں نے جواب میں شکریہ ادا کیا۔ ہیری نیچے سیڑھیوں کی طرف نکل گیا اور میں نماز پڑھنا شروع ہو گیا۔

جب میں نماز پڑھ کے پلٹا تو ہیری نے پھر مجھے روک لیا، اور کہنے لگا یہ تم کیا کرتے ہو۔ میں نے کہا کہ ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس نے کہا کیوں کرتے ہو۔ تھوڑے توقف کے بعد ٹالنے کے لیے میں نے کہہ دیا، کہ ہم ‌اپنی انرجی (روح) کو خالص کرنے کے لیے ایک آل مائٹی انرجی سے کنیکٹ کرتے ہیں۔

ہیری نے کہا، واقعی ایسے ہی جیسے میں موبائل کو چارج کرتا ہوں۔ میں دنیا دار کمینہ اور سامنے ایک ایتھیسٹ کھڑا تھا۔ میرے پاس کوئی لاجک نہیں تھی، اس لیے اثبات میں سر ہلا دیا۔

ہیری نے کہا پھر تو یہ بڑا آسان ہو گیا۔ آپ جتنا زیادہ رابطہ میں ہوں گے اتنی زیادہ روح خالص ہو گی۔ یہ آل مائٹی روح کے اندر تو کل کائنات کی خصوصیات ہوں گی ؟ میں نے کہا جی ہماری پاک کتاب میں اس کی ننانوے خصوصیات ہیں۔ ہیری نے کہا، یہ خصوصیات تو بہت کم ہوں گی ، آل مائٹی انرجی جس نے کائنات بنائی، اسے اتنی خصوصیات دیں تو شاید ہم پوری زندگی لگا کہ ایک خصوصیت بھی مکمل نہ پا سکیں۔ علی تم اپنے آل مائٹی کو بندہ مت سمجھو، اسے آل مائٹی پاور سمجھو، کسی ایک خصوصیت سے اسے سمجھنا شروع کر دو۔ پھر آلمائٹی اسی خصوصیت سے تمہیں ملنا شروع ہو جائے گا۔ میرے دماغ میں اللہ کی ننانوے خصوصیات گھومنا شروع ہو گئی۔

مجھے یوں لگ رہا تھا، آج یہ ایتھیسٹ مکمل اللہ سمجھا کے دم لے گا۔ پھر کہنا شروع ہو گیا، علی تمہیں پتہ ہے، ہماری انرجی کی الیکٹرو میگنٹیک فیلڈ بھی ہوتی ہے۔ ہماری انرجی مختلف شعاعیں نکالتی ہے۔ یہ شعاعیں دوسری انرجیز کے ساتھ مل کے بانڈ بناتیں یا دفع کرتی ہیں۔ آپ اگر اپنے کسی بھی پیارے رشتے کو یاد کریں تو وہ آپ کال کر دیتا ہے، یا پھر ملنے چلا آتا ہے۔ اسی طرح آل مائٹی سے بھی آپ کا جس خصوصیت کے ذریعے رشتہ بن جائے، وہ آل مائٹی اسی خوبی سے آپ کو ملنے چلا آئے گا۔ اس طرح ہمارے رشتے پہ احساس و انرجی پہ مشتمل ہیں۔ جیسے منفی انرجی جسے ہم شیطانی، یا پھر ناری انرجی کہہ لیں۔ اگر ہم زیادہ منفی اعمال میں مصروف ہوں تو پھر ہمارا رشتہ منفی انرجی سے جڑ جاتا ہے۔

اس نے کہا یہ دنیا، کائنات بہت معمولی چیز ہے۔ آپ کا اگر کنیکشن مضبوط ہو تو آپ کی انرجی سفر کر سکتی ہے۔ جیسے آپ کہیں جانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں میرا دل ہے کہ مکہ، مدینہ جاؤں۔ تو ہیری نے کہا بس مکہ مدینے میں جو تمہارا پیارا ہے، اس کی انرجی سے کنکشن بناؤ۔ بالکل بجلی کی طرح تم کبھی بھی مکہ، مدینہ جا سکتے ہو۔

ہیری۔ تمہاری پاک کتاب میں یہ انرجی کے بارے میں آل مائٹی کیا کہتا ہے۔
میں نے جواب دیا، اللہ کریم فرماتا ہے، ہم نے انسان میں اپنی روح پھونکی۔

ہیری نے پرجوش انداز میں ایک قہقہہ لگایا۔ اور کہنے لگا تم کتنے خوش قسمت ہو۔ تمہارے پاس ایک ذمہ دار آل مائٹی اللہ ہے۔ تم جتنی بھی تکلیف/پریشر میں ہو، تم اپنی ساری ذمہ داری اس کے حوالے کر کے پرسکون ہو جاتے ہو۔ ایمان کے تقاضے کے مطابق وہ تمہاری ساری تکلیفیں دور کرتا ہے، ذہنی سکون دیتا ہے۔ بیشک تمہارا آل مائٹی ہر مشکل میں آسانی دینے والا ہے۔ ہم ایتھیسٹ لوگ تو ساری ذمہ داریاں لے کے خود کشیاں تک کر لیتے ہیں ‌۔ مجھے سورہ الم نشرح کی آیت یاد آنی شروع ہو گئی (ان مع العسر یسریٰ) ۔ میں نے ہیری کو بتایا میرا اللہ کہتا ہے کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔

پھر ہیری نے کہا، کیا تم خواب پہ یقین رکھتے ہو۔ مجھے تذبذب کا شکار دیکھ کے کہنا شروع ہوا۔ یہ ساری کائنات خوابوں پہ مشتمل ہے۔ جو خواب نہیں دیکھتا، وہ کبھی زندگی کا مقصد نہیں پاتا۔ ہم خواب جاگتے / سوتے دیکھتے ہی‍ں۔ چوبیس گھنٹوں میں ہم اس کائنات کی دو تہوں میں جی رہے ہیں۔ ایک میں جسم کی ضرورت ہوتی اور وہ جاگتی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ ایک کے لیے انرجی چاہیے ہوتی ہے ، وہ بند آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ مجھے آقا ﷺ کا معراج شریف یاد آ گیا، جب سرور کائنات ﷺ  نے رب کائنات سے ملاقات کی۔

ایک ہی جست میں کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھتا تھا میں

آج میں، ہیری سے آل مائٹی انرجی سمجھ رہا تھا۔ اس دوران پتہ نہیں کیوں بے اختیار میں دونوں ہاتھوں سے ہیری کے ہاتھوں کو پکڑ کے عقیدت و احترام سے چوما، اور ہیری کا شکریہ ادا کیا۔ اللہ ہم سب کو اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *