پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن۔ ٹریننگ سینٹر میں پہلا دن (دوسرا حصہ)۔

میں بھی اس لائن میں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ مجھ سے پہلے جو لڑکے بال کٹوا کر نکل رہے تھے، ان کی حالت دیدنی تھی۔ ہر لڑکا جب تک نیوی کے حجام کے پاس تک نہیں پہنچا تھا بہت خوش تھا لیکن جیسے ہی حجام کی شاپ سے باہر آتے ، شیشے میں چہرہ دیکھ کر آتے اور اپنے منہ کو چھپاتے پھرتے۔ کئی بے چارے تو رو پڑے اور کئی لڑکوں کی آنکھیں نم تھیں۔ اس کی وجہ حجام نے جو سر کے بالوں اور مونچھوں کا حال کیا تھا، یہ دیکھ کر ہر لڑکا پریشان ہوا۔

ایک ہئیر کٹ فوجی کہلاتا ہے۔ یہاں تو فوجی کٹ سے بڑھ کر رنگروٹ کٹ تھا۔ سر کے اوپر تھوڑے سے بال چھوڑ کر باقی تمام بال صاف اور مونچھیں تو ایسے غائب کہ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اس طرح کے اسٹائل کی ہیئر کٹنگ کے بعد ہر لڑکے کا چہرہ ضرور لٹک گیا۔ دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد باری آئی تو میں بھی ان لڑکوں میں شامل ہو گیا جو بال کٹنے کے بعد روئے۔

حجام کی شاپ کے ساتھ ہی موچی کی شاپ بھی موجود تھی۔ موچی کی شاپ پر جوتوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ موچی شاپ کے باہر جوتوں کی لائن کے ساتھ لڑکے بھی موجود تھےاپنے جوتوں کی حفاظت کے لئے۔ اس وقت تک دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔ غسل کر کے بیرک میں واپس پہنچا تو معلوم ہوا کی چیف صاحبان بھی کھانے کے لئے جا چکے ہیں۔ میں نے بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ میس کا رخ کیا۔ جس لڑکے کی ڈیوٹی تھی وہ گئیلی سے کھانا لے کر آ گیا۔

اس نے تمام ساتھیوں میں کھانا تقسیم کیا۔ روٹی کو اچھی طرح جھاڑ کو کھانا کھایا۔ روٹی پر خشک آٹا کافی مقدار میں لگا ہوتا تھا ، یہ تندورچی کے پکانے کا انداز تھا کہ خشک آٹا زیادہ لگاتا تھا پکانے کے بعد ۔ فوج کی میس کو لنگر کہتے ہیں اور وہاں کی دال بہت ہی مزیدار تھی ، لیکن نیوی میں کھانا پکانے کا انداز تو ایک جیسا ہی تھا لیکن نیوی کے مینیو میں چھوٹے گوشت کی مقدار زیادہ تھی۔ کھانا کھانے کے بعد اپنی پلیٹ اور مگ کو دھو کر اپنی بیرک میں واپس آ گئے۔

اپنے لاکر کو دوبارہ سے صاف کیا اس کے اندر خاکی پیپر لگانے کے لئے کینٹین سے پیپر اور گم خرید کر لایا۔ پیپر کو کاٹ کر گم سے لگایا اور لاکر کو اندر سے ڈیکوریٹ کیا۔ لاکر کو سجانے کی ایک ترتیب بتائی گئی تھی ، اس کے مطابق ترتیب سے ہر چیز کو رکھا۔ چارپائی دو منزلہ تھی ایک نیچے اور دوسری اوپر۔ میری چارپائی اوپر والی تھی اور نیچے والی چارپائی محمد صدیق بٹ کی تھی جو خالد ڈویژن میں میرا پہلا دوست بنا اور اس کے ساتھ تمام سروس دوستی بہت گہری رہی۔ صدیق بٹ کا تعلق میرپورخاص سے تھا۔ عید کی چھٹیوں میں اس کے گھر بھی چلے جایا کرتے اور اس کے والد صاحب سے عیدی بھی وصول کیا کرتے۔ صدیق بٹ سے گفتگو شروع ہوئی ، ایک دوسرے کا تعارف ہوا۔

میں نے اپنے بوٹ لیے اور موچی کی شاپ کے سامنے والی لائن میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس دوران چائے کا ٹائم ہو گیا۔ میں چوں کہ بوٹ میں نعل لگوانے کے لئے لائن میں تھا ، اس لئے چائے کی طرف دھیان نہیں دیا ، لائن میں کھڑا رہا۔ تقریباً تین گھنٹے کے انتظار کے بعد باری آئی۔ بوٹ کی ایڑی پر نعل اور اگلے حصے پر لوہے کے چھوٹے ٹکڑے جن کی شکل کینو کی ایک قاش جیسی تھی۔ نعل و قاشیں لگنے کے بعد بوٹ مضبوط ہو گئے۔ بوٹ لے کر بیرک میں واپس آیا۔

سہ پہر چار بجے سپورٹس کا ٹائم تھا جو لڑکے پہلے آئے ہوئے تھے ، ان میں سے کچھ مختلف کھیلوں میں شرکت کرنے کے لئے چلے گئے اور باقی کراس کنٹری ( چھ میل کی دوڑ) کے لئے چلے گئے۔ گیمز جو کھیلی جا رہی تھیں۔ ان کے نام کچھ اس طرح ہیں۔ ہاکی، فٹبال، والی بال، باسکٹ بال، باکسنگ، کراٹے، بیڈ منٹن، ٹیبل ٹینس، جمناسٹک اور سوئمنگ اپنی اپنی پسند کی جو کھیل کھیلنی آتی ادھر لڑکے چلے جاتے اور فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر جو اس کھیل کو سپروائز کر رہے ہوتے، ان کے پاس اپنا نام درج کراتے اور کھیل میں شامل ہو جاتے۔ پہلے دن تو کھیل کے وقت میں جوتے مرمت کرواتے کرواتے شام ہو گئی۔

غروب آفتاب کے فوراً بعد شام کے کھانے کا ٹائم شروع ہو جاتا۔ شام کے کھانے کے بعد کوئی انٹرٹینمینٹ فلم دیکھنا تھی۔ ٹریننگ سینٹر میں ایک عدد سینما بھی تھا جس میں روزانہ ایک فلم دکھائی جاتی۔ جس کی ٹکٹ صرف ایک روپیہ تھی۔ ان دنوں ایک ہی فلم روزانہ چل رہی تھی جو کہ شپ پر پہلے دن کے متعلق تھی تاکہ ہر نیا آنے والا سیلر اس فلم کو دیکھ لے اور شپ اور نیوی کی سروس سے متاثر ہو جائے۔

پہلے دن کی بھرپور مصروفیت کے بعد تھکاوٹ تھی ، اس لئے ریکریشن روم جہاں ایک عدد ٹی وی، دو عدد ٹیبل ٹینس اور دو عدد کیرم بورڈز تھیں اور کچھ لڑکے ٹی وی دیکھ اور کچھ کھیل رہے تھے۔ میں نے بھی کچھ وقت وہاں گزارا اور بیرک میں آ گیا۔ ایک بات جو بتانا بھول گئی تھی کہ کٹ ایشو کے وقت شلوار قمیض ایک ہی رنگ گرے رنگ کے ایشو ہوئے تھے۔ لباس کے قواعد کچھ اس طرح کے تھے کہ صبح کی پی ٹی کے وقت نیکر بنیان، دن کے وقت یونیفارم، دوپہر کے وقت شلوار قمیض، کھیلوں کے وقت نیکر بنیان، شام اور رات کی ڈیوٹی کے وقت گرے یونیفارم اور آف ٹائم میں شلوار قمیض اور اگر فلم دیکھنی ہے تو گرے یونیفارم پہننا لازمی تھا۔ تا کہ انڈر ٹریننگ اور سینئر کا فرق قائم رہے۔ سویلین لباس استعمال کرنے کی قطعی اجازت نہیں تھی۔

رات کے ساڑھے نو بجے لائٹس بند کر دینا لازم ہے۔ اس وقت کے لئے پائپ ڈاؤن کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ بیرک میں اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ تعارف ہوا۔ نئے دوست بنے۔ جب ساڑھے نو بجے تو پائپ ڈاؤن ہوا تو ہم کچھ دوست بیرک کے ہال سے باہر آ گئے اور مزید گپ شپ جاری رہی۔ تقریباً دس بجے تک بات چیت کرتے رہے اور پھر ہم سب سونے کے لئے اپنی اپنی چارپائیوں کی طرف چلے گئے۔

(جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words