1953 کے پنجاب فسادات سے کالعدم تحریک لبیک تک: کیا پاکستان میں کچھ بدلا ہے؟

فاروق عادل - مصنف، کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’وہ قانون کو ہاتھ میں لے رہے تھے۔۔۔‘ ’اُنھوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر دیا تھا۔۔۔‘ ’وہ قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔۔۔‘

محض ایک ہفتے قبل یعنی 14 اپریل کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے تحریک لبیک پاکستان کے حوالے سے اس نوعیت کی فرد جرم سُنائی اور اعلان کیا کہ حکومت پاکستان نے اس تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وہاں پریس کانفرنس میں موجود ایک صحافی نے یہ اعلان سُنا اور سوال کیا کہ ’آپ نے اس مذہبی گروہ کے بارے میں آج جو کچھ کہا، کیا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی میں آپ نے اور حکمراں جماعت (تحریک انصاف) نے اس جماعت کی جو حمایت کی تھی، وہ غلط تھی؟‘

یہ سوال سُن کر وفاقی وزیر داخلہ نے جو کچھ کہا، اس کا اپنا ایک تناظر ہے لیکن یہ ایک ایسا سوال تھا جو پاکستان کے حالات سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کو ماضی کے ایک ایسے ہی واقعے کی یاد دلا دیتا ہے جس کی ان واقعات سے گہری مماثلت ہے اور جو متواتر اس وقت رونما ہو رہے تھے جب سے یہ مذہبی گروہ (کالعدم تحریک لبیک) وجود میں آیا ہے۔

سنہ 2017 میں خادم حسین رضوی صاحب کی قیادت میں تحریک لبیک نے جب راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے پُل فیض آباد پر دھرنا دیا تھا تو عمران خان نے کہا تھا کہ اُن کا دل یہ چاہتا ہے کہ وہ خود دھرنے میں جا کر شریک ہو جائیں۔

اسی طرح اس وقت حزب اختلاف کے رُکن قومی اسمبلی اور موجودہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ حکومت تحریک لبیک کے مطالبات تسلیم کر لے ورنہ اُس کی لوٹی ہوئی دولت اس کے کسی کام نہ آئے گی اور عوام اس فرسودہ نظام کو آگ لگا دیں گے۔

ان چند واقعات اور بیانات کو ذہن میں رکھ کر اب ایک مکالمے پر غور کیجیے:

عدالت: کیا ہفتے میں ایک بار آپ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز دولتانہ کے گھر جا کر ان سے ملا کرتے تھے؟

اختر علی خان: جی یہ درست ہے۔

عدالت: کیا آپ نے لاہور کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر (جنرل اعظم خان) کو بتایا تھا کہ ممتاز دولتانہ چاہتے تھے کہ تحریک کی حمایت کی جائے۔

اختر علی خان: یہ درست ہے۔ میں نے انھیں (مارشل لا ایڈمنسٹریٹر) یہ بیان دیا تھا کہ وہ اس تحریک میں دلچسپی رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس تحریک کی حمایت کی جائے۔

عدالت: کیا آپ نے انھیں ( مارشل لا ایڈمنسٹریٹر) یہ بھی بتایا تھا کہ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کو ان کے منصب سے علیحدہ کرانے کے لیے تحریک ممتاز دولتانہ کی خواہش پر شروع کی گئی تھی؟

اختر علی خان: جی یہ درست ہے، میں نے انھیں یہ بھی تحریری طور پر بتایا تھا۔

عدالت: کیا یہ درست ہے کہ میاں ممتاز دولتانہ نے تحریک شروع ہونے سے پہلے اپنے مکان پر ایک اجلاس بلایا اور تحریک چلانے کے لیے کہا؟

اختر علی خان: جی دولتانہ نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ اگر ہم تحریک شروع کرتے ہیں تو ہمیں اُن کی حمایت حاصل ہو گی۔ انھوں نے یہ ہدایت بھی کی تھی کہ تحریک کا رخ لاہور (صوبائی حکومت) کے بجائے کراچی (وفاقی حکومت) کی طرف ہونا چاہیے۔

عدالت: کیا وزیر اعلیٰ لاہور میں غندہ گردی کے ذمہ دار تھے؟

اختر علی خان: وزیر اعلیٰ پنجاب غنڈہ گردی کے ذمہ دار تھے۔

عدالت: کیا وزیر اعلیٰ نے (غنڈہ گردہ کے لیے) جیل سے غنڈوں کو رہا کیا تھا؟

اختر علی خان: انھوں نے ایسا کیا تھا۔

روزنامہ ’زمیندار‘ کے ایڈیٹر اور تحریک ختم نبوت کے اہم رہنما مولانا اختر علی خان اور تحقیقاتی عدالت کے درمیان یہ طویل مکالمہ فسادات پنجاب 1953 کے تحقیقاتی کمیشن میں ہوا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد منیر اس کمیشن کے سربراہ اور ایوب خان کی آمریت کے زمانے میں ذہانت اور ظرافت سے بھرپور ذومعنی تبصروں کے حوالے سے لافانی شہرت رکھنے والے جسٹس ایم آر کیانی اس کمیشن کے رُکن تھے۔

نسبتاً طویل مکالمے کا یہ حصہ ملک میں پہلے مارشل لا کا باعث بننے والی ایک پُر تشدد تحریک کے پس منظر، اس کے مختلف کرداروں، اُن کے مقاصد اور طریقہ واردات پر ہی روشنی نہیں ڈالتا بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ریاست و سیاست سے وابستگی رکھنے والے عناصر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کس حد تک چلے جاتے ہیں۔

اس مکالمے کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سنہ 1953 سے سنہ 2017 یا اس کے بھی بعد یعنی سنہ 2021 تک بھی کسی حد تک یہ روایت پاکستان میں کسی نہ کسی طرح برقرار ہے۔

تحریک لبیک نے وجود میں آنے کے بعد جب سڑکوں پر آ کر دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کی سیاست شروع کی تو اس رجحان کے بارے میں شروع سے ہی تشویش پیدا ہو گئی تھی کیونکہ اس جماعت نے روز اول سے ہی تشدد کا راستہ اختیار کیا، ریاست کی حاکمیت کو چیلنج کیا اور اس حاکمیت کو یقینی بنانے والے اداروں یعنی پولیس کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے کئی افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی۔

اسی طرح سرکاری اور نجی املاک کو بھی بے انتہا دیدہ دلیری سے نقصان پہنچایا گیا۔ تحریک لبیک کی طرف سے تشدد کی یہ مذموم روایت اس پر پابندی کے اعلان اور اس کے بعد تک جاری رہی اور رپورٹس کے مطابق بلآخر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے چند مطالبات مان لیے ہیں۔

تشدد کے ان مظاہروں میں جارح مظاہرین نے جس دیدہ دلیری اور بے رحمی سے ریاست کی رٹ کے سب سے بڑے مظہر یعنی پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، وہ عبرت کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ مظاہرین کے تشدد سے بچنے کے لیے پولیس کے اہلکار جس بے بسی سے کوئی گوشہِ عافیت تلاش کرتے دیکھے گئے، وہ بجائے خود ریاست کے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحریک لبیک کو یہ حوصلہ کیسے ملا کہ وہ ریاست کو چیلنج کرے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اپنے قیام کے بعد سال بھر پہلے تک اس مذہبی گروہ کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کے جتنے جرائم بھی ہوئے، ان کے ذمہ داروں سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی بلکہ کچھ ایسے معاہدوں کے تحت جن کی قانونی حیثیت کے بارے میں مسلسل سوال اٹھتے رہے ہیں، مقدمات کا یا تو اندراج ہی نہیں کیا گیا یا یہ مقدمات ختم کر دیے گئے۔ اس طرح تشدد کے ذریعے ریاست کو جھکنے پر مجبور کرنے والے گروہ کے حوصلے بڑھتے چلے گئے۔

تحریک لبیک کے جھنڈے تلے کی جانے والی تشدد کی کارروائیوں ہی کی طرح سنہ 1953 میں مجلس احرار کے زیر اہتمام چلائی جانے والی تحریک کا مزاج اور اس تحریک کی جانب سرکاری انتظامیہ کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

موجودہ دور میں تحریک لبیک کے بانی راہنما علامہ خادم حسین رضوی کی تقریروں کا بڑا شہرہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ مجمعے کو بیک وقت رُلا اور ہنسا دینے پر قادر تھے۔ اس معاملے میں مجلس احرار تحریک لبیک پر فوقیت رکھتی تھی کیونکہ اس جماعت میں شعلہ بیاں مقرروں ایک بھاری تعداد موجود تھی جو بیک وقت ملک کے مختلف حصوں میں منعقد کیے جانے والے جلسوں سے خطاب کر کے رائے عامہ کو اپنا ہم نوا بنانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

فسادات پنجاب کی تحقیقاتی رپورٹ میں اس زمانے میں ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر پنجاب کے مختلف اہم شہروں میں کیے جانے والے جلسوں کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان سے بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا ہوئی۔

رپورٹ میں کوئٹہ میں مسلح افواج کے ایک میجر کے قتل کا واقعہ بھی درج ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کی گاڑی ایک جلسہ گاہ کے قریب خراب ہو گئی اور اہل جلسہ نے اس پر حملہ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا کیونکہ انھیں شبہ تھا کہ ان کا تعلق کسی اقلیتی فرقے سے ہے۔

تشدد کی تبلیغ کرنے والی ان تقریروں کی وجہ سے اس زمانے میں عام مسلمانوں کی ذہنی کیفیت کیسی ہو چکی تھی، رپورٹ ایک واقعہ بیان کر کے اسے پردہ اٹھاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں کسی مقام پر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کو اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد پر تشدد کرنے سے روکا تو اس نے کہا: ’مجھے مت روکو، میں ایک کافر کو قتل کر رہا ہوں۔‘

ان واقعات کے دوران مختلف عبادت گاہوں، گھروں اور کاروباری مقامات کو بڑی دیدہ دلیری سے جلا دیا گیا لیکن ان کے خلاف بھی موجودہ دور کی طرح قانون حرکت میں نہ آیا۔ رپورٹ میں اس قسم کے کئی واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

تشدد کے ان واقعات کی اطلاعات وفاقی حکومت تک پہنچ رہی تھیں اور وزیر خواجہ ناظم الدین کی ہدایت پر صوبائی حکومت سے اس کی رپورٹ بھی طلب کی جاتی تھی جس کا جواب عام طور نہیں دیا جاتا تھا یا توہین آمیز رویہ اختیار کیا جاتا تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے سرگودھا میں مجلس احرار کے ایک جلسے کے بارے میں تفصیلات طلب کیں جس میں عوام کو تشدد پر اُکسایا گیا تھا۔ اس کے جواب میں انتہائی معیوب طریقہ اختیار کیا گیا۔

اس سلسلے میں انٹیلیجنس کے ایک اعلیٰ افسر انور علی نے لکھا کہ مرکزی حکومت ہر قسم کے معاملات میں رپورٹیں طلب کر لیتی ہے جس سے کام میں غیر ضروری طور پر اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر وفاق اس طرح کی رپورٹیں طلب کرتا رہا تو اس سے عوام کی غیر ضروری حوصلہ افزائی ہوگی اور اس سے صوبائی حکومت کو نظر انداز کر کے وفاقی حکومت سے مطالبات کرنے کا رجحان پیدا ہو گا۔

سنہ 1953 میں تشدد کے اس سلسلے کے خلاف قانون حرکت میں کیوں نہ آیا، اسی رپورٹ کے مطابق اس کی ایک دلچسپ وجہ سامنے آئی۔

وزارت قانون کے ایک مشیر نے اس سلسلے میں طلب کی گئی ایک وضاحت کے جواب میں لکھا کہ اگر ان (احراریوں) کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی یا مقدمات بنائے گئے تو اس کے نتیجے میں یہ عوام کی نگاہ میں مظلوم (رپورٹ میں شہادت کا مرتبہ لکھا ہے) کا درجہ حاصل کر لیں گے لہٰذا میں ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا مشورہ نہیں دیتا۔

مرکزی حکومت کی طرف سے طلب کی گئی ایک رپورٹ کے جواب میں حکومت پنجاب نے لکھا کہ وہ نہیں سمجھتی کہ صوبے میں تشدد کے فروغ کا کوئی خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی توقع ظاہر کی گئی کہ مجلس احرار جلد حکمراں جماعت کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو جائے گی جس کے نتیجے میں حالات کی اصلاح خود بخود ہو جائے گی۔

حکومت پنجاب کے اس طرز عمل پر تحقیقاتی عدالت کے ریمارکس نہایت سخت تھے۔

انھوں نے پنجاب کی سول انتظامیہ اور پولیس کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ وہ مردہ ہو چکے تھے۔ ججوں نے لکھا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ حکومت کی طرف سے انھیں قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی کی اجازت نہ تھی۔ ججوں نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز دولتانہ کو بھی ان الفاظ کے ساتھ اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ مصلحتوں کے اسیر ہو چکے تھے۔

ججوں نے لکھا ہے کہ حالات کو خراب کرنے کے لیے حکومت پنجاب نے اخبارات کی خدمات بھی حاصل کیں اور اس مقصد کے لیے تعلیم بالغان کے لیے مخصوص فنڈ استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے آخری پیرے کا ایک جملہ چونکا دینے والا ہے: ’ہمیں یقین واثق ہے کہ اگر احرار کے مسئلے کو سیاسی مصالح سے الگ ہو کر محض قانون و انتظام کا مسئلہ قرار دیا جاتا تو صرف ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایک سپرینٹینڈنٹ پولیس ان کے تدارک کے لیے کافی تھے۔‘

کیا ایسا نہیں لگتا کہ یہی جملہ 2017 سے اب تک کے حالات کی کہانی بھی بیان کرتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •