کتابوں کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اسلامی لیبر کوڈ

کچھ عرصہ قبل افتخار احمد اور اصغر جمیل کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب ”اسلامی لیبر کوڈ“ موصول ہوئی تو قدرے حیرت ہوئی کہ کچھ لوگ جذباتیت سے ہٹ کر پاکستان میں بھی ایسے موضوعات پر تحقیق و تصنیف میں مصروف ہیں۔ مصنفین کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک اعشاریہ آٹھ بلین ہے یعنی دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ایشیائی اور افریقی ممالک میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 69.4 فی صد ہے یعنی مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا ستائیس فی صد حصہ ان ممالک میں رہتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین فی صد ہے۔ دنیا میں مسلم اکثریت والے ستاون ممالک ہیں جن میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ یہ سب OIC اسلامی تنظیم برائے تعاون کے رکن ہیں جس کا قیام 1969 میں عمل میں آیا تھا۔

ستاون مسلم اکثریت والے ممالک کے آئینوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے چھبیس ممالک نے اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا ہواہے۔ ان میں سے 14 ممالک ایسے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے قوانین کا ماخذ اسلام ہے۔ لیکن ان قوانین میں لیبر اور ایمپلائمنٹ کا ذکر خال خال ہی ملتا ہے۔ مصنفین کا مقصد اسلامی ممالک کے لئے ایسا لیبر کوڈ پیش کرنا ہے جو ماڈرن معیشتوں کی ضروریات اور بین الاقوامی لیبر معیارات پر پورا اترے۔

مصنفین کا نقطۂ آغاز طلوع اسلام اور اس وقت عرب میں پائے جانے والے پیشے ہیں۔ اس زمانے میں عرب زراعت، تجارت، دست کاری (جس میں بڑھئی اور لوہار کا کام شامل تھا ) اور جہاز رانی کے پیشے اپناتے تھے لیکن زیادہ تر زراعت سے وابستہ تھے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم اور مقبول پیشے تجارت اور زراعت تھے۔ اس وقت غلامی کا ادارہ بھی کافی مستحکم تھا۔ اس عہد کو دیکھتے ہوئے مالک اور غلام اور مالک اور نوکر کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث میں کافی حوالے ملتے ہیں۔ اس وقت کی معیشت کا جنگوں اور لڑائیوں سے تعلق تھا اور زیادہ تر بھرتیاں فوجی مقاصد کے لئے کی جاتی تھیں، اس لئے ہمیں کچھ ایسے ضابطے بھی نظر آتے ہیں جن کا تعلق صرف فوج سے ہے۔ اس کے ساتھ ایسی بہت سی آیات اور احادیث بھی ملتی ہیں جو آجر اور اجیر کے ماڈرن تعلقات پر بھی منطبق ہوتی ہیں۔

یہ کتاب دوسرے تحقیقی کاموں سے اس لئے مختلف ہے کہ یہ ایک غیر تقابلی مطالعہ ہے، اس میں اسلامی لیبر دفعات کا دنیا کے دیگر نظاموں سے مقابلہ کرنے اور اسلام کو بہترین ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بقول ایک محقق ’اس موضوع پر بیشتر لٹریچر ”مارکسزم کے خلاف ایک غیر علانیہ دلیل‘ ہے۔ ہمیشہ سے یہ کوشش ہوتی رہی ہے کہ اسلام کی اقتصادی تعلیمات کا سرمایہ داری اور سوشلسٹ نظاموں سے مقابلہ کیا جائے لیکن اس کتاب میں لیبر لاء کے اسلامی نظام کو جیسا کہ وہ ہے ، پیش کیا گیا ہے اور محنت کشوں کے حقوق کے حالیہ اور جدید ضابطوں کو اسلامیانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اس کتاب میں یہ دعویٰ بھی نہیں کیا گیا کہ اسلامی قانون سازی کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن پاک اور سنت میں کام کی جگہ پر پیش آنے والے ہر مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے اور اس کا حل پیش کیا گیا ہے۔ یہ لیبر کے ضابطے نہیں ہیں، یہ زندگی کے ضابطے ہیں۔ بہت سے امور کا ان مآخذ میں عمومی انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔

اسلامی تاریخ کے آغاز میں (اور آج بھی دنیا میں کچھ جگہوں پر ) رہبانیت اور صوفی ازم کی وجہ سے لوگوں نے رضاکارانہ طور پر کام کرنا چھوڑ دیا۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ کام سے گریزاں ہونے یا اسے نظر انداز کرنے کا رویہ جسمانی محنت کے بارے میں منفی تصور کی وجہ سے سامنے آیا۔ عرب ثقافت میں جسمانی کام کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ بے یات (1992) کے مطابق پیشے profession and occupation کے بارے میں عربی لفظ کا مفہوم تحقیر آمیز ہے (المنہا) ۔

بہرحال یہ کوئی آفاقی تصور نہیں تھا۔ صوفیوں کے محنت یا کام نہ کرنے پر خود کچھ صوفیائے کرام اور علماء نے تنقید کی تھی۔ محنت کر کے روزی کمانے کے بارے میں فقہائے کرام کی کتابیں موجود ہیں۔ انہوں نے احادیث کی روشنی میں ثابت کیا کہ ”اقتصادی سرگرمی خواہ مالیاتی ہو یا جسمانی محنت“ ، ہر فرد پر فرض ہے۔ الاصفہانی جیسے دانشوروں کے علاوہ اخوان الصفاء نے ہی نہیں ابن خلدون نے بھی لیبر یا مزدوری کے بارے میں مثبت رویے کا اظہار کیا ہے۔ کام یا محنت سے گریز کرنے کے صوفی رویے کو اس بناء پر بھی مسترد کیا جا سکتا ہے کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں کو رہبانیت اختیار کرنے کو نہیں کہا۔ قرآن پاک کی ایک آیت میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد رزق کی تلاش میں نکل جاؤ، اسلام لوگوں سے یہ توقع نہیں کرتا کہ وہ اپنا سارا وقت مسجد میں گزاریں۔

قرآن پاک اور سنت کے بہت سے احکامات میں اخلاقی ترغیب و تحریک کے ذریعے آجر اور اجیر  کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مصنفین نے ان اخلاقی ترغیبات کو قانونی طور پر نفاذ کے قابل ضابطوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اسے ایک قانونی دستاویز کی شکل دی ہے ”تاکہ حکومتیں اسے استعمال کر سکیں“ ۔ کووڈ 19 کے بعد سے شہریوں کی جانب سے سوشل سیکورٹی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کتاب میں سوشل سیکورٹی کے بارے میں ایک باب ہے جس میں مصنفین نے بتایا ہے کہ اسلام ریاست سے کہتا ہے کہ وہ مزدوروں کو سوشل سیکورٹی فراہم کرے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ مزدوروں کو پنشن اور دیگر فوائد مہیا کرے۔

مصنفین کا کہنا ہے ”کہ قرآن پاک اور سنت سے جو کچھ انہوں نے سمجھا ہے، وہ ان کی ذاتی تفہیم ہے اور کوئی اور اس کی کسی اور طرح بھی تفہیم کر سکتا ہے۔ اگر ان سے سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں خود ان پر عائد ہوتی ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *