EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انگور کا رس اور نیم کا نچڑا پانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھ سے کوئی کہے کہ میں سب سے دردناک تصویر پینٹ کرنا چاہتا ہوں۔ جس میں اقتدار، سرمایے، سماج، انصاف اور تقدیر کی ساری شقاوتیں یکجا مل جائیں۔ میں بلا چوں و چراں اسے کچے مکان کے اس احاطے میں لے جاؤں گا جہاں وہ معمر ماں پچاس ہزار روپے کی گڈی ہاتھ میں لیے بیٹھی ہے۔ ان پیسوں کا وہ کیا کرنے والی ہے یہ ذرا بعد میں۔

سب سے پہلا وار اس خاتون پر اس کی تقدیر کا تھا جب اس کا شوہر فوت ہو چکا۔

دوسرا کھیل سرمائے کی طاقت نے کھیلا۔ بڑا بیٹا مزدوری پر ٹرک چلا رہا تھا۔ ایک دن ٹرک منشیات کی سمگلنگ میں پکڑا گیا۔ اصل سمگلر سامنے آیا نہیں۔ ٹرک مالک نے اوپر ہی اوپر ذمہ داری ڈرائیور پر ڈلوا کر گاڑی چھڑا لی اور ڈرائیور کو سالہا سال قید کی سزا ہو گئی۔

ماں، دو بہنیں اور ایک چھوٹے بھائی کی کفالت کے لیے منجھلا بیٹا رہ گیا۔ اس بار سماج نے اپنے حصے کا تماشا دکھایا۔ بیٹا خود منشیات میں مبتلا ہو کر نالے اور فٹ پاتھ کی نذر ہو گیا۔ ماں اس کا چہرہ دیکھنے کو ترس گئی۔ منشیات کا علاج کرنے والے ایک ادارے کے افراد اسے اٹھا کر  لے گئے۔ علاج چلتا رہا۔ ماں ملاقات کرنے گئی۔ سیٹھوں نے کہا ہم چھ مہینے کا علاج خود کرتے ہیں بقیہ کے لیے فیس دینی ہو گی۔ وہ بیوہ ماں فیس کہاں سے دیتی کہ تین چھوٹے بچے اس کے گرد بھوک سے بلبلا رہے تھے۔ بعد میں وہ ادارہ ہی بند ہو گیا۔

گھر میں مرد ایک ہی دس بارہ سال کا چھوٹا بیٹا رہ گیا۔ اسے مزدوری میں جھونک دیا۔ مگر اس کے کمزور ہاتھوں سے صرف آٹا ہی پورا ہو سکتا تھا۔ سو سالن، چائے، دودھ، مکھن، انڈے اور عید کے نئے جوڑوں کی عیاشیاں اس گھر پر حرام ہو گئیں۔ بس اتنی ہی حلال رہیں جتنی کہ اڑوس پڑوس سے تعاون میں کچھ ملتا رہا۔

ماں بڑے بیٹے سے ملنے جیل بھی جاتی رہی۔ پر وہ بہت دور اندرون سندھ میں کہیں ہے۔ اب کسی افسر نے اس کی بیوگی پر ”رحم“ کھا کر صرف پچاس ہزار روپے مانگے ہیں اور وعدہ کیا ہے کہ اس کے بیٹے کو سندھ سے بلوچستان کی کسی جیل شفٹ کر دیا جائے گا جہاں ماں کو ملنے میں آسانی رہے گی۔

مائی پچھلے کچھ مہینوں سے مانگ مانگ کر ہزار پانچ سو روپے جوڑ رہی ہے اور اب اس کے پچاس ہزار کی رقم جمع ہو چکی ہے۔ یہ گڈی وہ کسی صاحب کے چرنوں میں رکھے گی اور اس کا وعدہ ہے کہ بیٹا بلوچستان شفٹ ہو جائے گا۔

سوچتا ہوں کہ ہمارے گرد کتنے دکھ بکھرے پڑے ہیں۔ دکھوں کی کتنی کرخت اور بھیانک شکلیں ہیں۔ کوئٹہ کی شدید سردیوں کی کتنی برفانی راتیں ایسی گزری ہوں گی، جب خاتون بھوک سے بلکتے ننھے بچوں کو رام کرنے کے جتن کرتی رہی ہو گی، پھر کسی نالے کسی فٹ پاتھ پر سردی سے ٹھٹھرتے نشے میں دھت منجھلے بیٹے کو یاد کرتے اس کا دل بیٹھ جاتا ہو گا۔ پھر جیل میں قید جوان بیٹے کی یاد آتی ہوگی کہ اس پر آج کیا بیتی ہو گی۔ اور پھر وہ کچے مکان کے دالان میں پڑی برف کی موٹی موٹی تہوں کو کمرے کے چھوٹے سے دریچے سے دیکھتے دیکھتے اس آسمان کو بھی یاد کرتی ہو گی جب وہ تنا تھا تو اس کے گرد دکھوں کے اتنے خاردار احاطے نہ تھے۔ یا کاش آج ہوتا تو یہ سارے بوجھ اپنے سر اٹھا کر اسے اتنی ذمہ داریوں تلے دبا ہوا نہ چھوڑتا۔

میں سوچتا ہوں ہم نے کتنے مصنوعی دکھ پالے ہوئے ہیں۔ ایک نوجوان کہہ رہا تھا میرا ایک دوست کہتا ہے میں خودکشی کرنا چاہتا ہوں میرے حالات انتہائی خراب ہیں۔ میں اس حالت میں جینا نہیں چاہتا۔ بھلا کیوں؟ خودکشی کی وجہ جانیے بڑی دلچسپ ہے۔

” کیوں کہ میرے سارے دوست صبح کالج آتے ہوئے اپنی گاڑی ڈرائیو کر کے آتے ہیں اور میں اپنے ابو کی گاڑی میں آتا ہوں“ ۔

ہنسا جائے کہ رویا جائے۔ کہاں جا رہے ہیں ہم؟ ہم نے آسائشوں اور خواہشات کی کون سی منزلیں سر کرنی ہیں؟ آخر ایسے ہدف ہم کیوں رکھ لیتے ہیں اپنے آگے۔

کیسے آرٹیفیشل اور شاعرانہ سے دکھ ہیں ہمارے۔ جگجیت جی کی آواز میں کوئی غزل لہراتی ہے، سامنے مجمع ہائے ہائے کرنے لگتا ہے۔ سامنے بیٹھے لوگوں کی اکثریت بھی اونچی کلاس کی ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر موسم انہوں نے گاڑی اور مکان کے شیشے کے پیچھے سے ہی دیکھا ہے۔ کیمرہ ایک چہرے پر مرتکز ہوتا ہے۔ چہرے کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔

آپ کیا سمجھتے ہیں؟ یہ آنسو اس آنسو کے ہم پلہ ہیں جو اس برفانی رات کو اس بیوہ مائی کے آنکھوں میں لہرائے تھے؟

کتنے شقی لہجے اور کتنے کرخت لمحے ان آنسوؤں کے پیچھے تھے، اور کتنے لطیف جذبات اس آنسو کے پیچھے کار فرما ہیں۔ یہ آنسو بڑے نرم، گداز، سرور آگیں اور خواب آور ہیں۔

ان آنسوؤں کی تلخی حلق میں ہی نہیں محسوس ہوتی، جگر تک اترتی ہے۔ خواب چھین لیتی ہے۔ دل و دماغ میں پھر کوئی سکت نہیں رہتی کہ کبھی کوئی روح افزا قہقہہ لگا سکے۔

یہاں جگجیت کی آواز، غزل کا سحر اور دل میں اترتے سر، اس پر یہ لذت آفریں آنسو۔ کیا کیا عیاشیوں کے ساماں جمع ہیں۔
بھلا انگور کا رس اور نیم کا نچڑا پانی بھی ذائقے میں برابر ہو سکتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے