سائنس کی دنیا سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


1۔ ایک نئی تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ جن حاملہ ماؤں کو ویکسین لگ چکی ہو وہ بچے کو دوران حمل اور دودھ پلانے کے دوران کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت اینٹی باڈیز کی شکل میں منتقل کر سکتی ہیں۔

2۔ ایک تحقیق کے دوران یہ ظاہر ہوا ہے کہ آکٹوپس کی نیند بھی انسانوں کی طرح دو مراحل یعنی فعال اور خاموش حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ سائنس دانوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شاید آکٹوپس بھی انسانوں کی طرح خواب دیکھ سکتے ہیں۔

3۔ لکڑی سے بنے ہوئے نئی طرز کے فلٹرپانی سے 99 فیصد تک بیکٹیریا کو کامیابی سے علیحدہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح پانی صاف کرنے کے عمل کو مزید آسان اور ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔

4۔ افریقی ہاتھی کی آبادی پچھلی کچھ دہائیوں سے خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ افریقی ہاتھیوں کی دونوں انواع اب معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

5۔ ایک ”سپرمیسو“ بلیک ہول کی حیران کن تصویر کے جائزے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس بلیک ہول سے پرسرار مگر انتہائی طاقتور فوارے مادے کو ہزاروں نوری سال کی دوری تک خلا میں اچھال رہے ہیں۔

6۔ انتہائی خطرناک دماغی رسولیوں کے خلاف ابتدائی جائزوں میں اپنی نوعیت کی پہلی ویکسین کو محفوظ اور کارآمد قرار دیا گیا ہے۔ یہ ویکسین ان توسیع پذیر رسولیوں کے خلاف قوت مدافعت کو بڑھا دیتی ہے۔

7۔ اگر نرسریوں میں گرین ہاؤس کے ساتھ نیم شفاف سولر پینلز استعمال کیے جائیں تو پودوں کی بڑھوتری کو متاثر کیے بغیر صاف توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

8۔ سائنس دانوں نے جنیٹک انجینئرنگ کی مدد سے تیار کردہ انسانی مدافعتی خلیوں کو ”اینٹی کینسر“ سگنلز ڈیلیور کرنے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے کینسر کی بڑھوتری اور توسیع پذیری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

9۔ سورج کی روشنی کورونا وائرس کو پہلے سے قائم کردہ اندازوں سے بہت جلد ختم کر سکتی ہے۔ ایک تجربے میں آدھے گھنٹے میں سورج کی روشنی نے 90 فیصد وائرس کو ختم کر دیا تھا۔

10۔ سائنس دانوں نے پہلی مرتبہ ہوا سے جینیاتی مادہ ”ڈی این اے“ کا سمپل لینے کا طریقہ وضع کر لیا ہے۔ اس نئے طریقے سے قانونی شواہد اور ہوا کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا پتہ چلانے کے لیے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔

11۔ 66 ملین سال پہلے جس شہابیے کے زمین سے ٹکرانے سے ڈائنوسارز کا خاتمہ ہوا تھا ، اسی کی وجہ سے ایمازون کے برساتی جنگلات بھی پیدا ہوئے تھے۔

12۔ گوشت خور ڈائنوسار کی ایک نئئی نوع دریافت ہوئی ہے جو 80 ملین سال پہلے آج کے ارجنٹینا میں سکونت پذیر تھا۔

13۔ سائنس دانوں نے ”اینٹی میٹر یا ضد مادہ“ کو پہلی دفعہ لیزر کی مدد سے سمجھنے کا آغاز کیا ہے جو ہماری حقیقت کے بنیادی خد و خال تک راہنمائی کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

14۔ ایک تحقیق نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے ایمازون کا خطہ اب اس سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز پیدا کرتا ہے جتنی جذب کرتا ہے۔

15۔ مصنوعی طور پر بنائے گئے شش جہتی ہیرے قدرتی طور پر پائے جانے والے چوکور ہیروں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *