مقدمہ گلگت بلتستان کا حل کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ پر دستیاب کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ 1842 سے قبل گلگت بلتستان میں بھی قدیم دور کے یونانی شہری ریاستوں ایتھنز اور سپارٹا کی طرح چھوٹی، چھوٹی آزاد خودمختار ریاستیں قائم تھیں، جنھوں نے صدیوں تک ہمسایہ طاقتور ملکوں کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم رکھے۔

جرمنی کے ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا انسٹیٹوٹ میں شعبہ ثقافتی اور سماجی بشریات کے سربراہ کارل جیٹمار اپنی کتاب ”بلور اینڈ دردستان“ کے صفحہ نمبر 5 میں لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی قدیم ریاست بلور (Bolor) دو حصوں پر مشتمل تھی، مشرقی آدھا حصہ گریٹ بلور جبکہ مغربی آدھا حصہ Little Bolor کہلاتا تھا، گریٹ بلور آٹھویں صدی میں چین کے شاہی دربار میں اپنے سفارت کاروں کو بھیج دیا کرتے تھے۔ ریاست بلور کو بیرونی ممالک کی جارحیت کا خطرہ موجود رہتا تھا، صفحہ نمبر 18 میں وہ لکھتے ہیں کہ ترکی کے مبلغین بلور بادشاہی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور انہوں نے بدھ مذہب قبول کیا، 6 یا 7 بعد مسیح کے دوران پہاڑی چٹانوں پر گلگت بلتستان کے بدھ حکمرانوں کے نام کندہ کیے گئے ہیں۔

ضلع غذر تحصیل پونیال موضع ہاتون گورنمنٹ سکول کے قریب ایک پہاڑی چٹان پر ایک قدیم نام درج ہے جس کے بارے میں کارل جیٹمار اپنے مقالے بعنوان ”پٹولاز ان کے گورنرز اور جانشین“ میں لکھتے ہیں کہ ”ہاتون شلالیھ، گلگت کے مخطوطے، اور ہوڈور کے شلالیھ سے پٹولا شاہی خاندان کا پتہ چلتا ہے جو بلور ریاست کے حکمران تھے اور اس خطے سے دریافت ہونے والے زیادہ تر دستاویزات میں اس شاہی خاندان کا نام پٹولا شاہی بتایا گیا ہے جسے پلوولا یا بلور شاہوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

چھٹی صدی عیسوی اور ساتویں صدی عیسوی میں ریاست بلور کے حکمران گریٹ بلور کے دارالحکومت سکردو میں رہائش پذیر تھے جبکہ تبت والے Little Bolor Stateکو Bru۔ za کے نام سے جانتے تھے، جس سے ریاست بروشال کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جس کے متعلق ذکر تبت کی قدیم کتابوں میں کیا گیا ہے بروشال کو بروشسکی زبان بولنے والے لوگوں کا وطن قرار دیا گیا ہے۔

According to Hoffman this country is already mentioned in the 7th century when the king Man slon man brstan married a princess of Bru-za.

ساتویں صدی عیسوی سے نویں صدی عیسوی کے درمیان گلگت ویلی بروشال کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھی۔

مارکو پولو بلور ریاست کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ جنگلی ملحدوں کا ملک ہے جو جانوروں کا کھال پہنتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے قدیم ریاستوں میں بلورستان Balurastan قابل ذکر ہے کیونکہ ایک ہزار سال تک بلور ریاست کا نام تاریخ میں موجود رہا ہے۔

بقول احسان محمود خان Medieval Era یعنی پانچویں ست پندرھویں صدی میں اس خطے میں خودمختار ریاستیں موجود تھیں، وہ اپنے ڈاکٹریٹ ڈگری کے مقالے بعنوان

The role of Geography In Human Security ,
A case study of Gilgit Baltistan کے صفحہ نمبر 83 میں لکھتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی عیسوی کے درمیان گلگت بلتستان کے اس خطے میں سترہ خودمختار ریاستیں موجود تھیں جن میں ریاست گلگت، ہنزہ نگر پونیال، یاسین، اشکومن، کوہ غذر، چلاس، داریل تانگیر، استور، سکردو، گھرمنگ، ٹولٹی، Tolti، شگر، روندو، keris، اور خپلو شامل تھیں، جن پر ساتویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی تک مختلف مقامی حکمرانوں نے حکومت کی، لیکن وقتاً فوقتاً اس خطے کو بیرونی جارحیت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

گلگت کی جدید تاریخ کے بارے میں اکثر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ گلگت بلتستان پر قبضہ کرنے کے لیے 1840 کے بعد لاہور کی سکھ Dynesty نے باقاعدہ فوج کشی شروع کی۔ جموں وکشمیر کی ریاست کو مہاراجہ گلاب سنگھ نے معاہدہ امرتسر 1846 کے تحت تاج برطانیہ سے 75 لاکھ نانک شاہی میں خریدا۔

مثال کے طور پر اس معاہدے کے ارٹیکل 3 میں یہ لکھا گیا ہے

Article III. In consideration of the transfer made to him and his heirs by the provisions of the fore¬ going Articles, Maharajah Golab Sing will pay to the British Government the sum of seventy-five lakhs of Rupees (Nanukshah^e) , fifty lakhs to be paid on ratification of this Treaty, and twenty-five lakhs on or before the first October of the current year, a.d. 1846.

لیکن اس معاہدے کے آرٹیکل 10 کے تحت مہاراجہ گلاب سنگھ نے تاج برطانیہ کی بالادستی کو بھی تسلیم کیا اور برٹش حکومت کو سالانہ خراج دینے کا پابند ہوا، جبکہ معاہدے کے آرٹیکل 9 کے تحت بیرونی جارحیت کی صورت میں اپنی ریاست کی سرحدوں کے تحفظ کے لئے تاج برطانیہ سے مدد کا وعدہ بھی لیا۔

سکھوں نے اسی دوران گلگت بلتستان کے مقامی حکمرانوں کے اندورنی جھگڑوں اور دشمنیوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ بقول احسان محمود خان راجا سکردو احمد شاہ کے بیٹے محمد شاہ نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کی اور سری نگر کے ڈوگرہ حکمرانوں سے اپنے باپ کے خلاف مدد طلب کی اور گلگت پر حملہ کرنے کی دعوت دی، ڈوگرہ نے دعوت قبول کر لی اور ڈوگرہ فوج کی کمان کرتے ہوئے وزیر زورآور سنگھ نے حملہ کیا اور سکردو پر قبضہ کر لیا اور راجہ سکردو احمد شاہ کی جگہ محمد شاہ کو سکردو کا راجا بنا کر تخت پر بیٹھا دیا اور احمد شاہ ڈوگروں کی قید میں 1845 میں مر گئے۔

جبکہ گلگت اور اس کے مضافات کا معاملہ کچھ اس طرح ہے:

سال 1842 کی بات ہے جب گلگت پر نگر کے حکمران سکندر شاہ کی حکومت تھی اسی دوران یاسین کے حکمران گوہر امان نے گلگت پر حملہ کیا اور گلگت کے حکمران سکندر شاہ کو قتل کیا۔

سکندر شاہ کے بھائی کریم خان نے لاہور دربار میں پناہ لی اور سکھوں سے مدد طلب کی۔

لاہور دربار نے گورنر آف کشمیر کو حکم دیا کہ اس کی مدد کرو۔ یاد رہے اسی دوران کشمیر کے گورنر کو لاہور کے دربار سے ہی تعینات کیا جاتا تھا۔

جنہوں نے ایک ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک طاقتور فوج گلگت پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کی جس کی قیادت کمانڈر نتھو شاہ کر رہا تھا۔

کرنل نتھو شاہ نے ایک طاقتور فوج کے ساتھ گلگت پر حملہ کیا ڈاکٹر امر سنگھ چوہان کے مطابق نتھو شاہ بسین کے مقام پر گوہر امان کی فوج کے ساتھ ٹکرایا مگر کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

اسی سال دوسرا ڈوگرہ کمانڈر Marhra Das گلگت میں داخل ہوا جس نے نتھو شاہ کی جگہ لے لی اور نتھو شاہ کو واپس بھیج دیا۔

لیکن گلگت بلتستان کے سب سے نامور حکمران راجہ گوہر امان نے ماترا داس کی فوج پر شروٹ اور گلا پور کے مقام پر حملہ کر کے اسے بدترین شکست سے دوچار کیا، ڈاکٹر امر سنگھ کا کہنا ہے کہ جنگ میں شکست کھا کر ڈوگرہ فوج کا کمانڈر ماترا داس سیدھا کشمیر بھاگ نکلا۔

راجہ گوہر امان کے پڑپوتے ضیاء الرحمان ایڈووکیٹ نے اس جنگ کے متعلق ذکر ہوتے بتایا کہ ڈوگرہ افواج کو گوہر امان کی افواج نے ہرپون داس بسین ینزل گلگت کے قریب بدترین شکست دی، راجہ گوہر امان اس جنگ کی خود کمان کر رہے تھے، اس معرکے کا مقامی کھوار زبان کے گانوں میں بھی ذکر ہے اور روایت کے مطابق اس جنگ میں ایک ہزار ڈوگروں فوجیوں کو ہلاک کیا گیا اور ان کا خون گھوڑوں کے ٹخنوں تک پہنچ گیا لیکن نتھو شاہ نے شکست تسلیم نہیں کی اور ہار نہ مانی اور دوبارہ گلگت پر حملہ کیا تو راجہ گوہر امان نے جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی، نتیجتاً کرنل نتھو شاہ نے کریم خان کو تخت گلگت پر بٹھا دیا مگر گوہر امان سے لاحق خطرے اور ممکنہ حملے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ متفقہ طور پر گلگت پر مشترکہ انتظامیہ قائم کرنے پر راضی ہوئے۔

کچھ سکھ فوجیوں کو ایک تھانیدار کے ماتحت گلگت میں تعینات کر دیا گیا۔ اس طرح گلگت براہ راست پنجاب کی سکھ امپائر کے زیر اثر آ گیا۔ 1845 میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اور سکھ امپائر آف پنجاب کے درمیان انیگلو سکھ جنگ ہوئی۔ جنگ میں سکھوں کو شکست ہوئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی اور شکست خوردہ سکھ امپائر کے درمیان 9 مارچ 1846 کو معاہدہ لاہور طے پایا۔ جس کے نتیجے میں سکھ اپنی سلطنت کے ایک وسیع حصے بشمول گلگت محروم ہو گئے۔

معاہدہ لاہور کے ایک ہفتے کے بعد برٹش انڈین حکومت نے گلاب سنگھ آف کشمیر سٹیٹ کے ساتھ 16 مارچ 1848 کو معاہدہ امرتسر طے کیا۔

اس معاہدے کی شقوں کے مطابق برٹش انڈیا نے کشمیر کے کچھ حصے جو انہوں نے پنجاب کے سکھ حکمرانوں سے حاصل کیے تھے ، انہیں کشمیر کے ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ کو پچہتر لاکھ نانک شاہی (سکھ کرنسی ) کے عوض میں فروخت کر دیا۔

تاج برطانیہ نے معاہدہ امرتسر کے تحت گلاب سنگھ جو علاقے فروخت کیے تھے ، ان علاقوں میں گلگت بلتستان کے کچھ وہ علاقے بھی شامل تھے جن پر پنجاب کے سکھوں نے 1842 کے بعد سے قبضہ کر لیا تھا۔

یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں پورے گلگت بلتستان پر ڈوگرہ افواج نے تاج برطانیہ کے ساتھ مل کر قبصہ کیا ، ریاست ہنزہ نگر کو تاج برطانیہ کے حکم پر بذریعہ جنگ قبصہ کر کے برٹش ہند کے زیر اثر لایا گیا۔

اس پر پنڈت پریم ناتھ نے کہا ویلی اور گلگت کے دو ملین (بیس لاکھ) لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بیچا گیا۔ بعض لکھاریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنت کشمیر کو پچہتر لاکھ نانک شاہی میں بیچا گیا۔ اس پر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جو خود بھی کشمیری النسل تھے ، انہوں نے کہا:
دہقان و کشت و جوئے خیاباں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

اس طرح 1846 میں کشمیر اور گلگت ڈوگروں کو فروخت ہونے کے بعد کرنل نتھو شاہ نے گلگت میں تعینات اپنے ایک سو سکھ سپاہیوں کے ساتھ مل کر سکھوں کی سرکار سے اپنی وفاداری اور ملازمت کو تبدیل کیا اور ڈوگروں کی حکومت میں شامل ہو گئے نتیجتاً گلگت اور استور میں تعینات سکھ فوج کی جگہ ڈوگرہ افواج اور جھنڈے نے لے لی اور پھر گلگت کی تاریخ کا ایک نیا سیاہ باب شروع ہوا۔

بقیہ قسط دوئم میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *